*کبھی والدین سے بھی بات کرلیا کریں*
انسان جب اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو سب سے پہلے جن چہروں سے روشناس ہوتا ہے، وہ اس کے والدین کے ہوتے ہیں۔ ماں کی ممتا، باپ کی شفقت، ان کی آغوش کی حرارت اور ان کی آواز کی مٹھاس، یہ سب مل کر ایک ایسی دنیا تشکیل دیتے ہیں جہاں محبت ہی محبت ہوتی ہے، جہاں ہر ضرورت سے پہلے خیال رکھا جاتا ہے، اور جہاں ہر آنسو گرنے سے پہلے پونچھ لیا جاتا ہے۔ بچپن میں ہم بے ساختہ ان سے بات کرتے ہیں، اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیاں، ادھورے جملے، بے ترتیب خیالات سب کچھ ان کے ساتھ بانٹتے ہیں، اور وہ انہی ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں بھی ہمارے دل کی پوری بات سمجھ لیتے ہیں۔ مگر جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے، شعور آتا ہے، دنیا کی مصروفیات بڑھتی ہیں، ویسے ویسے ایک عجیب سا فاصلہ پیدا ہونے لگتا ہے۔ وہی زبان جو کبھی رکتی نہ تھی، اب والدین کے سامنے آ کر خاموش ہو جاتی ہے۔ وہی دل جو ہر بات ان سے کہہ دیتا تھا، اب ان کے ساتھ چند لمحے گزارنے کو بھی تیار نہیں ہوتا۔
یہ انسانی رویے کا ایک ایسا المیہ ہے جسے ہم محسوس تو کرتے ہیں مگر سنجیدگی سے اس پر غور نہیں کرتے۔ ہم اپنے دوستوں سے گھنٹوں گفتگو کر سکتے ہیں، سوشل میڈیا پر بے شمار تبصرے کر سکتے ہیں، اجنبی لوگوں کے ساتھ اپنی زندگی کے قصے بانٹ سکتے ہیں، مگر جب بات والدین کی آتی ہے تو ہمارے پاس وقت کم پڑ جاتا ہے۔ یہ کمی دراصل وقت کی نہیں، ترجیحات کی ہوتی ہے۔ ہم نے اپنی زندگی میں ان رشتوں کی اہمیت کو پیچھے دھکیل دیا ہے جو دراصل ہماری اصل بنیاد ہیں۔
قرآنِ مجید ہمیں بار بار اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اور اگر وہ بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے سامنے “اف” تک نہ کہو بلکہ ان سے نرمی سے بات کرو۔ یہ حکم صرف ظاہری ادب تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ فکر کی طرف رہنمائی کرتا ہے، جس میں والدین کی عزت، ان کی خدمت، اور ان کے ساتھ محبت بھری گفتگو سب شامل ہیں۔ گفتگو، جو بظاہر ایک سادہ عمل ہے، درحقیقت دلوں کو جوڑنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ بچے جب اپنی ماں کے پاس بیٹھ کر اس کے دن بھر کی باتیں سنتے ہے، یا اپنے باپ کے ساتھ چند لمحے گزار کر اس کے تجربات سے سیکھتے ہے، تو یہ محض وقت گزارنا نہیں ہوتا بلکہ ایک روحانی اور جذباتی تعلق کی تجدید ہوتی ہے۔
نبی کریم ﷺ کی تعلیمات میں بھی والدین کے ساتھ تعلق کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی رضا والد کی رضا میں ہے اور اللہ کی ناراضی والد کی ناراضی میں۔ یہ الفاظ ہمیں جھنجھوڑتے ہیں کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں کن چیزوں کو اہمیت دے رہے ہیں۔ ہم عبادات میں تو کوشاں رہتے ہیں، مگر اگر ہمارے والدین ہم سے بات کرنے کو ترس جائیں، اگر ان کے دل میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ ان کی اولاد ان سے دور ہو گئی ہے، تو یہ ایک ایسی کمی ہے جسے کوئی عبادت پورا نہیں کر سکتی۔ والدین کی خدمت صرف جسمانی ضروریات پوری کرنے کا نام نہیں، بلکہ ان کے دل کو خوش رکھنے کا بھی نام ہے، اور دل کو خوش رکھنے کا سب سے آسان طریقہ یہی ہے کہ ان سے بات کی جائے، ان کی بات سنی جائے، اور انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ وہ اب بھی ہماری زندگی کا سب سے اہم حصہ ہیں۔ بہت دفعہ ہم عبادتوں میں یا اپنے روز مرہ کے کاموں میں کئی کئی گھنٹے صرف کردیتے ہیں، کھانے پینے کا ہوش نہیں ہوتا ،یآ نیند قربان کردیتے ہیں، لیکن آخر میں محاسبہ کریں تو پھر والدین کے پاس بیٹھنے یا ان سے بات کرنے کے وقت ہم تھکے ہوئے ہوتے ہیں، ہمارا دل چاہتا ہیکہ کل بیٹھیں گے یا کل بات کرینگے لیکن کل پھر ویسے ہی گذرتا ہے۔
*کبھی سوچا کہ اگر اس کل میں تم ہو تمہارا کام ہو تمہاری تھکن ہو لیکن والدین نہ ہو؟؟*
آج کا معاشرہ ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ہم ٹیکنالوجی کے ذریعے پوری دنیا سے جڑ گئے ہیں، مگر اپنے ہی گھر میں رہنے والے لوگوں سے کٹ گئے ہیں۔ ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہوئے بھی دلوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ والدین اکثر خاموش رہتے ہیں، وہ اپنی شکایت زبان پر نہیں لاتے، مگر ان کی آنکھیں، ان کی آہٹیں، ان کی بے ساختہ نگاہیں سب کچھ بیان کر دیتی ہیں۔ ایک ماں جو سارا دن گھر کے کاموں میں مصروف رہتی ہے، دل ہی دل میں یہ چاہتی ہے کہ اس کے بیٹے بیٹیاں بہو آ کر اس کے پاس بیٹھے، اس سے دو باتیں کرے، اس کے دکھ سکھ سنے۔ ایک باپ جو سارا دن محنت کر کے گھر لوٹتا ہے، اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا بیٹا اس کے پاس بیٹھے، اس سے مشورہ کرے، اس کے تجربات سے فائدہ اٹھائے۔ یا کبھی بوڑھا باپ جو کمانے نہیں جاتا بڑھتی عمر کے ضعف کی وجہ سے گھر میں قید ہوجاتا ہے وہ بے صبری سے انتظار کرتا ہیکہ اسکے بچے جب دفتر سے لوٹے یا بیٹیاں جب میکے آئے تو انکے پاس بیٹھے دن بھر وہ انتظار کرتا ہے لیکن رات جب بیٹے گھر میں داخل ہوتے ہیں تو انکو اپنے کھانے اور سونے کی فکر ہوتی ۔ جبکہ یہی وہ باپ ہوتا ہے جو کبھی محنت مزدوری سے تھکا ہوا ہونے کے باوجود گھر داخل ہوتے ہی اپنی اولاد کا منتظر ہوتا تھا، انکی شرارتیں انکی باتیں اس باپ کی تھکن اتارتی تھی مگر آج بچوں کو والدین کے پاس بیٹھنا بھی ایک مستقل کام لگ رہا ہے جس کیلیے انہیں وقت تعین کرنا پڑتا ہے *ہائے افسوس صد افسوس*
ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے خوشی ہوتی ہے اپنے بچوں کے درمیان رہنا انہیں اپنے تجربات سے سکھانا بچوں کے نئے تجربے دیکھنا، مگر جب والدین کی یہ خواہشیں پوری نہیں ہوتیں تو ایک خاموش اداسی دل میں گھر کر لیتی ہے، جو آہستہ آہستہ رشتوں کو کمزور کر دیتی ہے۔
نفسیات کی دنیا بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ انسان کی جذباتی صحت کا دار و مدار اس کے خاندانی تعلقات پر ہوتا ہے۔ جو لوگ اپنے والدین کے ساتھ مضبوط تعلق رکھتے ہیں، ان میں ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے، ان کا اعتماد بڑھتا ہے، اور وہ زندگی کے مسائل کا بہتر انداز میں سامنا کر سکتے ہیں۔ والدین سے گفتگو انسان کے اندر ایک احساسِ تحفظ پیدا کرتی ہے، جو اسے دنیا کے نشیب و فراز میں ثابت قدم رکھتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ اپنے والدین سے دور ہو جاتے ہیں، وہ اکثر ایک اندرونی خلا کا شکار ہو جاتے ہیں، جسے وہ کسی اور ذریعے سے پُر کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر کامیاب نہیں ہو پاتے۔
ایک لمحے کے لیے تصور کیجیے کہ وہ وقت بھی آ سکتا ہے جب یہ ہستیاں ہمارے درمیان نہیں ہوں گی۔ وہ کرسی خالی ہوگی جہاں کبھی باپ بیٹھا کرتا تھا، وہ کمرہ خاموش ہوگا جہاں ماں کی آواز گونجا کرتی تھی۔ اس وقت ہمیں احساس ہوگا کہ ہم نے کتنے قیمتی لمحات ضائع کر دیے، کتنی باتیں تھیں جو ہم کہہ سکتے تھے مگر نہ کہہ سکے، کتنی باتیں تھیں جو ہم سن سکتے تھے مگر نہ سن سکے۔ یہ احساس انسان کو اندر سے توڑ دیتا ہے، مگر افسوس کہ اس وقت پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا۔
خواتین کے لیے اس موضوع کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے، کیونکہ وہی گھر کی فضا کو تشکیل دیتی ہیں۔ ایک بیٹی اگر اپنے والدین کے ساتھ محبت بھرا تعلق رکھے تو وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک مثال قائم کرتی ہے۔ ایک ماں اگر اپنی اولاد کو یہ سکھائے کہ نانی، دادی، دادا کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنا محبت اور ادب کا حصہ ہے، تو وہ دراصل ایک مضبوط خاندانی نظام کی بنیاد رکھ رہی ہوتی ہے۔ بیوی اگر شوہر کو اسکے والدین کے قریب کرے اور خود بھی انکے قریب ہوجائے تو پھر اس گھر پر رحمت خداوندی نزول ہورہی ہوتی ہے۔ عورت کے ہاتھ میں یہ اختیار ہے کہ وہ گھر کو محض رہائش کی جگہ بنائے یا اسے محبت، احترام اور اپنائیت کا گہوارہ بنا دے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی مصروفیات کا جائزہ لیں اور یہ دیکھیں کہ کیا واقعی ہمارے پاس وقت نہیں ہے، یا ہم نے وقت نکالنے کی عادت چھوڑ دی ہے۔ رات میں جب ہم بستر پر لیٹتے ہیں تو اپنی تھکن اتارنے کیلیے ہم فون یوز کرتے ہیں سوشل میڈیا اسکرول کرتے ہیں جس میں گھنٹے گذر جاتے ہیں اگر وہی وقت ہم والدین کے پاس گذارلیں، باپ کی برابر میں بیٹھ کر انکی دن بھر کی روداد سن لیں یا ماں کے گود میں سر رکھ کر لیٹ جایں اور کچھ اپنی اور کچھ ماں کی سنے سنائیں تو ذہن خود بخود پرسکون ہوجائے گا، دل خوش ہوجائے گا، والدین مطمئن ہوجائیں گے، اور یوں آسمانوں پر بیٹھا رب اپنی وسیع رحمتیں نعمتیں تمہارے مقدر میں لکھ دے گا۔
والدین کے ساتھ بات کرنے کے لیے کسی خاص موقع یا طویل وقت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ چند منٹ بھی کافی ہوتے ہیں، اگر وہ خلوص اور توجہ کے ساتھ گزارے جائیں۔ ان سے ان کے ماضی کے قصے سننا، ان کی صحت کے بارے میں پوچھنا، یا صرف ان کے ساتھ خاموشی سے وقت گزارنا، یہ سب وہ اعمال ہیں جو ہمارے اور ان کے درمیان محبت کو مضبوط کرتے ہیں۔
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ والدین کا وجود ایک نعمت ہے، اور ہر نعمت کی قدر کرنا ضروری ہے۔ اگر ہم نے اس نعمت کی قدر نہ کی تو یہ ہم سے چھن بھی سکتی ہے، اور پھر ہم چاہ کر بھی اسے واپس نہیں لا سکتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم آج ہی سے اپنے رویے کو بدلیں، اپنی ترجیحات کو درست کریں، اور اپنے والدین کو وہ مقام دیں جس کے وہ حقیقی حقدار ہیں۔
آخر میں بس اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ زندگی کی سب سے قیمتی گفتگو وہ ہوتی ہے جو ہم اپنے والدین کے ساتھ کرتے ہیں۔ یہ گفتگو نہ صرف ان کے دل کو خوش کرتی ہے بلکہ ہمارے لیے بھی سکون اور برکت کا باعث بنتی ہے۔ اس لیے اپنی مصروف زندگی میں سے کچھ لمحے نکالیے، ان کے پاس بیٹھیے، ان سے بات کیجیے، اور انہیں یہ احساس دلائیے کہ وہ اب بھی ہماری زندگی کا سب سے خوبصورت اور قیمتی حصہ ہیں۔
*کبھی والدین سے بھی بات کرلیا کریں…* *اس سے پہلے کہ وقت ہمیں یہ موقع ہمیشہ کے لیے چھین لے۔*