مساجد کو آباد کریں
.............................
تحریر:
طوفان احمری
.............................
آج ہماری آبادی کتنی ہے،اور نماز پڑھنے والوں کی تعداد کتنی ہے؟
حالانکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے کیا خوبصورت ارشاد فرمایا:
(وأن المساجدللہ فلاتدعو مع اللہ أحدا)
اور آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کا ارشاد ہےجس کا مفہوم ہے:
"جس نے اللہ کے لیے مسجد بنائی،اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنائیں گے"
مسجدنماز کے لیےبنائی جاتی ہے،اوریقیناً ایک مؤمن کا دل ہر وقت مسجد کے لیے بے تاب رہتا ہے۔
نبی علیہ الصلاۃ والسلام کا ارشاد مبارک ہےجس کا مفہوم ہے:
"مومن مسجد میں ایسے خوش رہتا ہے ،جیسے مچھلی پانی میں"
جیسے مچھلی پانی سے باہر تڑپتی رہتی ہے،مومن بندہ بھی مسجد سے باہر ایسے ہی مسجد آنے کے لیے تڑپتا رہتاہے،اسے سکون اور اطمینان مسجد ہی میں ملتا ہے،
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہماری مساجد میں سے چند مساجد کفار کے قبضے میں ہیں۔
جیسا کہ بابری مسجد،
مسجد قرطبہ،مسجد اقصیٰ۔
ہم ان مساجد کی ایک ایک اینٹ کے بدلے جان دینے کی بجائے ہم نے تو نماز سے ہی غفلت برتنی شروع کردی،آج آپ دیکھ لیں،مساجد ویران ہیں،
آج ہماری کروڑوں میں آبادی ہے،مگر نمازی مفقود۔
جب میں نے صحابہ کرام کاقرآن مجید سےشغف،نماز میں،خشوع و خضوع کا عالم دیکھا،پھر ایک نظر امت پر ڈالی تو یقین جانیے،میں نے اہل غزہ کو صحابہ کرام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دیکھا۔جنہوں نے نہ صرف مسجد سے محبت کا حق ادا کیا،بلکہ امت کو بدر وخندق اوراحد کی یاد بھی دلائی۔
جہاں انہوں نے" مسجد اقصیٰ" کے زخموں پر مرہم رکھا،اپنے زخموں سے چور بدن کے ساتھ سجدہ کرکے جسم سے معذور ہونے کے باوجود نماز ادا کر کے جہاں یہ اہل غزہ کے لیےآخرت کا ذخیرہ ہے،وہیں امت کے لیےمسجد سے محبت کا،دین سے الفت کا ایک سبق ہے۔
آئیے ہم اہل غزہ کی طرح اہل عزیمت تو نہیں ہیں،مگراہل غزہ کی طرح نمازی تو بن سکتے ہیں۔
انشاء اللہ ایک دن جب مسجدِاقصیٰ آزاد ہوگی،تو ہم اس قابل تو ہوں کہ ہم نےنماز سے محبت آپ کے باسیوں سے سیکھی۔
شاید کہ ہماری اسی نسبت سے بروز محشرہمیں بھی قدس کے محافظوں میں شمار کر لیا جائے۔