انسان، اس مسافرِ کوچۂ ہستی کو ازل سے طلبِ سرور نے بے قرار رکھا ہے؛ کبھی وہ جلوۂ محفل میں اپنے دل کی تسکین ڈھونڈتا ہے، کبھی آغوشِ اُنس میں، اور کبھی رفاقتِ جاں میں راحت کا سامان تلاش کرتا ہے۔ بلاشبہ حیاتِ ازدواج ایک نازک و لطیف رشتہ ہے، مظهرِ مودّت و رحمت، مگر اس کے پہلو بہ پہلو ایک اور جہانِ کیف بھی آباد ہےخاموش، مہذب، مگر نہایت عمیق—اور وہ ہے مطالعۂ کتب کا سحرِ دلنواز۔
جب قاری سرِ تسلیم خم کر کے اوراقِ کتاب میں محوِ تماشا ہوتا ہے تو گویا وہ ایک ایسی بزمِ اسرار میں داخل ہو جاتا ہے جہاں ہر لفظ، چراغِ معنی، اور ہر سطر، دریچۂ بصیرت بن کر جلوہ گر ہوتی ہے۔ یہاں نہ غوغائے زمانہ کی گرد ہے، نہ ہنگامۂ دنیا کا شور؛ فقط ایک سکوتِ پُر رمز ہے جس میں فکر کے نغمے خاموشی سے دل کی وادیوں میں گونجتے ہیں۔
یہ وہ کیف ہے جو نہ صرف ذہن کو جِلا بخشتا ہے بلکہ روح کے نہاں گوشوں کو بھی منور کر دیتا ہے۔ قاری جب سطر بہ سطر آگے بڑھتا ہے تو گویا اپنے ہی وجود کے آئینۂ باطن میں جھانکنے لگتا ہے، اور اسے اپنے اندر ایک نئی کائنات کی نمود محسوس ہوتی ہےایسی کائنات جہاں سوال بھی اس کے اپنے ہوتے ہیں اور جواب بھی۔
عالمِ محسوس کی لذتیں اپنی جگہ دلکش سہی، مگر وہ اکثر عارضی اور فانی ہوتی ہیں؛ جب کہ سرورِ مطالعہ ایک ایسا جامِ بے خودی ہے جس کی تاثیر دیرپا اور اثرات ہمہ گیر ہوتے ہیں۔ یہ وہ رفیقِ خاموش ہے جو نہ صرف تنہائی کو مونس بنا دیتا ہے بلکہ انسان کو اپنے ہی وجود کا ہمراز بھی کر دیتا ہے۔
پس، اے جویاے حقیقت! اگر تُو لذت کے اُس مقام کا متلاشی ہے جہاں دل کو سکون اور عقل کو جِلا نصیب ہو، تو عطرِ اوراق کو اپنی زندگی کا سرمایہ بنا لے۔ کہ یہی وہ سرورِ مستور ہے جس کے آگے بہت سی مرئی و محسوس لذتیں بھی محض سراب محسوس ہوتی ہیں، اور یہی وہ ہمسفرِ وفادار ہے جو تجھے خود تیری ذات کے اسرار سے آشنا کر دے گا۔
محمد مصعب پالنپوری