باطنیہ فکر: ابنِ صباح سے عصرِ حاضر تک
بات کو شروع کرنے سے پہلے ہم مختصر طور پر ابن صباح کو جانیں گے، تاکہ موجودہ حسن بن صباح کے گروہ کو سمجھنا آسان ہو۔
حسن بن صباح، جو مہبط اور خدا برتر سے احکام پانے کا مدعی تھا، ایک ایسے خوفناک فرقے کا بانی تھا کہ جس کی خفیہ سازشوں اور جانستانیوں کا تصور بدن پر رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔ یہ ایک مشہور آدمی ہو کر گزرا ہے اور اس نے سلجوق سلطنت میں اپنا اثر و رسوخ جمایا۔
باطنی فرقے کی بنیاد رکھنے سے پہلے سلجوق سلطنت خلافتِ عباسیہ کا نعم البدل تھی۔ اس نے سلطنت میں سازشیں بنائیں، جس کے باعث اسے نکال دیا گیا۔ اس کے بعد وہ مصر چلا گیا۔ اگرچہ اس وقت اس کا نکالا جانا ذلت آمیز تھا، مگر حقیقت میں یہی واقعہ اس کی آئندہ کامیابیوں کا پیش خیمہ تھا۔
دربار سے نکلنے کے بعد وہ نظام الملک، سلطان ملک شاہ اور دولتِ سلجوقیہ کا دشمن بن گیا۔ اصفہان سے نکل کر جب اس نے سفر کیا تو اسے معلوم ہوا کہ ایک مقام پر اسماعیلی مذہب کا داعی الکبیر رہتا ہے، چنانچہ وہ اسماعیلی مذہب کا داعی بن گیا۔
کچھ عرصہ بعد مصر سے بھی اسے نکال دیا گیا، کیونکہ وہاں بھی یہ ایک سازش میں ملوث پایا گیا۔ غرض یہ کہ اس نے اپنی مکارانہ چالوں سے قلعہ الموت پر قبضہ کر لیا اور وہاں ایک “جنت” بنائی۔
اس کے نظام کی بنیادی ساخت تین طبقوں پر مشتمل تھی: داعی، فدائی اور رفیق۔ داعی اور فدائیوں کو بلی کا گوشت کھلایا جاتا، جبکہ رفیقوں کو شہد، بادام اور کلونجی سے ناشتہ کروایا جاتا، جس سے ان کے دماغ گرم ہوتے۔ پھر یہ اہلِ بیت پر ظلم کی داستانیں سنا کر انہیں ابھارتا رہتا۔
بعد ازاں وہ انہیں یہ کہتا کہ خارجیوں کے فرقہ ازارقہ نے بنو امیہ کے قتال میں اپنی جانیں فدا کیں، تو کوئی وجہ نہیں کہ تم، برسرِ حق ہو کر، جان دینے میں بخل کرو اور اپنے امام کی مدد نہ کرو۔
داعی باطنی فرقے کی ہر جگہ تبلیغ کرتے، جبکہ رفیق حسن بن صباح پر جانبازی کے لیے ہر وقت کمر بستہ رہتے۔
بہرحال، اس نے نظام الملک کو شہید کیا اور شاہِ موصل کو بھی قتل کروایا، حالانکہ وہ نہایت نیک، عابد، زاہد اور متقی بادشاہ تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کے نامور بادشاہوں، بزرگ علماء، صوفیہ، حتیٰ کہ خلیفہ بغداد، خلیفہ مسترشد باللہ عباسی، کے قتل سے بھی دریغ نہیں کیا۔
حسن بن صباح کے بعد اس کے تقریباً 21 خلفاء ہوئے، جنہوں نے باطنی فرقے کی ترویج کے لیے مختلف قسم کی جدوجہد کی، اگرچہ اس کی سازشیں، چالاکیاں اور دھوکہ دہی سب سے بڑھ کر تھیں۔
انہوں نے عیسائیوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کا قتلِ عام کیا۔ ان کی تلوار کبھی کسی کافر پر نہیں چلی، حتیٰ کہ کافروں نے بھی انہیں سخت دھوکہ دیا۔ اس کے بعد ان کے فدائیوں نے ان کے سپہ سالاروں کا کام تمام کرنا شروع کیا۔
موجودہ زمانے کی جنگیں بھی اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ بعض گروہ مسلمانوں پر ظلم و تشدد کرتے ہیں اور انتہائی سفاکانہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ بالآخر وہی لوگ، جن کے دستِ بازو بن کر انہوں نے مسلمانوں کا قتل عام کیا، آج انہی پر حملہ آور ہیں۔
مگر چند ناعاقبت اندیش لوگ، انجام سے بے پرواہ ہو کر، ان مظلوموں کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہیں اور بھائی چارے کا علم بلند کرتے ہیں۔
کیا باطنی فرقے اور اس موجودہ گروہ میں کوئی فرق ہے، جس نے عالمِ اسلام کے نامور علمائے کرام پر قاتلانہ حملے کیے اور بربریت کا مظاہرہ کیا؟
جیسا کہ ماضی میں مسلمانوں نے حسن بن صباح کے پیروکاروں کا صفایا کیا تھا اور باطنیوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا تھا، اسی طرح ان شاء اللہ ایک وقت آئے گا کہ امتِ مسلمہ کا خون بہانے والوں سے انتقام لیا جائے گا۔
لیکن یہ انتقام اس صورت میں نہیں ہوگا کہ ان کی طرح بچوں کا قتل عام کیا جائے یا خواتین کی عصمت دری کی جائے، بلکہ عین شرعی اصولوں کے مطابق، صحابہ کرام کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے، احد و خندق کی یادیں دہرائی جائیں گی۔
انشاء اللہ 
…..................……..................
بقلم
………………………………………………طوفان احمری