١٣/ شوال المکرم ١٩٤ ہجری کو جمعہ کے بابرکت دن میں” ماوراء النہر “ کے قریب واقع ”بخارا “ کی اس مردم خیز زمین پر، جس کو ابن سینا جیسے فلسفی اور دیگر اساطین ِ علم کے وطن ہونے کا شرف حاصل ہے ، ایک ایسے گلِ سرسبد نمودار ہوتا ہے، جس کی مہک صدیاں گزرجا نے کے بعد بھی آج تک باقی ہے ، اور ہزاروں علم ِ حدیث کے خوشہ چینوں کے مشامِ جاں کو معطر کر رہی ہے ، جس نے اپنی خدا داد قوتِ حافظہ ، بے پناہ استعداد و صلاحیت، فکرِ رسا، پختہ عزم و ارادہ ،اور اپنی استقامت و جواں مردی سے پوری دنیا کو حیران و ششدر کر دیا ، اور کائنات کی بہترین ہستی کے بکھرے اور نکھرے ہوئے ریحان و نسترن کی چمن بندی کی وہ لافانی خدمت انجام دی ، جس نے اس کو ” لسان صدق ٍ فی العالمین “ اور حیاتِ جاوداں بخش دی ۔ یہ گل سرسبد کوئی اور نہیں؛ بل کہ وہ ذات ہے جس کو پوری دنیا ”امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ “ کے نام سے جانتی ہے، جن کی عظمت پر قلم اٹھانا بھی ہم جیسوں کو زیب نہیں دیتا ۔
نام ونسب: 
          امام بخاری رحمہ اللہ کا نام” محمد“ کنیت ”ابو عبداللہ“ اور لقب ”امیر المومنین فی الحدیث“ ہے ، آپ کے والد محترم ”اسماعیل“ بہت بڑے متقی تھے، اکابرِ تابعین سے انہیں بھی سماعِ حدیث کا شرف حاصل ہے ، اسماعیل کے دادا ”مغیرہ ابن بردزبہ “نے والئ بخارا ”یمان جعفی “ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا، اسی وجہ سے امام بخاری کو بھی یمانی اورجعفی کہا جاتا ہے ، آپ کا نسب یہ ہے : ابوعبداللہ محمد بن اسماعیل ابن ابراہیم ابن مغیرہ ابن بردزبہ بخاری یمانی جعفی ۔
       فضلِ خداوندی اور مادرانہ دعا کا ثمر: 
         امام بخاری رحمہ اللہ کی زندگی جہاں ایک طرف انعاماتِ خداوندی کا مرکز و محور رہی، وہیں دوسری طرف آزمائشوں نے بھی آپ کے دامن کو جکڑ کر رکھا ، چناں چہ آپ بچپن ہی میں نابینا ہو گئے تھے ؛ لیکن والدۂ محترمہ کی آہِ سحرگاہی اور دعا و الحاح وزاری کے طفیل بینائی نصیب ہوئی، اور حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے خواب میں آ کر قبولیتِ دعا کی خوش خبری سنائی۔
صغرِ سنی کے کچھ جلوے: 
         امام بخاری رحمہ اللہ کو صغرِسنی ہی سے حصولِ علم کا ایسا ذوق و شوق نصیب ہوا تھا، جو بہت ہی کم لوگوں کو ملتا ہے ، مزید برآں خداوندِ ذوالجلال نے بلا کا حافظہ عطا فرمایا تھا ، جس کی وجہ سے بچپن ہی میں ”عبداللہ ابن مبارک “ اور ”محمد ابن سلام بے کندی “جیسے محدث کی کتابوں کو حفظ کر لیا تھا، اور علمِ حدیث پر اتنی گرفت مضبوط ہو چکی تھی، کہ بڑے سے بڑے محدثین کی مجلس درس میں جب شریک ہوتے تھے، تو خود محدثین حدیث بیان کرنے میں جھجک محسوس کرتے، اور ان کو یہ ڈر ستانے لگتا کہ کہیں کوئی حدیث غلط ہو جائے اور امام بخاری ٹوک دیں ۔ چناں چہ بخاری کے استاذ محمد ابن سلام کہتے ہیں” جب یہ بچہ درس حدیث میں آجاتا ہے، تو میں پریشان ہونے لگتا ہوں، اور مجھے گھبراہٹ کی بنا پر حدیث میں التباس ہونے لگتا ہے “ ۔ آپ نے اٹھارہ برس کی عمر ہی میں ” قضایا الصحابہ والتابعین “ اور ”تاریخ ِ کبیر“ جیسی عظیم کتاب لکھ دی، جس کے بارے میں علامہ خطیب بغدادی لکھتے ہیں کہ” اگر کوئی شخص چاہے تیس ہزار حدیثیں ہی کیوں نہ لکھ دے ؛ تاہم وہ بخاری کی تاریخ سے مستغنی نہیں ہو سکتا“ کہا جاتا ہے کہ آپ کو بچپن ہی میں ستر ہزار احادیث ان کے راویوں کے نام ، ان کی کنیت، ان کی تاریخ ِولادت اور ان کی تاریخِ وفات کے ساتھ یاد تھیں ۔
 حیرت انگیز قوتِ حافظہ : 
           امام بخاری رحمہ اللہ کا حافظہ غضب کا تھا، کسی چیز کو ایک مرتبہ پڑھ لیتے یا سن لیتے، تو پوری زندگی آپ کے ذہن و دماغ میں راسخ ہو جاتی، اور وہ نقش کالحجر کی طرح انمٹ ہو جاتی۔ اسی قوتِ یادداشت اور حافظے کی برکت تھی کہ اس وقت جب کہ علمِ حدیث مدون نہیں ہوا تھا، راویوں کے اسما اور ان کے احوال و اوصاف جمع نہیں کیے گئے تھے، فن اسماء الرجال وجود میں نہیں آیا تھا ، ایسے وقت میں تین لاکھ احادیث کو راویوں کے نام اور ان کے احوال و اوصاف کے ساتھ یاد کر لینا کسی کرامت سے کم ہرگز نہیں، اسی طرح آپ کی زندگی کے بے شمار واقعات ایسے ہیں، جو آپ کے عجیب و غریب حافظے کی پختہ دلیل ہیں اور پوری دنیا کو حیران و ششدر کر رہی ہیں ۔ چناں چہ مؤرخین نے اس واقعے کو اپنی کتاب میں اہمیت کے ساتھ جگہ دی ہے کہ جب امام بخاری رحمہ اللہ بغداد تشریف لائے، تو وہاں کے علما نے آپ کے علم کا امتحان لینے، اور آپ کے حافظے کو پرکھنے کے لیے دس لوگوں کو تیار کیا ، اور ان سب کو دس دس احادیث اس طرح یاد کروائی کہ ایک حدیث کی سند دوسری حدیث کے متن کے ساتھ خلط ملط کر دیا ، اور مجمع کے سامنے امام بخاری سے ان احادیث کے بارے میں استفسار کرنے کا مکلف بنایا ۔ جب امام بخاری حدیث بیان کرنے کے لیے آئے، تو یکے بعد دیگرے سب نےاپنی یاد کردہ احادیث کے بارے میں سوال کیا ، امام بخاری حدیث سنتے جاتے اور سب کے جواب میں ”لاأدری“ اور ” لاأعرفہ ھذا الحدیث “ فرماتے جاتے ، ماہرینِ حدیث نے آپ کی صلاحیت کو پہچان لیا؛ مگر عوام تذبذب کے شکار ہوگئے کہ کیسے محدث ہیں کہ حدیثوں کا علم نہیں ۔ اس کے بعد امام بخاری کھڑے ہوئے اور اس طرح جواب دیا کہ پہلے شخص کی دس غلط احادیث کو سناکر غلطی کی نشان دہی کی ، اور جو صحیح احادیث ہیں وہ ان کے سامنے بیان کیں ، اسی طرح بالترتیب پہلے ہر شخص کی بیان کردہ غلط احادیث بیان کرتے پھر ان کی تصحیح کرتے ، آپ کی اس ذہانت اور قوتِ حافظہ کو دیکھ کر سب کے سب دم بہ خود ہوگئے ۔ امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ” یہاں بخاری کی امامت تسلیم کرنی پڑتی ہے، تعجب اس پر ‌نہیں ‌کہ بخاری نے غلط احادیث کی تصحیح کی؛ اس لیے کہ وہ حافظِ حدیث تھے ہی ، تعجب تو اس کرشمے پر ہے کہ امام نے ایک دفعے میں ان کی بیان کردہ ترتیب کے مطابق وہ تمام مقلوب احادیث یاد کرلیں“ ۔ نیز امام بخاری رحمہ اللہ جب درسِ حدیث میں بیٹھتے ، تو دوسروں کی طرح حدیث لکھتے نہیں تھے ؛ بل کہ سن لینا ہی آپ کے حافظے کے لیے کافی تھا ۔ یہ تھی بلا کی قوت حافظہ اور اعلی درجے کی ذہانت!

✍️: محمد شاہد گڈاوی