ایں سعادت بزور بازو نیست
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
✍🏻گل رضاراہی ارریاوی
متعلم: دارالعلوم دیوبند
٢٩شوال المکرم ١٤٤٧ھ
بوقت ٢:٤٤ دوپہر
دوران سفر
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
طالبان علومِ نبویہ کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ ام المدارس دارالعلوم دیوبند میں تعلیم حاصل کرے ،اس کےلیے وہ پیہم سعی ،خوب جد وجہد کرتے ہیں ،قربانیاں دیتے ہیں ،رمضان و عید جیسے خوشی کے موقع کو بھی قربان کردیتے ہیں ،تکرار و مطالعہ میں لگ جاتے ہیں ،دعائیں کرتے ہیں ،رب کے حضور آہ وزاری کرتے ہیں ،صوم وصلاۃ کی پوری پابندی کرتے ہیں ، لایعنی امور سے مکمل اجتناب کرتے ہیں ،حتی الوسع کوشش کرتے ہیں کہ میرا رب راضی ہوجاۓ جس سے نسبت قاسمی میرا مقدر کا ستارہ بن جاۓ -
اس کے لیے طلبۂ مدارس امتحان دیتے ہیں ،امتحان اپنے آپ میں کیا ہی ستم ہے یہ طلبۂ مدارس سے بہتر جانتے ہیں ، سراسیمگی کا عالم ہوتا ہے ،،مدارس میں ششماہی و سالانہ امتحان کی کیا کم ہے ،اسی سے طلبہ اس اضطراب و بے چینی کے عالم میں ہوتے ہیں ،وہی امتحان ہضم کرنا دشوار ہوتاہے ،مگر دارالعلوم دیوبند و دارالعلوم وقف دیوبند اور مظاہر العلوم جیسے بڑے ادارے میں تعلیم حاصل کرنے کا شوق، اکابر کی نسبت حاصل کرنے کا جنون طلبہ کو امتحان کا یہ کڑوا گھونٹ پینے پر مجبور کردیتی ہے،ہرجگہ امتحان دیتے ہیں،اور مسلسل دیتے ہیں تاکہ کہیں تو نام آجاۓ ،اور میری طلب پوری ہوجاۓ ،اس دوران بہت صبر واستقامت سے کام لیتے ہیں ،سفر کی صعوبتوں کو برداشت کرتے ہیں -
جب ان میں سے کسی جگہ نام آجاتا ہے تو سارے غم ،ساری تکلیفیں بھول جاتے ہیں اور اور چہرے پہ مسکراہٹ آجاتی ہے اور سجدۂ شکر بجا لاتے ہیں
لیکن ؛نام نہیں آتا تو رضا بالقضاء کا اظہار ہوتے صبر کرلیتے ہیں اور مزید عزم مصمم کرتے ہیں کہ آئندہ دوبارہ کوشش کریں گے،دورۂ حدیث کے امیدوار طلبہ مزید دوسرے بڑے مدارس میں امتحان دیتے ہیں تاکہ بڑے ادارے سے فارغ ہوں ورنہ اپنے سابق ادارہ کا رخ کرتے ہیں -
خیر راقم بھی انہیں میں کا ایک طالب علم تھا جنہوں ان تمام مراحل کو پار کیا ،ہر طرح کے مشقت کو برداشت کیا،اس کے لیےتگ ودو کیا ،گزشتہ کئی مرتبہ امتحان دیا مگر زہے نصیب نام نہیں آیا ،لیکن ہمت نہیں ہار، امید و کوشش کے دامن کو نہیں چھوڑا اور اسی میں لگا رہا حتی ان کہ آخری مرحلہ پہ آگیا -
راقم کا دورۂ حدیث کا سال تھا ،دل میں عجیب سی بے چینی تھی ،شوق تھا ،فکر تھی ،جنون تھا کہ کسی طرح دارالعلوم کی درسگاہ ملے، وہاں کے اکابر سے کسب فیض ہو ،اس کےلیے راقم نے آوائل سال میں ہی والدہ ماجدہ کو یہ اطلاع دیدے تھی کہ میں رمضان میں گھر نہیں آؤں گا کیونکہ مجھے دارالعلوم میں داخلہ لینا ہے اور یہ بغیر قربانی کے مشکل ہے-
بے محنت پیہم کوئی جوہر نہیں کھلتا
روشن شرر تیشہ سے ہے خانۂ فرہاد
قربان جاؤں میں اپنے تمام ہی اساتذہ پر جنہوں نے مجھے دارالعلوم کے لیے محنت پر ابھارا ،اس چنگاری کو برقرار رکھا اور ہوا دیتے رہے ،امسال سالانہ چھٹی ہوئی ،طلبہ گھر جانے لگے ،لیکن میں نے یہ تہیہ کرلیا تھا کہ میں گھر نہیں جاؤں گا ،پھر تعلیم میں یکسوئی اور بہتر ماحول کی تلاش میں جامعہ دارالسلام حسن پور امروہہ چلا گیا -
بفضل اللہ وعونہ وہاں ایسے مربی ،مصلح اور ہادی ملے جنہوں نے ہماری تربیت واصلاح اور مکمل رہنمائی کی اور وہ تمام کام کراۓ جو ہمارے داخلے میں مفید ومعاون بنے-
ماشاءاللہ وہاں کے طلبہ پہلے سے ہی محنتی تھے وہ کہتے ہیں نا "صحبت صالح ترا صالح کند" وہی ہوا ، چونکہ ہم آزاد طبیعت کے تھے ،محنت وجفاکشی کے عادی نہیں تھے،لیکن جب ماحول ملا تو ہم بھی اسی رنگ میں رنگ گیے اور ہم میں بھی وہ اثر ظاہر ہونے لگا ،ہم بھی پڑھنے ،تکرار و مطالعہ کرنے لگے ،دعائیں اور ذکر واذکار کا خوب کرنے لگے ،درود شریف کا خوب اہتمام کرنے لگے تاکہ رب کریم اور اس کے حبیب کی توجہ مبذول ہوتو فضل ہوجاۓ -
خیر امتحان ہوا بس ایک الجھن تھی کیا پتا کیاہوگا اور دل میں امید و خوف کی کیفیت تھی ،جب دارالعلوم وقف اور مظاہر العلوم میں نام نہ آیا تو بے چینی بڑھ گئی کیا ہوگا دونوں جگہ نام نہیں آیا، مگر آخری امید قوی باقی تھی کیوں کہ" ان اللہ لایضیع اجر المحسنین" کہ اللہ تعالیٰ محسنین کے اجر کو ضائع نہیں کرتا -
بس دل میں یہی بات تھی کہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہوگا تو نام آۓ گا اور عدل ہوتو محروم ہوں گے ،کیوں کہ اللہ رب العزت اگر ہماری محنت پر کچھ دیدے تو یہ اس کا فضل ہے اور نہ دے تو یہ عین عدل ہے اس لیے کہ وہ قادر مطلق ہے اور مالک کو اپنے مملوکہ چیزوں میں تصرف کرنے کا مکمل اختیار ہوتا ہے -
لیکن ؛ہمارے مخلص احباب اور اساتذۂ کرام ہمارے لیے دعا کرتے رہے اور دعادیتے رہے اور حوصلہ بھی دیتے تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی کوششوں کو ضائع نہیں کرے گا -
نتیجہ آنے والا تھا ، آنکھیں اس کے دید کے منتظر تھی ،اسی دن میرے ایک استاذ محترم آۓ ہوۓ تھے ،ایک ساتھی نے اطلاع دی ان سے مل لیں ،خبر ملتے ہی میں حاضر خدمت ہوا ، وہاں سے فارغ ہو کر جب کمرے میں آیا تو امروہہ سے ایک ساتھی نے نتیجہ دیکھنے کو کہا پر ہمت نہیں ہوئی، لیکن پھر ہمت جٹائی اور دورد شریف اور استغفار کا ورد کرتے ہوۓ نتیجہ دیکھا ،اور دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فضل فرمایا ، اساتذہ ،اہل خانہ واحباب کی دعائیں میرے حق قبول ہوئی اور ہم بامراد ہوۓ ،راستے پر ہی راقم نے اپنے اہل خانہ کو اطلاع دی اور انہوں نے خوشی کا اظہار کیا ،پھر ہم نے سجدۂ شکر اور صلاۃ الشکر ادا کیا -
بعد ازاں اپنے اساتذۂ کرام اور احباب کو یہ خوش خبری سنائی، خوش ہوۓ، دعائیں دی اور مزید محنت کی ترغیب دی -
یہ نعمت مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل اور اساتذہ کرام واحباب کی خصوصی توجہات سے حاصل ہوا -
میں ان سب کا جتنا بھی شکر ادا کروں وہ کم ہے -
این سعادت بزور بازو نیست
تا نہ بخشد خداۓ بخشندہ
اللہ تعالیٰ مجھے اس نعمت کی قدر دانی کی توفیق عطاء فرمائے
اور اساتذۂ کرام، اہل خانہ اور احباب کو جزائے خیر عطا فرمائے آمین ثم آمین