🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ

انسانی دل عجیب رازوں کا امین ہے۔ اس کی گہرائیوں میں ایسے ان گنت جذبات، تمنائیں، حسرتیں اور دعائیں پوشیدہ ہوتی ہیں جو کبھی لفظوں کا لبادہ اوڑھ ہی نہیں پاتیں۔ یہ وہ خاموش صدائیں ہیں جو ہونٹوں تک آتے آتے کہیں تھم جاتی ہیں، اور پھر دل ہی کے کسی گوشے میں دب کر رہ جاتی ہیں۔ مگر کیا واقعی وہ خاموش ہو جاتی ہیں؟ نہیں…! یہ وہ پکار ہے جو اگرچہ زبان تک نہ آ سکے، مگر عرش تک ضرور پہنچتی ہے۔

دل کی یہ پکار کبھی ندامت کی صورت میں ابھرتی ہے، جب بندہ اپنی کوتاہیوں پر نظر ڈالتا ہے اور اس کی آنکھیں بے اختیار نم ہو جاتی ہیں۔ وہ کچھ کہنا چاہتا ہے، بہت کچھ کہنا چاہتا ہے، مگر الفاظ اس کے ساتھ نہیں دیتے۔ اس کا دل لرزتا ہے، روح کانپتی ہے، اور ایک بے نام سی کیفیت اس پر طاری ہو جاتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب خاموشی بھی فریاد بن جاتی ہے، اور آنسو دعا کا روپ دھار لیتے ہیں۔

کبھی یہی پکار محبت کی شدت میں ڈھل جاتی ہے۔ بندہ اپنے رب سے ایسا تعلق محسوس کرتا ہے جسے بیان کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ وہ چاہتا ہے کہ اپنے جذبات کو الفاظ میں پرو دے، مگر ہر لفظ بے معنی محسوس ہونے لگتا ہے۔ تب دل ہی دل میں ایک سرگوشی سی ہوتی ہے ایک ایسی سرگوشی جو نہ کانوں سے سنی جا سکتی ہے اور نہ زبان سے ادا، مگر رب کے حضور پوری طرح واضح ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ دلوں کے بھید جاننے والا ہے، نیتوں کی گہرائیوں کو سمجھنے والا ہے۔
یہ پکار کبھی دکھوں کا بوجھ اٹھائے ہوتی ہے۔ انسان دنیا کے ہجوم میں خود کو تنہا محسوس کرتا ہے، اپنے مسائل کا بوجھ کسی کے ساتھ بانٹ نہیں پاتا، اور خاموشی کو ہی اپنا ساتھی بنا لیتا ہے۔ مگر اسی خاموشی میں ایک چیخ چھپی ہوتی ہے ایک ایسی چیخ جو شاید کوئی انسان نہ سن سکے، مگر خالقِ کائنات کے ہاں اس کی بازگشت ضرور پہنچتی ہے۔ وہ سنتا ہے، سمجھتا ہے، اور ایسے راستے کھول دیتا ہے جن کا گمان بھی نہیں ہوتا۔

دل کی وہ پکار دراصل انسان کی اصل حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے۔ یہ دکھاتی ہے کہ بندہ اپنی کمزوریوں، اپنی محتاجی اور اپنی بے بسی کے ساتھ کس طرح اپنے رب کے سامنے جھکتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب نہ کوئی بناوٹ باقی رہتی ہے، نہ کوئی دکھاوا۔ صرف سچائی رہ جاتی ہے ایک خالص، بے ساختہ اور بے لوث سچائی۔

کتنی عجیب بات ہے کہ ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ دعا صرف وہی ہے جو زبان سے ادا کی جائے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اصل دعا وہ ہے جو دل سے نکلے، جو روح کی گہرائیوں سے ابھرے، جو آنکھوں کی نمی میں جھلکے اور خاموشی میں پلتی رہے۔ یہی وہ دعا ہے جو سب سے زیادہ اثر رکھتی ہے، کیونکہ اس میں اخلاص ہوتا ہے، سچائی ہوتی ہے، اور ایک بے ساختہ تڑپ ہوتی ہے۔
پس، اگر کبھی تمہارے پاس الفاظ نہ ہوں، اگر تم کچھ کہہ نہ سکو، اگر تمہاری زبان ساتھ نہ دے—تو مایوس مت ہونا۔ اپنے دل کی اس خاموش پکار کو سنبھال لو، اسے اپنے رب کے حضور پیش کر دو۔ کیونکہ وہ نہ صرف زبان کی آواز سنتا ہے بلکہ دل کی دھڑکنوں کو بھی پڑھ لیتا ہے۔ وہ ان آنسوؤں کی زبان سمجھتا ہے جو بہنے سے پہلے ہی دل میں جذب ہو جاتے ہیں۔

دل کی وہ پکار جو زبان تک نہ آ سکی، کبھی ضائع نہیں جاتی۔ وہ محفوظ رہتی ہے، سنی جاتی ہے، اور اپنے وقت پر قبول بھی ہوتی ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ وہ سچی ہو، خالص ہو، اور امید کے چراغ سے روشن ہو۔
اور شاید یہی انسان کی سب سے بڑی طاقت بھی ہے… کہ وہ خاموش رہ کر بھی اپنے رب سے سب کچھ کہہ سکتا ہے۔