لمحات = قسط 8
دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں گزر رہے لمحات کی روداد
اظفر منصور
17/04/2026 بروز جمعہ 

نوٹ! آج کی قسط میں خاص یہ ہے کہ لکھنؤ یونیورسٹی کے پروگرام کی روداد، جمعہ کے خطاب کا ہلکا سا خلاصہ، لکھنؤ کی مشہور جگہ امین آباد پر تفصیلی گفتگو، اور ایک سسپنس۔ 
ـــــــــــــــــــ
 جمعہ کا دن گویا کہ ہفتہ بھر کی تھکان کے کفارہ، اضافی آرام، اسٹاک شدہ امور کی تکمیل، سیاحت کے پلان، آئندہ دنوں کے انتظامات، اوراد و وظائف وغیرہ کے لیے مخصوص ہوتا ہے، چنانچہ برادر ارقم کے ساتھ سب سے پہلے تقریباً بارہ بجے ہم لکھنؤ یونیورسٹی سے ملحق ممتاز پی جی کالج پہنچے، دراصل یہاں سے ہمارا گریجویشن ہو رہا ہے، تو وقتاً فوقتاً اپنی موجودگی درج کرانے کے لیے جانا پڑتا ہے۔ لیکن آج جانے کا خاص مقصد یہ تھا کہ اسائمنٹ کے سلسلے کچھ رعایتی وقت چاہئے تھا، کالج کے فعال طالب علم انس بھائی نے اس سلسلے میں مدد کی۔ جمعہ کی اذان کا وقت ہو رہا تھا ہم نے ارقم سے کہا کہ چلو طارق کی امامت میں نماز ادا کرتے ہیں، تو جواباً جو ارقم نے کہا وہ ندوہ سے ان کی محبت و عقیدت کو ظاہر کرتا ہے، ارقم نے کہا: لکھنؤ میں رہتے ہوئے ندوہ میں نماز جمعہ نہ پڑھنا محرومی کی بات ہے" 
سخت گرم موسم میں بذریعہ رکشہ ہم ندوہ پہنچے، مسجد کے اندر موجود وضو خانے میں وضو کیا۔ اور دو رکعت پڑھ کر تلاوت قرآن میں مشغول ہوئے، اسی اثناء استاذ گرامی مولانا خالد غازی پوری صاحب ندوی دامت برکاتہم نے مائیک سنبھالا اور اپنے مخصوص لب و لہجہ میں گفتگو شروع کی۔ مولانا نے قرآن مجید کی آیت اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ٘-وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا بِهَاؕ-وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْــٴًـاؕ-اِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۠ سے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا کہ اس آیت میں ان مخالفین کا تذکرہ ہے جنہوں نے اسلام کو مٹا دینے کے لیے وہ تمام حربے استعمال کئے جو ان کے اختیارات میں تھے، اسی طرح مولانا نے مزید فرمایا کہ آج ملک میں عجیب فضا بنی ہوئی ہے، برادران وطن مسلمانوں کو پہنچنے والی تکلیف کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں حالانکہ اس کی آگ اس کی تپش انہیں بھی ایک دن جھلسا کر رکھ دی گی، وہ یہاں کثیر تعداد میں ہیں لیکن جن کی پریشانیوں پر وہ تالی بجاتے ہیں وہ قلیل تو ہر طرح کی مصیبتیں ان برادران کو بھی پہنچیں گی۔ اسی موقع سے مولانا نے اس صورتحال میں اسلام کے نقطہ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے ترمذی شریف کی روایت پیش کی کہ لاتظهرالشماتةلأخيكفيرحمهاللهويبتليك ﴿سنن الترمذی 2506﴾۔ مولانا کا پورا بیان جو کہ 14 منٹ کا ہے، ہم نے ریکارڈ کیا ہے، کسی موقع سے ان شاءاللہ اسے نقل کر لیں گے۔ مولانا کے اس طرز پر ہمیں رشک آتا ہے کہ گفتگو چاہے شباب پر ہی کیوں نہ ہو جیسے ہی 12:59 ہوتا ہے مولانا اس طرح سے باتوں کو سمیٹتے ہیں کہ احساس تک نہیں ہوتا۔ اور ایک بجتے ہی گفتگو یوں ختم فرماتے ہیں کہ لگتا مولانا نے جو جو کہنا چاہا تھا سب کہہ دیا۔ مولانا فرمان صاحب ندوی دامت برکاتہم العالیہ خطبہ جمعہ دینے کے لیے منبر پر جلوہ افروز ہوئے، مولانا سے پہلے حضرت مہتمم صاحب دارالعلوم جناب ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی صاحب ندوی دام ظلہ خطبہ جمعہ و امامت جمعہ فرمایا کرتے تھے، مگر ضعف و کمزوری کے سبب مولانا فرمان صاحب ندوی اس ذمہ داری کو بحسن و خوبی انجام دے رہے ہیں، مولانا ہر ہفتے مختلف موضوعات پر خطبہ پیش کرتے ہیں، مولانا کا بھی مکمل خطبہ ریکارڈ ہے۔ 
جمعہ کی نماز 
دعا و تسبیح 
سنن و نوافل 
پھر کمرے۔ مگر فورا عدنان فون کرتے ہیں کہ کچھ فوٹوز وغیرہ ہو جائے، ہم نے بھی حامی بھری، اور دھوپ کی شدت کو چیرتے ہوئے علی مونگیری پارک میں آن پہنچے، یہاں پہلے سے ہی بہت سے لوگ فوٹوز وغیرہ میں مشغول تھے، اس میں اپنا اضافہ زیادہ بوجھ نہیں لگا۔ وہ شعر ہے نہ کہ "ہم اکیلے ہی چلے تھے جانب منزل مگر راہ رو آتے گئے اور کارواں بنتا گیا" اس کی زندہ مثال ابھی ہم دیکھ رہے تھے، صرف ہم اور عدنان تھے مگر یہاں پہنچے تو کاشف بھی ملے، کچھ ہی دیر میں حذیفہ بھی آ دھمکے، اس سے قبل دو تین لوگ مل چکے تھے۔ تھوڑی دیر یہاں گزارنے کے بعد سب نے اپنی راہ لی، اور ہم و حذیفہ کھانا کھانے کے لیے عمر کی کینٹین بلکہ اس کے جھونپڑے میں آئے، بریانی لگوائی، ملک میں مہنگائی کے جو جاں توڑ اثرات ہیں وہ ہم طلباء پر بھی مکمل پڑ رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جو بریانی پہلے یعنی بس ابھی عید سے قبل تیس کی ملتی تھی اب وہ چالیس اور پچاس کی مل رہی ہے، لسی کا دور بھی چلا۔

لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبہ علوم مشرقیہ کے پروگرام میں!!! 

 اس وقت تک گھڑی میں 02:35 ہو چکے تھے، جبکہ ڈھائی بجے کا ٹائم لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبہ علوم مشرقیہ عربی و فارسی کے ایک پروگرام میں شرکت کے لیے طے تھا، قدرے تاخیر سے ہم،ارقم، حذیفہ، عبداللہ فیض، فیضیاب یونیورسٹی پہنچے، وہاں پہلے سے ہی صبورا میم منتظر تھیں۔ داخل ہوتے ہی ایک پرچے پر نام و دستخط حاصل کئے گئے۔ اور ہم پروگرام کی ترتیب بنانے لگے، کیونکہ اس کی نظامت کی زمہ داری میرے ہی کاندھوں پر تھی۔ اس پروگرام میں شرکت کی دعوت محترمہ صبورا صاحبہ کی طرف سے تھی، آپ سے پہلی ملاقات پندرہ اگست کے دن حادثاتی طور پر ہوئی تھی، مگر آج باقاعدہ پروگرام کی نسبت سے ملاقات تھی، صبورا صاحبہ ایک سلجھی ہوئی اور نہایت صاف و شگفتہ زبان کی مالک لکھنؤ یونیورسٹی میں فضیلت کی استاد ہیں، جب پندرہ اگست کے موقع پر ہم نے ان کی گفتگو سنی تھی تو کافی متاثر ہوئے تھے، آج پھر آپ کو سننا تھا اس لیے بصد شوق ہم پروگرام میں پہنچنا چاہ رہے تھے، جب پروفیسر سید غلام نبی احمد صاحب شعبہ فارسی لکھنؤ یونیورسٹی تشریف لے آئے تو باقاعدہ پروگرام شروع ہوا۔ چونکہ ہم نے کچھ سطریں لکھیں تھی اس لیے وہ یہاں چسپاں بھی کر رہے ہیں۔ "آج دل خوشی سے سرشار اور اندرون عقل تمام سرگرمیوں سے بیزار ہے کہ جس پروگرام کا نوٹیفکیشن تین چار دنوں قبل ہمارے فون کی اسکرینوں پر چمکا تھا اور ہم سراپا انتظار میں بیٹھ گئے تھے آج وہی تاریخ، وہی دن، وہی لمحہ آن پہنچا ہے، ہمارا آپ کا یوں مل بیٹھنا کوئی حادثہ یا واقعہ نہیں جسے "حسین اتفاق" کہہ کر آگے بڑھ لیا جائے بلکہ یہ اس شعبہ و ڈپارٹمنٹ کے ذمہ داروں کے تخیل پیہم، سعی جلیل اور جہد مسلسل کا نتیجہ ہے۔ اس لیے ذرا دیر ٹھہر کر اپنے ان بہی خواہوں خصوصاً صبورا میم صاحبہ کی خدمت میں نذرانہ تشکر پیش ہے، یہ امید دلاتے ہوئے کہ ہم طلباء و طالبات کے لئے آپ نے جو یہ خوبصورت مجلس سجائی ہے ان شاءاللہ اس سے ہم ضرور فائدہ اٹھائیں گے۔" اس گفتگو کے بعد عبداللہ فیض کی تلاوت کے ذریعے پروگرام شروع ہوا۔ موصوف بڑے اچھے قاری ہیں، قرآن پڑھنے کا انداز سحر کن ہے، ان کی خوبصورت تلاوت کے بعد جو تبصرہ ہم نے کیا عین انہیں حروف میں پیش ہے۔ 
بعد تلاوت!!!
"کچھ ضروری تو نہیں جان بچائے رکھنا
جان سے بڑھ کر ہے ایمان بچائے رکھنا
یاد رکھنی ہے یہ اسلاف کی تاکید ہمیں
عافیت چا ہو تو قرآن بچائے رکھنا
قرآن مجید ہمارے لیے کتاب ہدایت، کتاب سربلندی، کتاب عز و شرف ہے اسی وقت تک جب تک کہ اسے ہم اللہ کی جانب سے حجت سمجھ کر نہ پڑھیں، نہ سمجھیں نہ عمل کریں۔ قرآن کے دامن کو چھوڑنا ہی دراصل ہمارے لیے وبال جان بنا ورنہ اقبال کو یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر
 ہم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر" 
قرآن مجید کی تلاوت کے بعد نعت خوانی کے لیے مہوش قریشی صاحبہ کو بلایا، جنہوں نے اپنی سریلی آواز سے محفل لوٹنے کی کوشش کی۔ ان کے بعد بالترتیب کچھ طلباء و طالبات کو اسٹیج پر مدعو کیا گیا، سب نے خوب اچھا مظاہرہ کیا۔ اس پروگرام کا عنوان چونکہ "تعلیم و تربیت کی اہمیت و افادیت" تھا تو اکثر گفتگو اسی عنوان کے ارد گرد رہی۔ ارقم کی برجستہ گفتگو، احسن کی تلخیص، مہوش کی نعت، سعید الرحمن بھائی کا بیان و کلمات تشکر، شیرین کی انگلش تقریر، سیف عالم کی عربی تقریر، یوسف حسن کا بیان، مصعب کی نعت بلکہ تمام شرکاء مجلس لائق تحسین و آفرین تھے۔ تعلیم و تربیت کے عنوان پر ہم نے مولانا الطاف حسین حالی کا یہ کلام بھی لگے ہاتھوں سنا دیا تھا۔ پیش ہے 
گیا دورہ حکومت کا بس اب حکمت کی ہے باری
جہاں میں چار سُو علم و عمل کی ہے عملداری
جنہیں دُنیا میں رہنا ہے رہے معلوم یہ اُن کو
کہ ہیں اب جہل و نادانی کے معنی ذلّت و خواری
ضرورت علم و دانش کی ہے ہر فن اور صناعت میں
نہ چل سکتی ہے اب بے علم نجاّری و مِعماری
جہاں علمِ تجارت میں نہ ماہر ہوں گے سوداگر
تجارت کی نہ ہوگی تا قیامت گرم بازاری
طلباء و طالبات کی پیشکش کے بعد مہمان و اساتذہ کرام کی گفتگو شروع ہوئی، سب سے پہلے محترمہ صبورا صاحبہ پھر پروفیسر سید غلام نبی احمد صاحب پھر صدر شعبہ جناب سید ارشد علی جعفری صاحب دامت برکاتہم۔ عصر کے وقت یہ پروگرام ختم ہوا۔ علم و معلومات نیز تجربہ میں اضافہ کے ساتھ سب چائے سموسے کی معیت میں رخصت ہوئے۔ ہم مع رفقاء ندوہ آئے، تاکہ ایک ضروری کام سے امین آباد جا سکیں۔ 
امین آباد!!!
لکھنؤ کے مشہور بازاروں میں سے ایک امین آباد کا بازار بھی ہے، یہاں کی تنگ گلیوں، عمارتوں، شاہراہوں، بلکہ منجملہ رونق پر شاعروں نے بھی خوب طبع آزمائی کی ہے، جیسے ایک شعر ہے 
کشش لکھنؤ ارے توبہ
پھر وہی ہم وہی امین آباد

نیچے امین آباد پر معلومات کی غرض سے عرفان عباسی کا زبردست مضمون من و عن نقل کر رہے ہیں۔ 

لکھنو کا مشہور بازار امین آباد - ایک جھلک
والی اودھ امجد علی شاہ (دور اقتدار ۲۴۸۱ئ۔۷۴۸۱ء)کوشہر کی آبادی میںاضافہ اور ہمہ جہت ترقی میں خاص دلچسپی تھی۔اسی زمانے میںان کے وزیر اعظم امین الدولہ نے نیا محلہ آباد کرکے اس کا نام اپنے نام پر ”امین آباد“ رکھا تھا جو سیاسی انقلابات، انتشار ات اور نشیب و فراز کے سر د و گرم جھیلتے ، پھوس کی چھتوں، جھونپڑیوں اور کچے پکے مکانات کے ابتدائی دور سے گزرتے ہوئے ارتقائی منزلیں طے کرتا رہا اور آبادی میںاضافہ کے ساتھ شہر کے مشہور و پر رونق بازار کی حیثیت اختیار کرکے اہم تجارتی مرکز بن گیا۔ اسی زمانے میں حضرت گنج بھی آباد کیاگیا تھا جو وقت گزرنے کے ساتھ نہایت صاف ستھرا ،خوبصورت اہم اور منفرد بازار بنتا گیا۔ اس کی شاندار عمارتیں،جگمگاتی سڑکیں اور ضروریات زندگی کی تمام اشیاءفراہم کرنے والی دوکانیں رﺅسا ،بڑے سرکاری افسروں، نوابین، زمینداروں اور راجگان کی توجہ کا خاص مرکز تھیں اور وہ انہیں کا بازار کہا جاتا تھا۔ انگریزی دور حکومت میںاس کی بیشتر دوکانیں انگریزون کی تھیں اور انگریز وہیں خرید و فروخت کرتے تھے جب کہ امین آباد لکھنوی تہذیب سے آراستہ عوامی بازار کی حیثیت رکھتا تھا اور اس کی ہر ادا میں تہذیب و ثقافت کی جھلک نمایاں تھی۔
کہتے ہیں سلطنت اودھ کے زمانے میں پرانے لکھنو کے بازاروں خصوصاً چوک بازار کا شمار اہم ترین اور پر رونق بازار میںہوتا تھا۔ جہاں ضروریات زندگی کی فراہمی کے علاوہ ہر طرف تہذیب، شرافت، وضع داری ، ہم آہنگی اور زبان وبیان کی شیرینی کی بدولت سحر انگیز ماحول طاری رہتا تھا۔ اودھ کے دن بدلتے ہی رفتہ رفتہ پرانے لکھنو کے بازاروں کی رونق ،بھیڑ بھاڑ، اور ہماہمی ماند پڑنے لگی اور امین آباد مرکزی حیثیت اختیار کرتا گیا۔ چھوٹی چھوٹی جھونپڑیوں کی جگہ نئی نئی تعمیرات ہونے لگیں ہر طرف نیا رنگ ، نیاسماں، نئی چال ڈھال نئے لباس اور نئے اطوار نظر آنے لگے۔ انگر کھوں کی جگہ کوٹ پتلون پالکیوں ،چو پہلوں ،ہواداروں، فینسوں اورڈولیوں وغیرہ کی جگہ یکہ و تانگے نے لے لی اور باوضع سماج میں فیشن پرستی کا سکہ چلنے لگا۔ مقبول و روایتی خصوصیات رفتہ رفتہ دم توڑنے لگیں۔ راج دھانی کا چھوتا سا نیا بازار امین آباد مغربی لبادہ اوڑھے رواں دواں نظر آنے لگا ۔چند سال قبل تک کچھ بزرگ موجود تھے جنہوںنے امین آباد کی شاندار آہنی شٹر والی چمکتی ،جگمگاتی دوکانوں کو پھوس کے چھپروں سے ڈھکی دیکھا تھا پھر کایا پلٹ کے بعد اس کا ترقی یافتہ و ماڈرن روپ بھی دیکھا۔
کتنے اتار چڑھاﺅ دیکھے ہیںاس چھوٹے سے بازار نے۔ کیسی کیسی باغ و بہار شخصیات کیسے کیسے واقعات و حادثات اور کیسی کیسی یادیں وابستہ ہیں اس کے نام کے ساتھ۔
صبح نظیر آباد کے چوراہے پر اخبار والوں اور اخبار بینوں کی بھیڑ، ہمدم ،حقیقت، اور پائینیر وغیرہ پرلوگ ٹوٹے پڑتے ہیں۔ تازہ تازہ خبریں۔ ان اخبارات کی تکمیل بھی تو گئی رات تک اسی بازار میں ہوتی ہے۔ یہ انیس احمد عباسی ، اسد بنارسی ،نیاز فتح پوری ،رضا انصاری ،غلام احمد فرقت اور امین سلونوی (ا۔ن۔س)وغیرہ ان اخبارات کے اوراق سیاہ کرنے کے لئے ہی صبح سے گئی رات تک اس بازار میں منڈلا یا کرتے ہیں۔
چھیدی لال دھرم شالہ میں سیاست دانوں کا جمگھٹا ،دانش محل، صدیق بک ڈپو ،انوار بک ڈپو وغیرہ میں شعراءوادبا کی نشست، پارکوں میں خوبصورت اسٹینڈ میں تیل کی شیشیاں سجائے چمپی کرنے والے اور ان کے بھیس میں شکار کے متلاشی گرہ کٹ، ہلالی پرچم میں لپٹے عبد اللہ ریستوراں میں معمولی ورکر ہی نہیں صوبائی مسلم لیگی لیڈروں تک کی صبح سے رات بارہ ایک بجے تک بھیڑ اوراس کے چند قدم کے فاصلے پر ہی احراری پرچم کے زیر سایہ کھدر پوشون سے بھرا خان ریسٹوران چنددہائی پہلے کی ہی تو بات ہے۔
جھنڈے والے پارک (امین الدولہ پارک) میںسیاسی جماعتوں کے بڑے بڑے تاریخی جلسے ،دوسری طرف امین آباد پارک میں ناقوس و اذان کی ملی جلی آوازیں، سائمن کمیشن کی آمد پر امین آباد کی سڑکوں پر احتجاجی جلوس، اس پر پولیس کا حملہ ،شدید لاٹھی چارج، جس میںاہم سیاسی لیڈر بشمول جواہر لال نہرو زخمی ہوئے۔امین آباد میں سبھاش چندر بوس کی آمد پرتاریخی و یادگار جلسہ، جھنڈے والے پارک میںغیر ملکی اقتدار کے خلاف لا تعداد اہم اور تاریخی جلسے ان میں ممتاز مذہبی ،سیاسی و سماجی رہنمایان ملک کی شرکت ، ہندو مسلم اتحاد کے مظاہرے، مرکزی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کی ہما ہمی، مختلف سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم ، مختلف نشرگاہوں کا قیام اور ان سے مختلف سیاسی نظریات کی حمایت میں لاﺅڈ اسپیکر کاشور۔ تقریریں، نظم خوانی نوک جھونک، اور کبھی کبھی گالی گلوج اور خشت باری ،جھنڈے بازی بلند سے بلند تر پرچم لہرانے کی تقریبات اور بڑے بڑے جلوس۔
آج امین آباد کی سڑکوں پر نظر آنے والے لیڈر کل آزاد ہندوستان کے بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوں گے کیا اس وقت بھی انہیں یاد رہے گا ”امین آباد“ ؟؟ یہ مرکز علم و ادب ”دانش محل“ ہے جہاں ہمہ وقت ممتاز شعرا وادبا کا مجمع رہتا ہے۔ سید مسعود حسن رضوی، پروفیسر احتشام حسین، اختر علی تلہری، نواب جعفر علی خاں اثر، ڈاکٹر شجاعت علی سندیلوی، حکیم مسیح الزماں ،رضا انصاری فرنگی محلی، غلام احمد فرقت کاکوروی، احمد جمال پاشا، نجم الدین شکیب، علی عباس حسینی، مجیب سہالوی وغیرہ سے جب چاہیں مل لیجئے۔
کسی مقامی ادیب ،شاعر یامعلم کے گھر کا پتہ چاننا چاہیں کسی پرانی کتاب اور مخطوطہ کا حسب نسب پوچھناہو تو کاﺅنٹر کے پیچھے بیٹھے چھوٹے ٹائپ رائٹر کے کی بورڈ کودو انگلیوں سے پیٹتے ہوئے مالک دانش محل نسیم احمد صاحب کو بے تکلف زحمت دیجئے اور اپنی معلومات میںاضافہ کیجئے۔
یہاں سے لوٹتے ہوئے سینٹرل بینک کے پاس گلی کے کونے پر چھوٹے سے ہوٹل میں بھی جھانک لیجئے اس کے کرتا دھرتا ہیں سابق خاکسار لیڈر رئیس فاطمی یہاں موضوع گفتگو ہے سیاست جس پر حاوی ہیں علامہ مشرقی کے کارنامے اور خاکسار تحریک۔ ذرا آگے بڑھ کر فتح گنج والی سڑک پر مڑ لیجئے داہنے ہاتھ پرسندر سنگھ شربت والے کی طرف ،ان کے یہاں مفرح اور خوش ذائقہ شربت پینے والے کو سرمہ کی ایک پڑیا مفت ملتی ہے اور اسی کے سامنے حاجی بلاقی تمباکو فروش کا دورسا آپ کے حقہ میں دھواں بن کر سارے محلے کو معطر کردے گا۔ ذرا اورداہنی جانب بڑھئے اور سری رام روڈ اور کوتوالی کو آئندہ سفر کے لئے چھوڑتے ہوئے بائیں جانب مشہور تجارتی مرکز ”گڑ بڑ جھالا“ بھی دیکھ لیجئے۔ جس میں کبھی ہر چیز ملے گی دوآنہ کی آوازیں گونجتی تھیں اب خاصا بازار ہے۔ جو روزہ مرہ کام آنے والی بیشتر ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اس میں بساط خانہ سے متعلق اشیاءکراکری، ہوزری، ریڈی میڈ کپڑے، چوڑی کنگن اور کلجگی سونے کے نام پر پیتل کے پالش شدہ زیورات سب کچھ دستیاب ہے۔بساطی مسجد سے آواز اذان بلند ہورہی ہے آئیے لوٹ چلیں۔ فتح گنج، گنیش گنج وغیرہ کی زیارت آئندہ سفر میںکی جائے گی۔
یہ گوئن روڈ ہے ۔ یہاں غسل کے لئے حمام بھی ہیں۔ بال ترشوانے کی سہولت بھی ہے اور کپڑوں کی کثافت دور کرنے کے لئے ”پیرس لانڈری“ بھی جس کے دروازے چند گھنٹوں کے علاوہ ہمہ وقت کھلے رہتے ہیں۔ اسی سڑک پر وہ ریستوراں بھی ہے جس میں ظریف و بے باک شاعر رفیع احمد خاں اپنے شعری حمام میںشیخ و زاہد سب کو آئینہ دکھاتے تھے۔ اگر آپ کو ”ہنٹر والے کی بیٹی“ جیسی فلموں سے دلچسپی ہے تو سامنے ہی تو ہے رائل ٹاکیز آپ وہاں چند گھنٹے گزار سکتے ہیں۔ ذرا بڑھئے داہنی جانب اصلاح معاشرہ ، خدمت خلق اور زہد و تقویٰ کی تعلیم دینے والے جید علمائے کرام مولانا سید ابو الحسن علی ندوی (علی میاں) مولاناڈاکٹر عبد العلی حسنی ندوی، وغیرہ کی بابرکت رہائش گاہ بھی ہے اور حسنی فارمیسی بھی۔
یکہ اسٹینڈ چوک، نخاس، میڈیکل کالج، سٹی اسٹیشن، گولہ گنج ، سعادت گنج، اور ڈالی گنج وغیرہ جانے کے لئے سجے سجائے یکے، تانگے آپ کے منتظر ہیں یہ صرف ایک آنہ کرایہ لے کر آپ کو تہذیبی روایات کے امین خستہ حال پرانے لکھنو کے باشندوں تک پہونچادیں گے لیکن اس سفر سے پہلے امین آباد کاایک چکر مکمل کر لیجئے ۔امین آباد پارک کے گرد بڑی بڑی سجی سجائی دوکانیں دعوت نظارہ دے رہی ہیں۔ رکھب داس جیولرس سے ذرا بڑھ کر انوار بک ڈپو کے بر آمدے میں بہزاد لکھنوی، شوکت تھانوی، امین سلونوی، نسیم انہونوی، مولانا صبغت اللہ انصاری اور سراج لکھنوی وغیرہ سے ملتے چلئے اور بغل میں صدیق بک ڈپو کے مالک گاڑھا پوش ،قمیص پائجامہ ،صدری اور دو پلی ٹوپی میں ملبوس ،گورے چٹے ،سفید بال اور گول خوبصورت داڑھی والے، بازار کی مقبول شخصیت ،زود گو ،عالمی سیاست پر پنجاب میل کی رفتار سے تبصرہ کرتے ہوئے مولوی صدیق بھی جھانک رہے ہیںان سے ملئے ۔یہ چند گفتگو کئے بغیر آپ کو بڑھنے نہ دیں گے۔ سڑک پار کیجئے لکھنو ¿ کے مشہور گھڑی ساز ادارہ ”کاظم اینڈ کو“ کے مالک مہدی صاحب کرتا پائجامہ اور شیروانی میں ملبوس دوکان کے کسی گوشے میں مصروف گفتگو نظر آئیں گے۔
آئیے ! ہز ماسٹر وائس کے نئے نئے ریکارڈ،آپ خرید یں یا نہ خریدیں ، سن لیجئے سردار گراموفون، میں قدم رکھتے ہی کئی ریکارڈ وں پر سوئیاں گھومنے لگیں گی جیسے یہ آپ ہی کی منتظر ہوں۔ ریکارڈ سننے یا خریدنے کے بعد آگے بڑھئے ، سودیشی اسٹور کپڑے کی بڑی دوکان یہاں اونی ،ریشمی ،سوتی ہر قسم کا کپڑا بھی خرید سکتے ہیں اور کاﺅنٹر کے پیچھے رجو بابو سے مصروف گفتگو سیاسی رہنماﺅں سے ملاقات بھی کر سکتے ہیں۔
عشاء بعد ایک ضروری کام سے ملاقات کے لیے نگران محترم کا انتظار کیا جو کہ بہت طویل رہا، کبھی کمرے آ بیٹھتے، کبھی رواق کے سامنے ٹہلنے لگتے، کبھی شبلی کی گیلری میں فون استعمال کرتے تو کبھی بس یونہی ٹہلتے ہوئے مسجد کی طرف جاتے کہ شاید مولانا اب آ رہے ہوں۔ بالآخر مولانا آئے، اور ہم نے اپنا مدعا پیش کیا۔ مولانا ہلکے مایوس و ناراض ہوئے مگر الحمدللہ کام کر دیا۔ جزاک اللہ خیرا کثیرا۔۔۔ اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ڈیڑھ دن کا وقت صرف ہوا جس کے لیے ہم برادر عزیز عبداللہ فیض کے بہت ممنون و مشکور ہیں۔ آج رات ہم نہیں سوئے، کیوں نہیں سوئے اس کے لیے آپ کو اگلی قسط کا انتظار کرنا پڑے گا، جس میں اس چیز کی بھی وضاحت ہوگی کہ آخر ایسا کیا کام تھا جس کے مولانا نے ناراضگی کے باوجود سفارش کر دی، اور مکمل کاروائی میں ڈیڑھ دن کا وقت صرف ہوا۔ اور میرے بجائے عبداللہ فیض نے سب کیا۔ فی الحال ہم اسائمنٹ لکھیں گے اور اس کے بعد ایک ضروری تیاری کریں گے۔ ان شاءاللہ تعالیٰ........ جزاک اللہ خیرا.........
جاری............