چاۓ کا تذکرہ
چائے کا تذکرہ بڑا پر لطف ہے، چاۓ کے تذکرہ میں ایک مٹھاس ہے، چاۓ کا ذکر لطیف ذوق کی نشانی ہے، چاۓ میں چاہت ودیعت کی گئی ہے، چاۓ میں الفت ومحبت کا عنصر ہے، چاۓ دو تختیوں کے مابین میخ کی حیثیت رکھتی ہے، چائے سے فرقتیں دور ہوتی ہیں، چاۓ مشروبِ محبت ہے، چاۓ پینے سے چاہ ہوتی ہے, آنے جانے کی راہ ہوتی ہے، چاۓ مجلس کی زینت ہے، چاۓ محفل کی رونق ہے، چاۓ ابحاثِ گفتگو کا خلاصہ ہے، چاۓ علم دوستی کا باعث ہے، چاۓ رنجشوں کے خاتمہ کا سبب ہے، چاۓ منتشر ذہن کو پرسکون کرنے کا آلہ ہے، چاۓ پریشان طبیعت کا حل ہے، چاۓ تھکے جسم کی قوت ہے، چاۓ میں محبوب کا تصور ہے، چاۓ میں معشوق کی کہانی ہے، چاۓ میں پرانی یادیں ہیں، چاۓ مستقبل کے خاکوں کا منبع ہے، چاۓ کے ڈھابوں میں امریکہ واسرائیل کی قبریں ہیں، چاۓ کی نشست گاہوں میں ٹرمپ ویاہو کی تباہی کی داستانیں ہیں، چاۓ کے مراکز میں خلافت برآری جیسی خوب صورت تصویریں ہیں، مگر یہ بھی سچ ہے کہ چاۓ کی چائیت شیرینی سے ہے، بغیر چینی کے چاۓ محض دودھ اور پانی کا بے وقعت ملاپ ہے، عمار بھائی کے وہاں جانا ہوا، تین بار چاۓ پینے کا لطف ملا، چاۓ پی کر محسوس ہوا کہ واقعی چاۓ ایسی ہونی چاۓ، سچی بات یہ ہے کہ دیوبند میں چاۓ کے ڈھابوں کی کثرت ہے، سہارن پور میں بھی ایک تعداد میں چاۓ خانے موجود ہیں، مگر ایسی چاۓ خال خال ہی کسی کے پاس نصیب ہوتی ہے، ابھی میں لکھتے وقت سہارن پور کے ارادہ سے ٹرین میں سوار ہوں، عمیر بھائی ساتھ ہیں، انہوں نے ٹرین میں زبردستی چاۓ خرید کر ایک کپ مجھے بھی تھما دیا، بلا مبالغہ چاۓ میں پانی کے ذائقہ کے علاوہ اور کسی چیز کی لذت نہیں تھی، خیر چاۓ عمار بھائی کے وہاں, واقعی لائقِ تعریف اور قابلِ تحسین تھی، میں جب رخصت ہونے لگا تو عمار بھائی کہنے لگے کہ چاۓ تیار ہو رہی ہے، میں نے بلا تکلف کہ دیا کہ پھر تو چاۓ کے بغیر نہیں جایا جا سکتا، عمار بھائی کہنے لگے کہ مگر یہاں کی چاۓ آدھے گھنٹے میں تیار ہوتی ہے، میں نے کہا کوئی بات نہیں، چاۓ کی خاطر آدھہ گھنٹہ اور سہی، یہ بات مبالغہ آمیز نہیں تھی، بل کہ غالب یہ ہے کہ نصف گھنٹہ سے بھی زائد وقت لگا ہو، خیر چاۓ نوشی کے بعد میں عمار
بھائی کے پاس سے رخصت ہو گیا۔

راقم الحروف: عبد اللہ یوسف
یکم ذی قعدہ ١٤٤٧ھ بہ روز یک شنبہ