عربی زبان میں عورت کا لفظ پردہ اور حیاء دار چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے گویا اسلامی تعلیمات میں عورت حیاء کہ پتلی گھر کی زینت اور محترم شخصیت ہے ، پھر کیسے عورتوں کا ضمیر گوارا کر سکتا ہے کہ وہ بے پردہ گھر سے باہر نکلے ، اچھے اخلاق اور اچھی کردار والی بیٹی وہ ہے جس کی وجہ سے والد کی آنکھ میں آنسو نہ ائے۔
میں نے غور کیا ہے اپنے سماج کی عورتوں کے بارے میں مکمل طور پر عیاں ہو گیا کہ دور جاہلیت میں عورتیں جس ناز و ادا سے باہر نکلتی تھیں ٹھیک اسی طرح حالات حاضرہ میں بھی نکلتی ہیں آج کل کی عورتیں جب باہر نکلتی ہیں تو چال بھی قصدا ایسی اختیار کرتی ہیں کہ وہ قدم زمین پر نہیں بلکہ لوگوں کے دلوں پر پڑتا ہے اور یہ تماشہ ہر جگہ دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ہمارا دین کہتا ہے کہ ! اے عورتوں تمہارا اصلی مقام تمہارا گھر ہے تمہارا آشیانہ ہے ، تم اپنے گھروں میں ٹکی رہو یعنی گھروں کو چلاؤ گھر کا نظم نسق چلاؤ بچوں اور خاوند کی خدمت میں لگی رہو تم چراغ خانہ بنو، شمع محفل نہ بنو۔
عورت اسلام کی وہ آب حیات ہے جو صرف ایک گھروں کو نہیں بلکہ دو گھروں کو روشن کرتی ہے یہی عورتیں جب دوسروں کے گھر آتی ہیں تو اپنی قسمت ساتھ لاتی ہیں نہ کہ اپنے میکے میں چھوڑ آتی ہیں بلکہ وہ اپنے ساتھ اپنی قسمت جگاتی ہیں ، بہت دفعہ قسمت کروٹ لیتی ہے ، بہت دفعہ نصیب سے اپنے وہ سب کچھ نہیں پاتے جس کی ہم خواہش کرتے ہیں تو خاموش رہیں ، اپنے نصیب سے گلہ نہ کریں ، اپنے رب سے دعائیں کریں میرا رب تو وہ ہے جو سمندر میں بھی گھوڑے دوڑا سکتا ہے ، لوگ طرح طرح سے تمہارے کردار کو داغدار کرنے کی کوشش کریں گے تو تم پتھر دل انسانوں کی باتوں میں نہ آنا بلکہ تم اپنے اخلاق اور اپنے کردار کو اس بلند مقام پر فائز کرنا کہ لوگ پکار اٹھیں کہ
یہ کس چمن کی کلی کھلی
یہ کس گلستاں کا پھول مہکا۔
انمول ✍️