ایک روحانی و نورانی ملاقات
✍️ محمد علی سبحانی
نیک لوگوں سے محبت کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔ یہی محبت انسان کے دل میں اللہ والوں کی صحبت کی طلب پیدا کرتی ہے اور اسے ان کی زیارت کے لیے بےقرار رکھتی ہے۔ میرے دل میں بھی ہمیشہ یہ آرزو موجزن رہی ہے کہ اللہ کے نیک بندوں کی صحبت نصیب ہو، ان کے فیوض و برکات سے دل کو منور کرنے کا موقع ملے۔ چنانچہ جب کبھی کسی صاحبِ نسبت اور بااعتماد شخصیت کے بارے میں کچھ سننے کو ملتا تو دل بےتاب ہو اٹھتا کہ کسی نہ کسی طرح ان کی زیارت ہوجائے ، ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہو جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نیک بندوں سے ملاقات کے بعد دل میں جو سکون، فرحت اور نورانی کیفیت پیدا ہوتی ہے، اسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔
حضرت استاذِ محترم قاری جمشید علی صاحب دامت برکاتہم، جو دارالعلوم دیوبند کے استاذِ تجوید و قرأت اور صدر القراء ہیں، اکثر اپنے استاذِ گرامی مولانا قاری عبداللہ سلیم صاحب دامت برکاتہم (سابق صدر القراء دارالعلوم دیوبند اور بانی و شیخ الحدیث معہد تعلیم الاسلام ،شکاگو، امریکہ) کا تذکرہ نہایت محبت اور عقیدت سے فرمایا کرتے تھے۔ ان کے زمانۂ طالب علمی کے واقعات جب بھی سنتا تو دل میں بار بار یہ خواہش جنم لیتی کہ کاش مجھے بھی ان بزرگ کی زیارت نصیب ہو جائے۔ ایک تو استاذ کے استاذ ہونے کا شرف، اور دوسرے عالی سند ہونے کی وجہ سے یہ اشتیاق اور بھی بڑھ جاتا تھا۔
اللہ تعالیٰ کو شاید میری یہ تمنا منظور تھی، چنانچہ وہ مبارک دن بھی آ پہنچا۔ معلوم ہوا کہ حضرت ہندستان تشریف لائے ہوئے ہیں۔ دل خوشی سے جھوم اٹھا اور ملاقات کا شوق مزید بڑھ گیا۔ بالآخر 8 اپریل 2025ء کو، حضرت محترم قاری جمشید علی صاحب اور قاری محمد اخلد صاحب کی معیت میں، مجھے بھی حضرت کی خدمت میں حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ یہ بابرکت ملاقات مفتی یاسر ندیم الواجدی صاحب کے دولت کدہ پر ہوئی (حضرت قاری عبداللہ سلیم صاحب، مفتی یاسر صاحب کے نانا ہیں)۔
جب میں نے حضرت کی خدمت میں سلام عرض کیا اور مصافحہ کیا تو دل کی کیفیت عجیب تھی؛ عقیدت، محبت اور خوشی سب یکجا ہو گئے تھے۔ حضرت نہایت وجیہ اور نورانی چہرے کے مالک ہیں۔ ایک تو ظاہری حسن سے اللہ تعالیٰ نے نواز ہے اور دوسرا پوری زندگی قرآن و حدیث پڑھنے پڑھانے میں گزاری ہے، اسکی الگ ہی برکت اور الگ ہی نور ہوتا ہے،اگرچہ بڑھاپے اور علالت کی وجہ سے کمزوری نمایاں تھی، مگر اس کے باوجود ان کے چہرے پر ایک خاص وقار اور روحانیت جھلک رہی تھی۔ جب قاری جمشید صاحب نے میرا تعارف کروایا تو حضرت فرمانے لگے:
“اچھا ہے، چلو زندگی میں دیکھ لیا۔”
ناشتے کا وقت ہوا تو حضرت آہستہ آہستہ لاٹھی کے سہارے ڈائننگ ایریا کی طرف تشریف لے گئے۔ ہم سب بھی ہمراہ تھے۔ ان کا اندازِ میزبانی نہایت دلنشیں تھا، پہلے سب کو بٹھایا، پھر خود تشریف فرما ہوئے اور ہر ایک کو الگ الگ مخاطب کرکے کھانے کی ترغیب دیتے رہے۔ یہ انکساری اور شفقت دیکھ کر دل مزید متاثر ہوا۔
ناشتے کے دوران حضرت اور قاری جمشید صاحب کے درمیان تجوید کی باریکیوں، قرأت کے نکات اور اجازتِ حدیث کے حوالے سے نہایت علمی گفتگو ہوتی رہی۔ ہم سب خاموشی سے اس علمی فیض سے مستفید ہو رہے تھے۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ کسی طرح مجھے بھی قرآنِ مجید کی چند آیات سنانے کا موقع مل جائے۔
آخرکار ہمت کرکے میں نے اپنے حضرت قاری صاحب سے عرض کیا کہ ہم بھی حضرت کے سامنے کچھ آیات تلاوت کرنا چاہتے چاہتے ہیں، اور انہوں نے حضرت کی خدمت میں اجازت طلب کی۔ حضرت نے نہایت شفقت سے فرمایا: “سناؤ!”
میں نے تعوذ و تسمیہ کے ساتھ سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کی۔ تلاوت کے بعد حضرت نے مسکراتے ہوئے قاری جمشید صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ قاری صاحب کے لہجے میں نہیں پڑھتے ہو آپ نے سدیس کے لہجے میں پڑھا ہے۔ ان کی یہ شفقت بھری اصلاح میرے لیے باعثِ سعادت تھی۔ میں نے آہستہ سے عرض کیا کہ ان شاء اللہ اس لہجے میں بھی سیکھنے کی کوشش کروں گا۔ اس پر قاری جمشید صاحب نے حضرت سے فرمایا کہ یہ آپ کے لہجہ سیکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، میں پڑھاؤں گا ان کو۔
اس لمحے کی جو کیفیت تھی، اسے بیان کرنےسے میں قاصر ہوں۔ دو عظیم المرتبت اساتذہ، ایک سابق صدر القراء و شیخ الحدیث، اور دوسرے صدر القراء دارالعلوم دیوبند, کے سامنے تلاوت کرنا، ان کی توجہ حاصل کرنا اور ان کے فیض سے مستفید ہونا میرے لیے ایک ناقابلِ فراموش سعادت ہے۔
اس مجلس میں قرآن و حدیث کا ذکر، تجوید کے مسائل اور علمی گفتگو کا جو ماحول تھا، وہ یقیناً رحمتِ الٰہی کے نزول کا سبب بن رہا تھا۔ اس وقت دل میں یہ احساس شدت سے پیدا ہوا کہ اللہ والوں کی صحبت میں بیٹھنا کس قدر بڑی نعمت ہے۔ جیسے بارش ہر چھت پر یکساں برستی ہے، اسی طرح اللہ کی رحمت بھی ان مجالس میں شامل ہر شخص کو اپنے حصے کا فیض عطا کرتی ہے، خواہ وہ کتنا ہی گناہگار کیوں نہ ہو۔
بعد ازاں قاری محمد اخلد صاحب نے بھی نہایت پر لطف انداز میں تلاوت کی، جس پر حضرت نے “ماشاء اللہ” فرمایا۔ پھر تجوید کے مزید نکات پر گفتگو جاری رہی۔ اسی دوران قاری واصف عثمانی صاحب (استاذ دارالعلوم وقف دیوبند) بھی تشریف لے آئے اور مجلس مزید رونق افروز ہو گئی۔ وہ بھی حضرت کو سننے میں مصروف ہوگۓ۔
پھر ہم ڈایننگ سے لیونگ ایریا میں تشریف لے گئے اور وہی گفتگو جاری رہی۔
کافی دیر تک یہ علمی و روحانی نشست جاری رہی، حتیٰ کہ دیگر مہمانوں کی آمد کا سلسلہ بڑھنے لگا۔ آخرکار ہم نے اجازت چاہی اور دل میں انمول یادیں سمیٹے رخصت ہو گئے۔
بلاشبہ یہ میرے لیے ایک عظیم سعادت اور باعثِ فخر لمحہ ہے کہ جن بزرگ کا تذکرہ میں اپنے استاذ کی زبان سے سنا کرتا تھا، آج ان کی زیارت نصیب ہوئی اور ان کے سامنے قرآنِ مجید کی تلاوت کا شرف حاصل ہوا۔ یہ ملاقات محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک ایسی یادگار سعادت ہے جس کی خوشبو مدتوں میرے دل کو معطر رکھے گی۔
اللہ تعالیٰ ان دونوں اساتذۂ کرام کو صحت و عافیت عطا فرمائے، ان کی دینی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے اور ان کا سایہ ہم پر تا دیر قائم رکھے۔ آمین۔
بندہ،
محمد علی سبحانی
دیوبند
١١ اپریل ٢٠٢٦
٢٣ شوال ١٤٤٧ھ