خاموشی میں چیختی ہوئی زندگی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مضمون (101)
زندگی بظاہر ایک سیدھی سڑک معلوم ہوتی ہے…مگر حقیقت میں یہ پیچ در پیچ راستوں، اندھی موڑوں اور خار دار پگڈنڈیوں کا ایسا جال ہے جہاں ہر قدم پر انسان خود سے بچھڑنے لگتا ہے۔یہ کہانی کسی ایک شخص کی نہیں…یہ ہر اُس دل کی کہانی ہے جو کبھی بے آواز ٹوٹا ہو، ہر اُس آنکھ کی داستان ہے جس نے تنہائی میں آنسوؤں کو چھپایا ہو، اور ہر اُس روح کی پکار ہے جو خاموشی میں اپنے رب کو آواز دیتی ہے۔ اگر آپ نے کبھی دل کے اندر ایک ایسا درد محسوس کیا ہے جسے لفظوں میں بیان نہ کیا جا سکے…تو یہ ناول دراصل آپ ہی کی کہانی ہے۔..... وہ شخص… جس کا نام اہم نہیں، کیونکہ اس کی کہانی ہر نام سے جڑی ہوئی ہے۔ وہ کبھی ہنستا تھا، اس کی باتوں میں زندگی کی خوشبو ہوتی تھی، اور لوگ اس کے قریب آ کر سکون محسوس کرتے تھے۔ پھر ایک لمحہ آیا—خاموش، بے آواز… مگر ایسا کہ اس کی ساری خوشیاں ایک جھٹکے میں حادثہ بن گئیں۔ یہ کوئی چیخ نہ تھی، نہ کوئی شور…
بلکہ ایک خاموش زلزلہ تھا، جس نے اس کے اندر کی دنیا ہلا دی۔ یہ کہانی اُن سب کی بھی ہے جنہوں نے کسی کو اپنا سب کچھ سمجھا،
اور بدلے میں خود کو کھو دیا۔ وہ دن بھی عجیب تھا… جب اس نے کسی کو اپنی زندگی میں جگہ دی۔ اسے لگا کہ اب زندگی مکمل ہو گئی ہے، کہ کوئی ایسا مل گیا ہے جو اس کی ادھوری سانسوں کو مکمل کر دے گا۔اس نے اسے جینا سکھایا، بات کرناسکھایا، ہر مشکل میں اس کا ہاتھ تھاما…مگر اسے کیا خبر تھی—کہ یہی ہاتھ ایک دن اسے دھکا دے گا۔زندگی کا سب سے کربناک سچ یہی تھا:
جسے وہ اپنا سمجھ کر اپنایا تھا، وہی ایک دن حادثہ بن گیا…جسے جینے کا سلیقہ دیا، وہی اس کی زندگی تنگ کرنے لگا…جسے بولنا سکھایا، وہی اسے “تو تو میں میں” میں گریانے لگا…
جسے سہارا دیا، وہی اس کا سہارا چھین کر سارا الزام اسی پر ڈال دیا ۔
الغرض. وقت گزرتا گیا،
اور حقیقت بے نقاب ہونے لگی۔ وہی شخص جسے اس نے سنبھالا تھا،
اب اسی کے سامنے کھڑا تھا—بدلے ہوئے لہجے، بدلے ہوئے رویے کے ساتھ۔ الزام، تلخ جملے، بے قدری…وہ سوچتا رہ گیا: “کیا یہی وہ شخص ہے جس کے لیے میں نے سب کچھ قربان کیا تھا؟”یہ سوال اس کے دل میں ایک زخم بن کر رہ گیا. سب سے بڑا صدمہ تب لگا جب اس کا سہارا بھی چھین لیا گیا۔ جس کے لیے وہ دیوار بنا کھڑا رہا،اسی نے اس کی دیوار گرا دی۔
اور پھر… ساری غلطیوں کا بوجھ بھی اسی پر ڈال دیا گیا۔اب وہ ایک ایسے مقام پر کھڑا تھا
جہاں نہ کوئی سننے والا تھا، نہ کوئی سمجھنے والا۔ہر طرف سے یہی محسوس ہوتا—جیسے دنیا اسے نوچنے کو تیار بیٹھی ہو۔ یہ وہ موڑ تھا
جہاں انسان خود سے بھی ہار جاتا ہے۔اس کے جذبات بکھر چکے تھے،
امیدیں ٹوٹ چکی تھیں،
اور دل… بس ایک زخمی ٹکڑا رہ گیا تھا۔ وہ ایک ایسے اندھیرے راستے پر تھا جہاں نہ کوئی روشنی تھی، نہ رہنمائی۔
وہ خود سے پوچھتا:“کیا قصور تھا میرا؟”مگر :جواب صرف خاموشی تھا۔اسے محسوس ہوتا کہ
زندگی کے کھیل واقعی نرالے ہیں—کب کون، کس روپ میں آ کر انسان کو زخمی کر دے، کچھ معلوم نہیں ہوتا۔
راتیں اس کی سب سے بڑی آزمائش بن گئیں جب دنیا سو جاتی،اس کا درد جاگ اٹھتا۔وہ چھت کو تکتا رہتا،اور ایک ہی سوال دل میں گونجتا:“کیا کبھی یہ درد ختم ہوگا؟”مگر ہر آنسو اسے مزید توڑ دیتا۔وہ خود سے بھی چھپنے لگا تھا…کیونکہ اب وہ اپنے آپ کو بھی برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔جب صبر جواب دینے لگا،
جب آنسو بھی تھک گئے…وہ اٹھا،اور سجدے میں گر گیا۔کوئی ترتیب نہ تھی،کوئی الفاظ کی خوبصورتی نہیں—
بس ایک ٹوٹے دل کی پکار:“اے اللہ…میں تھک گیا ہوں…میں ہار گیا ہوں…اب تُو ہی سہارا ہے…”اور اسی خاموش لمحے میں اس کے دل پر ایک ہلکا سا سکون اترنے لگا۔وقت کے ساتھ اس کے اندر کچھ بدلنے لگا۔اسے سمجھ آنے لگا کہ
یہ درد اسے ختم کرنے نہیں آیا،بلکہ جگانے آیا ہے۔کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو انسان کو دنیا سے نہیں،اللہ سے جوڑ دیتے ہیں۔اب بھی درد تھا…مگر اس درد میں ایک معنی پیدا ہو چکا تھا۔وہ آج بھی مکمل خوش نہیں…مگر اب وہ ٹوٹا ہوا بھی نہیں۔اس نے سیکھ لیا ہے کہ ہر سوال کا جواب نہیں ہوتا، اور ہر درد ختم نہیں ہوتا—کچھ درد انسان کو بدل دیتے ہیں۔
اب وہ راتوں میں جاگتا ہے… مگر آنسو کم، دعا زیادہ ہوتی ہے۔یہ کہانی ختم نہیں ہوئی…
کیونکہ یہ ہر اُس انسان کے ساتھ جاری ہے جو کسی انجان موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر آپ بھی ایسے ہی کسی موڑ پر ہیں…تو یاد رکھیں: آپ اکیلے نہیں ہیں۔آپ کا رب آپ کی خاموش چیخ بھی سنتا ہے۔.... شعر
ہم نے جسے چراغ سمجھ کر جلایا دل میں
وہی ہوا بن کے آیا اور بجھا کر چلا گیا
جس کو بچایا تھا ہم نے سدا ؛ ڈوبنے سے
وہی کنارے پہ لا کر ہمیں ڈبو کر چلا گیا
جسے سمجھا تھا سہارا، وہی دیوار گرا گیا
میں سنبھلتا ہی رہا اور وہ مجھے آزماتا گیا
ہم نے چاہا تھا جسے دل سے بڑھ کر اے نوری
وہی چپ چاپ ہمیں درد کا دریا دے گیا
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com