🖋️بنت ابوالخیر اعظمیؔ
انسانی زندگی کا حسن اور اس کی حقیقی معنویت دراصل قدر شناسی میں مضمر ہے۔ قدر وہ اعلیٰ صفت ہے جو انسان کو اخلاقی بلندی عطا کرتی ہے اور اسے شرافت، محبت اور انسانیت کے اعلیٰ مدارج تک پہنچاتی ہے۔ جب انسان اپنے اردگرد موجود نعمتوں، رشتوں اور انسانوں کی قدر کرنا سیکھ لیتا ہے تو اس کی زندگی میں سکون، محبت اور باہمی احترام کی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ لیکن افسوس کہ اکثر انسان اس حقیقت کو اس وقت سمجھتا ہے جب وہ ان قیمتی چیزوں سے محروم ہو چکا ہوتا ہے۔
قدر دراصل شعورِ قلب اور بیداریِ ضمیر کا نام ہے۔ یہ وہ احساس ہے جو انسان کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ دوسروں کی محبت، خلوص اور قربانی کو سمجھ سکے اور اس کا اعتراف کرے۔ جو شخص قدر کرنا جانتا ہے وہ دراصل انسانیت کے اعلیٰ اخلاقی معیار پر فائز ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص بے قدری کا مرتکب ہوتا ہے وہ نہ صرف دوسروں کے دلوں کو مجروح کرتا ہے بلکہ خود بھی اخلاقی پستی کا شکار ہو جاتا ہے۔
زندگی میں ہمیں بے شمار نعمتیں عطا ہوتی ہیں: والدین کی شفقت، دوستوں کی رفاقت، اساتذہ کی رہنمائی، اور مخلص انسانوں کی محبت۔ یہ سب وہ قیمتی تحفے ہیں جن کی قدر کرنا ہر صاحبِ شعور انسان کا فرض ہے۔ والدین وہ ہستیاں ہیں جن کی محبت بے لوث اور بے مثال ہوتی ہے۔ ان کی قربانیاں اور دعائیں انسان کی زندگی کو کامیابی اور برکت سے ہمکنار کرتی ہیں۔ اسی طرح اساتذہ کی رہنمائی اور محنت انسان کے فکری افق کو روشن کرتی ہے۔ اگر انسان ان عظیم ہستیوں کی قدر نہ کرے تو یہ اس کی سب سے بڑی اخلاقی کوتاہی شمار ہوتی ہے۔
قدر شناسی صرف انسانوں تک محدود نہیں بلکہ زندگی کی ہر نعمت پر محیط ہے۔ صحت، وقت، علم اور امن جیسی نعمتیں ایسی بیش بہا دولت ہیں جن کی قدر کرنا ضروری ہے۔ وقت ایک ایسا خزانہ ہے جو ایک بار گزر جائے تو واپس نہیں آتا۔ اسی طرح صحت بھی ایک عظیم نعمت ہے جس کی اہمیت اکثر لوگ بیماری کے وقت سمجھتے ہیں۔ لہٰذا ایک دانشمند انسان وہی ہے جو ان نعمتوں کی قدر بروقت کرے اور ان سے بھرپور فائدہ اٹھائے۔
بدقسمتی سے موجودہ دور میں مادیت اور خود غرضی کے بڑھتے ہوئے رجحانات نے قدر شناسی کے جذبے کو کمزور کر دیا ہے۔ لوگ مفادات کی بنیاد پر تعلقات قائم کرتے ہیں اور جب مفاد ختم ہو جائے تو رشتوں کی اہمیت بھی ماند پڑ جاتی ہے۔ یہی رویہ معاشرتی بے حسی اور اخلاقی زوال کا باعث بنتا ہے۔ اگر معاشرے میں قدر شناسی کا جذبہ فروغ پائے تو محبت، اعتماد اور اخوت کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔
درحقیقت قدر کرنے والا انسان دوسروں کے دلوں میں احترام اور محبت کی جگہ بنا لیتا ہے۔ اس کی شخصیت میں کشش اور وقار پیدا ہو جاتا ہے کیونکہ وہ دوسروں کے احساسات کا احترام کرتا ہے۔ ایسے افراد معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنتے ہیں اور لوگوں کے لیے مثال بن جاتے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ قدر شناسی انسانی عظمت کی بنیاد ہے۔ جو شخص قدر کرنا سیکھ لیتا ہے وہ زندگی کے حقیقی حسن سے آشنا ہو جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے والدین، اساتذہ، دوستوں اور ہر اس نعمت کی قدر کریں جو ہمیں میسر ہے۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ قدر ہمیشہ اس وقت سمجھ آتی ہے جب چیزیں ہاتھ سے نکل جاتی ہیں۔ لہٰذا دانشمندی اسی میں ہے کہ ہم وقت رہتے ہوئے قدر کرنا سیکھیں اور اپنے اخلاق اور کردار کو اس اعلیٰ صفت سے مزین کریں۔