ایک پھول جو ابھی مسکرایا بھی نہ تھا.
ایک ننھا پھول جسے دنیا میں آۓ ہوے چند دن ہی ہوے تھے، ابھی تو سب اس ننھے مہمان کی آمد کی خوشیاں منا رہے تھے، ابھی چند دن ہی ہوے تھے اسے دنیا میں آنکھیں کھولے ہوے، ابھی تو اس نے دنیا کو پہچانا بھی نہ تھا، کیا خبر تھی کہ وہ اپنے مالک حقیقی سے ملاقات کرنے والا ہے، کیا خبر تھی کہ وہ اپنے والدین کو تنہا کر جانے والا ہے، ان کی آنکھوں کا تارہ ان کی آنکھوں میں نمی چھوڑ جانے والا ہے، کیا خبر تھی کہ وہ اپنے رب سے اتنی ہی عمر لکھوا کے لایا تھا. وہ ننھا پھول، معصوم سا چہرہ، کفن میں لپٹا ہوا پرسکون اور ابدی نیند سو رہا تھا... 
تھوڑے ہی دنوں میں وہ ننھی سی جان بیماری سے لڑتے ہوۓ ماں کی گود سے قبر کی گود میں جا لیٹا... 
    بظاہر آنکھیں نم تھیں لیکن اسے دیکھ کر دل میں یہ خیال آیا کہ کتنی اچھی موت ہے کتنا پاکیزہ ہو کر یہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والا ہے کتنا صاف شفاف گناہوں سے بری، نہ قبر کے سوالوں کا خوف نہ قبر کے عذاب کا، نہ حشر کے دن کی ذلت و رسوائ کا خطرہ، اور والدین کے لیۓ ذریعۂ نجات، کاش..! اللہ نے مجھے بھی اتنی ہی عمر دے کر دنیا میں بھیجا ہوتا. 
 کاش...! میں بھی اپنے رب سے اسی حال میں ملتی پاکیزہ روح ہو کر، بالکل صاف شفاف، گناہوں سے بری، ہر خوف سے آزاد ہو کر...!!

✍️بنت شہاب💫