*"الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ" صرف ایک آیت نہیں، ایک مکمل نظامِ حیات* 

قرآنِ مجید کی بعض آیات ایسی ہیں جو محض ایک حکم نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ زندگی کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ سورۂ نساء کی آیت
 “الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ…”
 بھی انہی میں سے ایک ہے، جسے اگر اس کے پورے سیاق و سباق، معارف القرآن کی گہرائی، اور سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں سمجھ لیا جائے تو نہ صرف خاندانی نظام کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے بلکہ جدید دور کی بہت سی غلط فہمیاں بھی خود بخود ختم ہو جاتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
> الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا
(النساء: 34)
ترجمہ:
مرد عورتوں پر نگہبان اور ذمہ دار ہیں، اس وجہ سے کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر (بعض پہلوؤں میں) فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ پس نیک عورتیں فرمانبردار ہوتی ہیں اور مرد کی غیر موجودگی میں (بھی) ان چیزوں کی حفاظت کرتی ہیں جن کی حفاظت اللہ نے فرمائی ہے۔ اور وہ عورتیں جن کی نافرمانی (نشوز) کا تمہیں اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ، اور (اگر نہ مانیں تو) ان سے بستروں میں علیحدگی اختیار کرو، اور (اگر پھر بھی اصلاح نہ ہو تو) انہیں ہلکی تادیب کرو۔ پھر اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو ان پر (زیادتی کا) کوئی راستہ تلاش نہ کرو۔ بے شک اللہ بہت بلند، بہت بڑا ہے۔
یہ آیت اپنے اندر ایک مکمل خاندانی آئین رکھتی ہے جس میں قیادت، ذمہ داری، اطاعت، اختلاف، اصلاح اور عدل سب کچھ نہایت حکمت کے ساتھ سمو دیا گیا ہے۔
سب سے پہلے “قَوَّامُونَ” کے لفظ کو سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ یہی پوری آیت کی بنیاد ہے۔ معارف القرآن میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ قوام وہ شخص ہوتا ہے جو کسی نظام کو قائم رکھنے والا، اس کی نگرانی کرنے والا اور اس کی ذمہ داری اٹھانے والا ہو۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مرد کو عورت پر مطلق حاکم بنا دیا گیا ہے، بلکہ اس کو ایک ذمہ دار نگران مقرر کیا گیا ہے۔ جس طرح ایک سربراہ اپنے ادارے کا ذمہ دار ہوتا ہے، اسی طرح مرد گھر کے نظام کا ذمہ دار ہے۔ اس ذمہ داری کے ساتھ اس پر جواب دہی بھی عائد ہوتی ہے، اور یہی اسلام کا توازن ہے کہ اختیار کے ساتھ احتساب بھی رکھا گیا۔

آیت میں مرد کی اس قوامیت کی دو بنیادی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ پہلی یہ کہ اللہ تعالیٰ نے بعض معاملات میں مرد کو بعض پر فضیلت دی ہے، جس سے مراد فطری اور عملی صلاحیتوں کا فرق ہے، نہ کہ مطلق برتری۔ دوسری وجہ یہ بیان کی گئی کہ مرد اپنی کمائی سے عورت پر خرچ کرتا ہے۔ معارف القرآن کے مطابق یہی وہ اصل بنیاد ہے جس پر قوامیت قائم ہے، یعنی جو شخص معاشی بوجھ اٹھاتا ہے، وہی نظم کا ذمہ دار بھی ہوتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ کوئی اعزاز نہیں بلکہ ایک بھاری ذمہ داری ہے۔

پھر آیت نیک عورتوں کی صفات بیان کرتی ہے:
> فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ

معارف القرآن کے مطابق “قانتات” سے مراد اللہ کی اطاعت کرنے والی اور شوہر کے جائز حقوق کا خیال رکھنے والی عورتیں ہیں۔ “حافظات للغیب” کا مطلب یہ ہے کہ شوہر کی غیر موجودگی میں اس کے مال، عزت اور گھر کی حفاظت کرتی ہیں۔ یہ دراصل اعتماد، وفاداری اور باہمی احترام کی بنیاد ہے، جس پر ایک مضبوط خاندان قائم ہوتا ہے۔

اب آیت کے اس حصے کی طرف آتے ہیں جسے اکثر غلط سمجھا جاتا ہے، اور جس کی صحیح تفسیر کے بغیر پوری آیت کا مفہوم ادھورا رہتا ہے، یعنی “نشوز” کا مسئلہ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

> وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ…
معارف القرآن میں “نشوز” کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ اس سے مراد بیوی کا ایسا رویہ ہے جس میں وہ ازدواجی ذمہ داریوں سے دانستہ طور پر روگردانی کرے، شوہر کے جائز حقوق کو نظر انداز کرے، یا ایسا طرزِ عمل اختیار کرے جس سے خاندانی نظام بکھرنے لگے۔ یہ کوئی معمولی اختلاف یا وقتی ناراضگی نہیں، بلکہ ایک سنجیدہ بگاڑ ہے جو اگر بروقت نہ سنبھالا جائے تو گھر ٹوٹ سکتا ہے۔
مختلف تفسیروں میں ناشزہ کی یہ تفصیل بیان کی گیی ہے:
ناشزہ بد مزاج اورنافرمان عورت جو اپنے خاوند سے بغض رکھے اس کی مخالفت کرے۔
نشوز کے معنی لغت میں بلندی کے بولتے ہیں۔ نشز الشیء اذا ارتفع اسی طرح زمین کے ابھرے ہوئے حصے کو کہتے ہیں اور چونکہ عورت کی نافرمانی اور سرکشی میں اس کا سر اٹھانا پایا جاتا ہے اس لیے اس کو نشوز کہتے ہیں۔ پس جو عورت بلا کسی حجت شرعیہ کے مرد کی نافرمانی کرے ساتھ سونا چھوڑ دے یا سخت کلامی کرے یا ستر و پردہ اور غیر محارم کے روبرو ہونے میں کہا نہ مانے یا والدین کے گھر رہنا پسند کرکے خاوند کے ہاں نہ آوے اس عورت کو ناشزہ کہتے ہیں۔ اس کو نان و نفقہ دینا خاوند پر واجب نہیں رہتا.
 شوہر کی مرضی کے خلاف بیوی اگر میکے میں رہ رہی ہے اور اس کے بلانے پر بھی نہ آئے تو ایسی بیوی ناشزہ و نافرمان ہے، شوہر اس کے نان و نفقہ اور علاج و معالجہ کا ذمہ دار نہیں، بیوی خود اپنے نفقہ و علاج کی ذمہ دار ہے یا پھر اس کے والدین اس کے ذمہ دار ہیں، جو بغیر کسی وجہ شرعی کے لڑکی کو اپنے گھر روکے ہوئے ہیں۔
 ولا نفقة لخارجة من بیتہ بغیر حق وھي الناشزة حتی تعود۔

   عام طور سے ” ناشزہ “ کا لفظ عورت کے لیے استعمال ہوتا ہے، جب وہ شوہر کی ، جن باتوں میں اطاعت ضروری ہے، ان میں اطاعت نہ کرے مگر قرآن مجید نے یہ لفظ مرد کے لیے بھی استعمال فرمایا ہے یعنی شوہر بھی ان حقوق کو ادا نہ کرے جو شریعت نے اس پر عائد کیے ہیں یا ازدواجی تقاضوں کے ماتحت جو عورت کے ساتھ اسے ربط رکھنا چاہیے، اگر خاوند اپنی بیوی کے واجبی حقوق از قسم نان و نفقہ اور ازدواجی تعلقات وغیرہ ادا نہ کرے تو وہ بھی ” ناشز “ قرار پاتا ہے۔ 



بہرحال ناشزہ عورت کیلیے قرآن نے حل کے طور پر ایک تدریجی اور نہایت حکیمانہ طریقہ بیان کیا ہے۔ سب سے پہلا مرحلہ ہے:
> فَعِظُوهُنَّ
یعنی نصیحت کرو۔ معارف القرآن میں اس کی وضاحت یہ کی گئی ہے کہ شوہر محبت، حکمت اور نرمی کے ساتھ بیوی کو سمجھائے، اس کے دل کو مخاطب کرے، اور اسے اس کے دینی و خاندانی فرائض یاد دلائے۔ یہ مرحلہ دراصل اصلاح کا سب سے اہم درجہ ہے، کیونکہ اکثر مسائل بات چیت اور حسنِ اخلاق سے حل ہو جاتے ہیں۔
لیکن اگر محبت سے سمجھانے پر بیوی نہ مانے یا کسی قسم کی اصلاح بیوی کی جانب سے نہ ہو تو شوہر سے تھوڑی سختی سے کلام کرسکتا ہے، تنبیہ کرسکتا ہے ، ڈانٹ سکتا ہے۔

اگر اس سے اصلاح نہ ہو اور عورت کی بددماغی بدستور قائم ہو تو دوسرا مرحلہ بیان کیا گیا:
> وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ
یعنی بستر میں علیحدگی اختیار کرو۔ معارف القرآن کے مطابق اس کا مقصد سزا دینا نہیں بلکہ احساس دلانا ہے کہ معاملہ سنجیدہ ہو چکا ہے۔
بہت سی بددماغ عورتوں کو یہ غرور ہوتا ہیکہ شوہر انکے بغیر رہ نہیں پائیں گے، لہذا وہ جو چاہے کرسکتی ھے، یہاں آیت کے اس جملے کے ذریعے اللہ تعالیٰ مرد کو یہ پیغام دے رہے کہ اگر مرد بستروں میں علیحدگی اختیار کرے تو تب شاید عورت کو یہ احساس ہوسکتا ہیکہ مسئلہ سنگین ہوچکا ہے اسے اپنے رویہ پر نظرثانی کی ضرورت ہے ۔
یہ ایک نفسیاتی اور اصلاحی تدبیر ہے، جس میں جسمانی دوری کے ذریعے دل کی بیداری پیدا کی جاتی ہے، تاکہ رشتہ ٹوٹنے سے پہلے سنبھل جائے۔

لیکن اگر یہ دونوں طریقے بھی کارگر نہ ہوں تو تیسرا مرحلہ بیان کیا گیا:
> وَاضْرِبُوهُنَّ
یہ وہ حصہ ہے جسے سب سے زیادہ غلط سمجھا جاتا ہے۔ معارف القرآن میں اس کی تفصیل یہ ہے کہ یہاں “ضرب” سے مراد ایسی ہلکی اور علامتی تادیب ہے جو تکلیف دہ نہ ہو، جس سے نہ جسمانی نقصان ہو اور نہ ذلت۔ خود نبی کریم ﷺ نے اس کی عملی تفسیر کرتے ہوئے کبھی اپنی ازواج پر ہاتھ نہیں اٹھایا، بلکہ فرمایا:
“تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ بہترین ہو” (ترمذی)
لہٰذا یہ حکم دراصل ایک انتہائی آخری اور محدود درجہ ہے، جسے عام رویہ بنانا قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ اس کا مقصد بھی اصلاح ہے، نہ کہ انتقام یا غصہ نکالنا۔
اسی وجہ سے چہرے پر مارنے سے بھی منع کیا گیا، آدمی جب غصے میں ہو یا مسائل بگڑتے جائے اور بیوی کو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش بیکار ثابت ہو تو تب اس صورت کی گنجائش نکلتی ہے ، اور ایسے میں ہلکی سی تادیب عورت کو ڈرا دیتی ہے ، عقلمند عورت معاملات کو اس نہج پر پہونچنے ہی نہیں دیتی ، لیکن کبھی اگر مسائل بگڑ جائے تو شوہر کا یہ سلوک اسے خوفزدہ کردیتا ہے تب وہ اپنی حرکات پر نظرثانی کرتی ہے۔
یاد رکھیں یہ مسئلہ عورت کی نافرمانی کی صورت میں ہے ، رہے وہ مسائل جہاں بیوی غلط نہ ہو لیکن مرد اسکے مسئلے کو نہ سمجھے اور اس حد تک آجائے تو اسکا حل الگ ہے۔ تب یقینا بیوی کو حکمت سے کام لینا چاہیے اور ایسا نہ ہوسکے تو کسی بڑے کو اپنے درمیان شامل کرکے اس مسئلے کو حل کرے۔

بہرحال جیسے ہی اصلاح ہو جائے، یعنی نافرمان ناشزہ بیوی ان میں سے کسی ایک درجہ میں اپنی اصلاح کرلے تو قرآن فوراً حد مقرر کر دیتا ہے:
> فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا
یعنی اگر وہ درست ہو جائیں تو پھر ان پر کسی قسم کی زیادتی کا کوئی جواز نہیں۔
 معارف القرآن کے مطابق یہ جملہ مرد کے لیے سخت تنبیہ ہے کہ وہ اپنی حیثیت کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائے، بلکہ معاملے کو ختم کرے بیجا سختی سے گریز کرے۔ کسی ایک واقعے کو اپنے دل میں بٹھا کر آگے کی زندگی اجیرن نہ کرے۔
ازدواجی زندگی میں مسائل ہمیشہ آتے جاتے رہتے ہیں ، لیکن شوہر بیوی دونوں میں سے کوئی ایک بھی ہر گذرتے مسئلے کو دل میں بٹھاتے جائیں تو پھر پہلے ایک دوسرے کا احساس ختم ہونے لگتا ہے، جب احساس ختم ہونے لگے تو احترام کمزور ہوجاتا ہے ، اور جب احترام کمزور ہوجائے تو محبت و اعتماد باقی نہیں رہتا۔
لہذا شوہر بیوی کی ہر نافرمانی کو یاد نہ رکھیں معاف کرکے آگے بڑھے ، اسی طرح بیوی شوہر کی ہر زیادتی کو دل و دماغ پر سوار کرکے ہر بار اسکی یاددہانی نہ کروائے کچھ نظر انداز کردے کچھ پر احسن طریقے سے گفتگو کرکے حل کرلیں۔
یہی ازدواجی زندگی کی کامیابی کا بہترین اصول ہے۔

یہاں ایک اہم بات بھی یاد ہو کہ آیت کے سیاق و سباق سے معلوم ہوتا ہیکہ ناشزہ بیوی کی اصلاح کا مخاطب شوہر ہے پورا معاشرہ نہیں ۔
عام طور پر یہ دیکھنے میں آتا ہیکہ بیوی کی اصلاح کے معاملے میں جو سختی یا نرمی شوہر کو برتنی ہوتی وہ اسکے گھر والے کررہے ہوتے ہیں ، کبھی ساس اس معاملے کو حل کرتی نظر آتی ہے تو کبھی نندیں اور کبھی شوہر بیوی کے والدین کو اسکی شکایت کرکے اسکی بے عزتی کرواتے ہیں، یاد رکھیں یہ اصلاح کرنے کا حکم‌ اور یہ طریقے اپنانے کی ذمہ داری صرف اور صرف شوہر کی ہے، کسی اور کی نہیں ۔
ہاں مسائل کی سنگینی میں خاندان کے بڑے افراد کو شامل کیا جاسکتا ہے لیکن وہ بھی یکطرفہ فیصلے نہ کرے بلکہ نرمی حکمت اور سنجیدگی کے ساتھ فیصلے کریں ۔
لیکن پھر بھی کوشش یہی رہی کہ شوہر اپنے طریقے سے خود حل کرلیں یا علماء و مفتیان کرام سے رجوع ہوکر مشورہ حاصل کریں ، لیکن نہ شوہر بیوی کو بے عزت کرے نہ بیوی شوہر کو بے عزت کرے۔

آیت کے آخر میں فرمایا:
> إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا
یعنی اللہ سب سے بلند اور بڑا ہے۔ اس میں مرد کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ اگر تمہیں کچھ برتری دی گئی ہے تو یاد رکھو، تم سے بھی بڑا ایک رب ہے جو تم سے حساب لے گا۔ اس طرح قوامیت کو تکبر نہیں بلکہ عاجزی کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔

آج کے دور میں اس آیت کے بارے میں دو بڑی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔
 ایک طرف کچھ لوگ اسے مردانہ ظلم کا جواز بنا لیتے ہیں،
 جبکہ دوسری طرف کچھ اسے عورت کے خلاف امتیازی قانون سمجھ کر رد کر دیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ آیت نہ ظلم کی اجازت دیتی ہے اور نہ ناانصافی کی، بلکہ ایک متوازن، ذمہ دار اور باوقار خاندانی نظام پیش کرتی ہے۔

اگر اس آیت کو معارف القرآن کی روشنی میں سمجھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اسلام نے مرد کو حاکم نہیں بلکہ خادمِ خاندان بنایا ہے، اور عورت کو محکوم نہیں بلکہ عزت و تحفظ کا مقام دیا ہے۔ “قوامیت” دراصل خدمت، ذمہ داری اور جواب دہی کا نام ہے، اور “نشوز” کے حل کا طریقہ دراصل گھر کو ٹوٹنے سے بچانے کی آخری کوشش ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ آیت کسی ایک جنس کی برتری کا اعلان نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کا بیان ہے جس میں محبت، ذمہ داری، عدل اور حکمت سب جمع ہیں۔ اگر اسے صحیح سمجھ کر عمل کیا جائے تو یہی آیت ایک بکھرتے ہوئے معاشرے کو سنبھالنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
*قوامیت اختیار نہیں، بڑی ذمہ داری ہے اور ہر ذمہ داری ہمیشہ جواب دہی کے ساتھ آتی ہے*