بیٹا کرے تو الزام ہی الزام اور داماد کرے تو انعام ہی انعام

ہمارے معاشرے میں ایک عجیب تضاد پایا جاتا ہے کہ اگر بیٹا اپنی بیوی کی دیکھ بھال کرے، اس کی ضروریات کا خیال رکھے تو بعض اوقات ماں اور دوسرے رشتہ داروں کی طرف سے یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ یہ تو بیوی کا غلام بن گیا ہے، بیوی کے سوا کوئی دکھتا ہی نہیں جبکہ اگر کوئی داماد اپنی بیٹی کے ساتھ حسنِ سلوک کرے تو اسی رویے کو سراہا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ماشاء اللہ! بہت اچھا اور سنسکاری لڑکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ طرزِ فکر ایک غیر متوازن سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس میں ذاتی نسبتوں کو معیار بنا لیا گیا ہے حالانکہ شریعتِ اسلامیہ نے اس معاملے میں نہایت واضح اور متوازن رہنمائی دی ہے۔۔۔۔۔۔۔
اسلام نے جہاں والدین کے حقوق کو انتہائی اہمیت دی ہے اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کو بڑی عبادت قرار دیا ہے وہیں بیوی کے حقوق کو بھی واضح طور پر متعین کیا ہے۔ بیوی شوہر کی ذمہ داری ہوتی ہے اس کی کفالت، اس کے ساتھ حسنِ معاشرت یہ سب شریعت کے مقرر کردہ حقوق میں شامل ہیں لہٰذا اگر ایک شخص اپنی بیوی کا خیال رکھتا ہے تو وہ کوئی اضافی یا غیر معمولی کام نہیں کر رہا بلکہ وہ اپنی شرعی ذمہ داری ادا کر رہا ہے۔ اسے غلامی سے تعبیر کرنا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ شریعت کے مزاج کے بھی خلاف ہے۔۔۔۔۔۔۔
اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ بیٹا اپنے والدین کے حقوق کو بھی پورا کرے، ان کی خدمت اور احترام میں کوئی کمی نہ آنے دے۔ اصل مطلوب توازن ہے۔ نہ والدین کے حقوق میں کوتاہی ہو اور نہ بیوی کے حقوق نظر انداز ہوں۔۔۔۔۔۔۔
اکابرین نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ رشتوں میں توازن قائم رکھا جائے کیونکہ کسی ایک حق کو نظر انداز کرنا دوسرے حق کی ادائیگی کو بھی مشکوک بنا دیتا ہے لہٰذا معاشرے کو چاہئے کہ وہ اس طرح کے جملوں اور طعنوں سے اجتناب کرے اور ایک متوازن اور شرعی سوچ کو فروغ دے تاکہ گھر سکون کا گہوارہ بنیں نہ کہ ذہنی کشمکش کا میدان۔۔۔۔۔۔۔

 ✍️ محمد پالن پوری