حج—بیت اللہ تک یا اللہ تک؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مضمون (99)
حج اسلام کا پانچواں رکن اور ہر اُس مسلمان مرد و عورت پر فرض عبادت ہے جو صاحبِ استطاعت ہو۔ مگر یہ محض ایک سفر نہیں، بلکہ دل، مال اور اعمال کی سچائی کا جامع امتحان ہے—ایک ایسا لمحۂ احتساب جہاں بندہ اپنے رب کے حضور کھڑا ہو کر اپنی پوری زندگی کا جائزہ پیش کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:“وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا” (آل عمران: 97)
اور مزید ارشاد ہے:
“الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ” (البقرہ: 197)
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ حج صرف جسمانی حاضری نہیں بلکہ ظاہری و باطنی پاکیزگی کا نام ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “مَن حَجَّ لِلّٰهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمٍ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ” (صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1521]
یعنی جو اللہ کے لیے خالص حج کرے، وہ گناہوں سے پاک ہو کر لوٹتا ہے۔ یہ روح پرور سفر 8 سے 12 ذوالحجہ تک مکہ مکرمہ اور
مقدس مقامات—منیٰ، عرفات اور مزدلفہ—میں مخصوص مناسک کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے۔ یہ اطاعتِ الٰہی، عشقِ ربانی، مجاہدانہ عزم اور اتحادِ امت کا بے مثال مظہر ہے، جس کی بنیاد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی لازوال قربانیوں پر قائم ہے۔مگر اسی مقدس فضا میں ایک سوال بار بار دل کو جھنجھوڑتا ہے:
کیا ہمارا حج واقعی قبول بھی ہو رہا ہے؟
اس کا جواب باہر کہیں نہیں، ہمارے اپنے اندر پوشیدہ ہے۔ ہر مرد اور ہر عورت کو خود سے پوچھنا ہوگا: میں اس سفر پر کس نیت سے جا رہا/رہی ہوں؟ میرا مال کہاں سے آیا ہے؟ کیا یہ سفر حلال کمائی سے ہے یا کسی کے حق پر ڈاکہ ڈال کر؟ کیا میرا احرام پاکیزہ رزق سے خریدا گیا ہے یا کسی مظلوم کی آہوں کی قیمت پر؟
یاد رکھیے! حقوق العباد کی پامالی کے ساتھ کیا گیا حج صرف ایک ظاہری عمل رہ جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے مفلس کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ شخص قیامت کے دن نیکیاں لے کر آئے گا مگر دوسروں کے حقوق پامال کرنے کی وجہ سے سب کچھ کھو دے گا (سنن ترمذي/كتاب صفة القيامةوالرقائق....حدیث: 2418) 
سوچئے!جب ہم بندوں کے حقوق ادا کیے بغیر شیطان کو کنکریاں مارتے ہیں، تو کیا ہم واقعی شیطان کو رد کر رہے ہوتے ہیں یا صرف ایک رسم ادا کر رہے ہوتے ہیں؟ “آپ شیطان کو کنکریاں مارنے نکلے ہیں، مگر اپنے اندر کے شیطان کو ساتھ لے کر!” اور اگر حج کے بعد بھی ہماری زندگی میں کوئی تبدیلی نہ آئے، تو یہ لمحۂ فکر ہے: “اگر تمہارا حج تمہیں بدل نہ سکا، تو تم نے کعبہ کا طواف کیا—مگر اپنے نفس کے گرد ہی گھومتے رہے!” قرآن ہمیں اصل حقیقت بتاتا ہے: “لَن يَنَالَ اللّٰهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ” (الحج: 37) یعنی اللہ کے نزدیک ظاہری اعمال نہیں بلکہ دل کا تقویٰ معتبر ہے۔
لہٰذا حج سے پہلے ہر مرد اور عورت کو چاہیے کہ:
اپنے مال کا جائزہ لے—حلال ہے یا نہیں حقوق العباد ادا کرے جن دلوں کو دکھایا ہے، ان سے معافی مانگے اپنے نفس کی اصلاح کرے اور عاجزی کے ساتھ اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعا کرے: “اے اللہ! مجھے حقیقی استطاعت عطا فرما، حلال رزق دے، اور مجھے حجِ مبرور نصیب فرما۔”سنو! حج کا اصل مقصد “حاجی” کہلانا نہیں بلکہ “انسان” بن جانا ہے۔ یہ سفر مکہ تک پہنچنے کا نام نہیں بلکہ اللہ تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ اگر ہم نے اپنے دل، کردار اور معاملات کو نہ بدلا، تو اندیشہ ہے کہ ہم کعبہ سے لوٹ تو آئیں گے مگر اللہ کے قریب نہ پہنچ سکیں گے۔ شعر.... 
لبیک کی صدا میں اگر دل نہ جاگ اٹھے
تو طوافِ کعبہ بھی فقط اک سفر ہی ہے
بدلا نہ خود کو حج سے تو اے غافلِ جہاں
“تو لوٹ آیا ہے، مگر دل جہاں تھا وہیں ہے”
یاد رکھیں: حج وہ نہیں جو ہمیں بیت اللہ تک لے جائے، بلکہ حج وہ ہے جو ہمیں گناہوں سے نکال کر تقویٰ اور اخلاص کی زندگی عطا کرے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حجِ مبرور نصیب فرمائے، ہمارے ظاہر و باطن کو پاک کرے، اور ہمیں وہ بندہ و بندی بنا دے جو اس کے نزدیک مقبول ہوں۔ آمین۔یا رب العالمین.
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com