ریجیکٹ کر دیا جائے تو اس کا مطلب بدصورت ہونا نہیں ہوتا
ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو اکثر ان کی شکل و صورت اور لوگوں کی رائے کے پیمانے پر پرکھا جاتا ہے۔
اگر کہیں منگنی ٹوٹ جائے، رشتہ نہ ہو یا کوئی انکار کر دے
تو فوراً یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ شاید اس لڑکی میں کوئی کمی ہے،
وہ خوبصورت نہیں
یا وہ بیمار ہے
کم عقل ہے
یا اس میں کوئی خامی ہے۔
حالانکہ حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔
ریجیکٹ ہونا زندگی کا ایک عام حصہ ہے،
کسی کا انکار آپ کی قدر و قیمت کا فیصلہ نہیں کرتا۔
ہر انسان کی پسند، سوچ اور حالات مختلف ہوتے ہیں۔
ممکن ہے کہ جو شخص آپ کو قبول نہ کر سکا، وہ آپ کے لیے بہتر نہ ہو۔
لڑکیوں کو یہ سکھانا بہت ضروری ہے کہ ان کی خوبصورتی صرف ظاہری شکل میں نہیں بلکہ ان کے اخلاق، کردار، سوچ اور خود اعتمادی میں ہوتی ہے۔
ایک مضبوط اور باوقار لڑکی وہ ہوتی ہے جو خود کو دوسروں کی رائے کے مطابق نہیں بلکہ اپنی پہچان سے پہچانتی ہے۔
رشتہ نہ ہونا یا رشتہ ٹوٹ جانا زندگی کا اختتام نہیں ہوتا۔
یہ صرف ایک حالات کی طرح ہے،۔
زندگی میں خوشیاں صرف ایک شخص یا ایک رشتے سے وابستہ نہیں ہوتی
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بے حد محبت کرتا ہے۔
وہ بہتر جانتا ہے کہ ہمارے لیے کیا اچھا ہے اور کیا نہیں۔
کبھی کبھی جو چیز ہمیں بہتر لگتی ہے، وہی ہمارے لیے نقصان کا سبب بن جاتی ہے۔
لہٰذا
اگر کوئی آپ کو ریجیکٹ کر دے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ بدصورت یا کمتر ہیں۔ آپ اپنی جگہ قیمتی، خوبصورت اور قابلِ احترام ہیں۔
عائشہ ❤