*احساس کمتری سے احساسِ تشکر تک*
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عید کی صبح جب افق پر روشنی پھیلتی ہے اور دلوں میں مسرت کی ایک نرم لہر دوڑتی ہے تو یہ خوشی محض نئے لباس، میٹھی سوغات یا ظاہری رونق کا نام نہیں ہوتی، بلکہ یہ اس احساس کا اعلان ہوتی ہے کہ بندہ اپنے رب کے حضور جھک کر، اس کی عطا کردہ نعمتوں کو پہچان کر، شکر کے جذبے کے ساتھ زندگی کی نئی ابتدا کر رہا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان اپنے اندر جھانک سکتا ہے کہ وہ احساسِ کمتری کے اندھیروں میں بھٹک رہا ہے یا احساسِ تشکر کی روشنی سے اپنا دل منور کر چکا ہے۔
احساسِ کمتری ایک خاموش زہر کی طرح ہے، جو آہستہ آہستہ انسان کے دل و دماغ میں سرایت کر کے اس کی شخصیت کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں انسان خود کو دوسروں سے کمتر، بے وقعت اور ناکام سمجھنے لگتا ہے۔ وہ اپنی خوبیوں کو نظر انداز کر دیتا ہے اور دوسروں کی زندگی کو ایک مکمل تصویر سمجھ کر اپنے حال کو کمتر گردانتا ہے۔ یوں وہ اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر غیر شعوری طور پر سوال اٹھانے لگتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان اپنی جگہ ایک مکمل تخلیق ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے بہترین انداز میں پیدا فرمایا ہے:
“لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ”
یہ احساس عموماً موازنہ سے جنم لیتا ہے۔ جب انسان اپنی زندگی کو دوسروں کی ظاہری خوشیوں کے ترازو میں تولتا ہے تو اسے اپنی دنیا بے رنگ لگنے لگتی ہے۔
جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے:
ولا تتمنوا ما فضل الله به بعضكم على بعض
(النساء:٣٢)
لیکن اس کے باوجود سوشل میڈیا کی چمک دمک، گھریلو رویّوں کی سختی، بچپن کی محرومیاں، یا بار بار کی ناکامیاں اس احساس کو مزید گہرا کر دیتی ہیں۔ خصوصاً خواتین، جو فطرتاً حساس دل رکھتی ہیں، معاشرتی دباؤ، حسن و جمال کے مصنوعی معیار اور رشتوں کے اتار چڑھاؤ کے باعث جلد اس کیفیت کا شکار ہو جاتی ہیں۔ نتیجتاً ان کی خود اعتمادی مجروح ہوتی ہے، دل میں حسد و جلن جنم لیتی ہے اور عبادت میں بھی وہ لذت باقی نہیں رہتی جو ایک مطمئن دل کو نصیب ہوتی ہے۔
اسلام نے انسان کو اس اندھیرے سے نکالنے کے لیے ایک نہایت حسین اصول عطا کیا ہے، اور وہ ہے تقویٰ اور شکر۔ قرآن کریم واضح طور پر اعلان کرتا ہے:
“إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ”
یعنی اللہ کے نزدیک عزت و فضیلت کا معیار نہ مال ہے، نہ حسن، نہ نسب؛ بلکہ تقویٰ ہے۔ جب یہ حقیقت دل میں راسخ ہو جائے تو انسان دوسروں سے موازنہ چھوڑ کر اپنے رب سے تعلق جوڑ لیتا ہے، اور یہی تعلق اسے سکون عطا کرتا ہے۔
احساسِ کمتری کا حقیقی علاج یہی ہے کہ انسان اپنے اندر شکر کا چراغ روشن کرے۔
فرمان خداوندی ہے :
لئن شکرتم لازیدنکم
(ابراہیم:٧)
اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں مزید عطاء کرونگا۔
شکر محض زبان سے ادا کیے جانے والے چند الفاظ کا نام نہیں، بلکہ یہ دل کی کیفیت اور عمل کا رویہ ہے۔ جب بندہ اپنی زندگی میں موجود چھوٹی چھوٹی نعمتوں کو بھی پہچاننے لگتا ہے، تو اس کے دل سے محرومی کا احساس خود بخود ختم ہونے لگتا ہے۔
“لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ”
یہ وعدہ انسان کے لیے امید کی ایک روشن کرن ہے کہ شکر نہ صرف نعمتوں کو باقی رکھتا ہے بلکہ انہیں بڑھاتا بھی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے بھی ایک نہایت حکیمانہ اصول عطا فرمایا کہ انسان اپنے سے کم تر کو دیکھے، اس سے زیادہ والے کو نہ دیکھے، تاکہ وہ اللہ کی نعمتوں کو حقیر نہ سمجھے۔ یہ تعلیم دراصل احساسِ تشکر کو بیدار کرنے کا ایک عملی طریقہ ہے۔ جب انسان اپنے سے کم تر حالات والوں کو دیکھتا ہے تو اس کے دل میں شکر کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنی زندگی کو نعمت سمجھنے لگتا ہے۔
احساسِ تشکر وہ کیفیت ہے جو انسان کے دل کو سکون، چہرے کو نور اور زندگی کو برکت عطا کرتی ہے۔ یہ انسان کو خود اعتمادی دیتا ہے، اسے دوسروں کے لیے خیرخواہ بناتا ہے اور اسے اللہ کے قریب کر دیتا ہے۔ شکر گزار انسان کبھی احساسِ کمتری کا شکار نہیں ہوتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے، وہ اللہ کی حکمت اور محبت کا نتیجہ ہے۔
عید کا موقع درحقیقت اسی احساسِ تشکر کی عملی تصویر ہے۔ ایک مہینے کی عبادت، صبر اور قربانی کے بعد جب بندہ عید مناتا ہے تو وہ دراصل اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ اے اللہ! تو نے مجھے توفیق دی، میں نے روزے رکھے، میں نے تیری رضا کو تلاش کیا، اور اب میں تیرے ہی دیے ہوئے انعامات پر شکر گزار ہوں۔ ایسے میں اگر دل میں کسی قسم کا احساسِ کمتری باقی ہو تو یہ عید کی حقیقی روح سے محرومی کے مترادف ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس عید کو محض ظاہری خوشیوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنے دلوں کا جائزہ لیں۔ اپنے اندر چھپے احساسِ کمتری کو پہچانیں، اسے اللہ کے سپرد کریں اور شکر کی روش اپنائیں۔ اپنی خوبیوں کو تسلیم کریں، دوسروں کی نعمتوں پر خوش ہوں اور اپنی نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کریں۔ یہی وہ طرزِ فکر ہے جو ہمیں اندرونی سکون، حقیقی خوشی اور اللہ کی رضا تک پہنچا سکتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہر انسان، بالخصوص ہر عورت، اللہ کی ایک حسین تخلیق ہے، جسے کسی نہ کسی خوبی سے نوازا گیا ہے۔ جب وہ اپنی قدر پہچان لیتی ہے اور اپنے رب کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا سیکھ لیتی ہے تو اس کے دل سے احساسِ کمتری کے سائے چھٹ جاتے ہیں اور وہ ایک پُرسکون، باوقار اور خوشگوار زندگی کی طرف گامزن ہو جاتی ہے۔ یہی وہ حقیقی کامیابی ہے جس کا پیغام عید ہمیں ہر سال دیتی ہے۔
پس اے گوشۂ نسوان کی باوقار قارئین! اس عید اپنے دل کا رخ موڑ لیجیے ، موازنہ چھوڑ دیجیے ، شکر اپنا لیجیے، اپنی زندگی کے ہر ورق پر *الحمدللہ* لکھ دیجیے۔
یقین جانیے جس دل میں شکر اترتا ہے، وہاں محرومی یا کمتری کا احساس باقی نہیں رہتا، احساس کمتری کی راکھ سے جب تشکر کی چنگاری اٹھتی ہے تو وجود انسانی نور بن جاتا ہے ، اور یہی نور معاشروں کے مستقبل کو روشن کردیتا ہے۔
احساسِ کمتری کا سفر وہیں ختم ہوجاتا ہے جہاں بندہ یہ کہہ دے :*یا رب تو نے جو دیا، وہی میرے لیے بہتر ہے*