چہرۂ انسان یا کھیل تماشہ؟ — سوشل میڈیا کا خطرناک رجحان؛ 
         بسم اللہ الرحمن الرحیم 
                مضمون (100)
آج کا دور سوشل میڈیا کا دور ہے، جہاں لمحوں میں خیالات، تصاویر اور ویڈیوز دنیا بھر میں پھیل جاتی ہیں۔ یہ ایک طاقتور ذریعہ ہے جسے خیر کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، مگر افسوس کہ اسی پلیٹ فارم پر بعض ایسے رجحانات بھی فروغ پا رہے ہیں جو انسان کی بنیادی عزت و حرمت کے سراسر خلاف ہیں۔ خصوصاً وہ مناظر جن میں کسی بھی انسان کی شکل و صورت کو بگاڑ کر، اسے کتے، بندر یا دیگر معیوب جانوروں سے مشابہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے—یہ محض مزاح نہیں بلکہ انسانیت کی تذلیل ہے۔ یہاں بات کسی ایک فرد کی نہیں، بلکہ مطلق انسان کی حرمت کی ہے، جسے شوق سے پامال کیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے بے مثال عزت سے نوازا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ"
ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی(سورۃ الإسراء 70) یہ عزت کسی خاص انسان تک محدود نہیں بلکہ پوری نوعِ انسانی کے لیے ہے۔ مزید فرمایا:
"لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ"(ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا)
یہ اعلان اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انسان کی شکل و صورت خود ایک اعزاز ہے۔ لہٰذا اس شکل کو بگاڑنا، مسخ کرنا یا اسے حیوانی صورتوں میں ڈھال کر پیش کرنا، درحقیقت اللہ کی تخلیق کی تحقیر ہے۔
نبی کریم ﷺ نے انسان کی عزت و حرمت کو نہایت اہمیت دی اور ہر اس عمل سے منع فرمایا جو اس کی تذلیل کا سبب بنے۔ ایک روایت کے مفہوم کے مطابق، آپ ﷺ نے چہرے پر ضرب لگانے اور اسے بگاڑنے سے منع فرمایا، جیسے " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَتَجَنَّبِ الْوَجْهَ"(صحيفه همام بن منبه/متفرق/حدیث: 13) 
کیونکہ چہرہ انسان کی شناخت اور عزت کا مرکز ہے۔اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا: "الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں"(صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 10) 
(اور اس کا دائرہ انسانی اخلاقیات کے تحت تمام انسانوں تک پھیلتا ہے)
مزید برآں، مرد و عورت کی فطری شناخت بدلنے پر لعنت کا ذکر بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام انسان کی اصل ساخت اور پہچان کے تحفظ کو ضروری قرار دیتا ہے۔
آج مختلف ایپس اور فلٹرز کے ذریعے کسی بھی انسان کے چہرے کو جانوروں کی شکل میں ڈھال دینا، یا اسے عجیب و غریب صورتوں میں پیش کرنا ایک “ٹرینڈ” بن چکا ہے۔ لوگ اسے ہنسی مذاق سمجھ کر اپناتے ہیں، لیکن درحقیقت یہ ایک فکری گراوٹ کا اظہار ہے۔
یہ عمل: انسان کی اجتماعی عزت کو مجروح کرتا ہے
معاشرے میں تمسخر اور بے حسی کو فروغ دیتا ہے اور رفتہ رفتہ گناہ کو معمول بنا دیتا ہے
قرآن ہمیں تنبیہ کرتا ہے:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ..."
اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ ہی عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں.(سورۃ الحجرات، آیت نمبر 11) یہ حکم عمومی ہے—کسی خاص فرد کے ساتھ نہیں بلکہ ہر انسان کے ساتھ عزت کا معاملہ کرنے کا درس دیتا ہے۔
بعض لوگ خود تو ایسے ویڈیوز نہیں بناتے، مگر انہیں دیکھتے، پسند کرتے اور دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل بھی درست نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ"
(گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو)
لہٰذا کسی بھی ایسی چیز کو پھیلانا جو انسان کی تذلیل کا سبب بنے، اس میں شریک ہونا ہے۔
یہ سوال نہایت اہم ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ اگر ہماری تفریح کسی کی شکل بگاڑنے، اسے جانوروں کے مشابہے بنانے اور اس پر ہنسنے میں ہے، تو ہمیں اپنی انسانیت پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ اسلام ہمیں وقار، احترام اور حسنِ اخلاق کا درس دیتا ہے، نہ کہ تضحیک اور تمسخر کا۔
ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ 
ایسے مواد کو یکسر مسترد کریں نہ خود بنائیں، نہ شیئر کریں
دوسروں کو بھی شعور دیں اور اپنی آنکھ، زبان اور ہاتھ کو اس گناہ سے محفوظ رکھیں یہی ایک باوقار اور ذمہ دار مسلمان کا طرزِ عمل ہے۔
انسان کی عزت اللہ کی عطا ہے، اور اس کا احترام ہر حال میں لازم ہے۔ کسی بھی انسان کی شکل کو مسخ کر کے، اسے جانوروں کی صورت میں پیش کرنا محض ایک مذاق نہیں بلکہ انسانیت کی توہین ہے۔ آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم اس فتنہ کو پہچانیں، اس سے بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔ کیونکہ جب انسان اپنی ہی نوع کی تذلیل کو معمول بنا لیتا ہے، تو وہ درحقیقت اپنی عزت کا جنازہ خود نکال رہا ہوتا ہے۔ یاد رکھیں:
انسان کا وقار محفوظ رکھنا ہی اصل انسانیت ہے، اور یہی دینِ اسلام کی حقیقی تعلیم ہے۔
                        .. شعر... 
مت کر تمسخر، شکلِ بشر رب کی عطا ہے
یہ چہرۂ انسان بڑی قدر و حیا ہے
بندر کبھی، کتے کی صورت میں جو ڈھالا
انسان نے خود اپنی ہی عظمت کو گنوایا.
           بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com