(8)مضمون 

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

-----------------------

از قلم محمودالباری. mahmoodulbari342@gmail.com 8292552391 

==============

،،،ایک شفیق اور مہربان والد اپنے بچوں کی پرورش کیسے کرے؟

_________________

والدین بچے کی شخصیت کے معمار ہوتے ہیں۔ اگرچہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ تربیت میں ماں کا کردار زیادہ نمایاں ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ والد کی حیثیت ایک ستون جیسی ہے۔ خاص طور پر وہ والد جو غیر تعلیم یافتہ ہیں، اکثر یہ سوچتے ہیں کہ وہ تربیت کیسے کریں؟ یاد رکھیں! تعلیم نہ ہونے کے باوجود آپ اپنی اولاد کی بہترین تربیت کرسکتے ہیں، اگر محبت، دینی شعور اور اچھی عادات کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں۔

وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ"

(اور عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزاریں ) [النساء: 19]

"وَلْيَخْشَ ٱلَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا۟ مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةًۭ ضِعَـٰفًۭا خَافُوا۟ عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَلْيَقُولُوا۟ قَوْلًۭا سَدِيدًۭا"

(وہ لوگ ڈریں کہ اگر وہ اپنے پیچھے کمزور اولاد چھوڑ جائیں تو ان کے بارے میں خوف کریں گے، پس چاہیے کہ اللہ سے ڈریں اور سیدھی بات کریں) [النساء: 9]

   حدیثِ نبوی ﷺ:

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

"کفی بالمرء إثماً أن یضیع من یعول"

(کسی شخص کے گناہگار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے زیر کفالت لوگوں کو ضائع کرے) [ابوداؤد]

"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں۔" [ابن ماجہ]

1. محبت اور شفقت: بنیادِ تربیت

بچوں کی تربیت محبت سے شروع ہوتی ہے۔ ڈر یا مار پیٹ سے نہیں بلکہ شفقت سے ان کے دل جیتے جاتے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا:

"تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہتر ہو۔" (ابن ماجہ)

لہٰذا بچوں کے ساتھ مہربانی کریں، ان کی بات سنیں، اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ آپ ان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔

2. دین کو ترجیح دیں

والد کو چاہیے کہ اپنی بساط کے مطابق دین کی بنیادی باتیں سیکھے اور بچوں کو سکھائے۔ نماز، سچائی، امانت داری اور حلال روزی کے بارے میں بات کرے۔

نبی ﷺ نے فرمایا:

"اپنے بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو۔" (ابوداؤد)

3. وقت دینا سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے

والد اگر بچوں کو وقت نہیں دیتا تو بچے والد سے دور ہوجاتے ہیں۔ روزانہ کچھ وقت بچوں کے ساتھ کھیلنے، بات کرنے اور ان کی ضروریات سمجھنے میں گزاریں۔

4. اچھے ماحول کا انتخاب

بچوں کو برے دوستوں اور غلط ماحول سے بچائیں۔ انہیں مسجد، مدرسہ، اور ایسے اسکول میں داخل کریں جہاں تعلیم کے ساتھ اخلاق بھی سکھایا جائے۔

5. اخلاقی تربیت: سب سے بڑا ہنر

والد کی سب سے بڑی تعلیم اس کا اپنا عمل ہے۔ اگر والد جھوٹ نہیں بولتا، محنت کرتا ہے، اور دوسروں سے نرمی سے پیش آتا ہے تو بچہ بھی یہی سیکھتا ہے۔

6. ماں کے ساتھ تعاون

گھر میں امن اور محبت کا ماحول بچوں کی تربیت میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ والد کو چاہیے کہ ماں کے ساتھ مل کر بچوں کی نگرانی کرے۔

    ، نتیجہ، 

غیر پڑھا والد بھی اپنی محبت، دین داری، اور عمل سے بچوں کو کامیاب اور نیک بنا سکتا ہے۔ یاد رکھیں! تعلیم ضروری ہے، لیکن کردار سب سے بڑی تعلیم ہے۔

کتابچہ: "والد کی ذمہ داریاں اور بچوں کی تربیت"

صفحہ 1: عنوان اور تعارف

عنوان: ایک شفیق والد کی رہنمائی

تعارف: یہ کتابچہ ان والدین کے لیے ہے جو اپنے بچوں کو بہترین انسان بنانا چاہتے ہیں۔

صفحہ 2: والد کی اہم ذمہ داریاں

، محبت اور شفقت دینا

، رزقِ حلال کا انتظام

، دین سکھانا اور عمل کرنا

، بچوں کو وقت دینا

، ماں کے ساتھ تعاون، 

صفحہ 3: عملی نکات (روزمرہ کے لیے)

بچوں کو دن میں کم از کم 10 منٹ پیار سے بات کریں۔

نماز پڑھتے وقت بچوں کو ساتھ لے جائیں۔

جھوٹ نہ بولیں، گالی نہ دیں۔

بچوں کو غلطی پر مارنے کے بجائے سمجھائیں۔

اسکول کے کام کے لیے کسی پڑھے لکھے شخص سے مدد لیں۔

صفحہ 4: والد کے لیے چند سنہری اصول

، کبھی بچوں کو دوسروں سے مت сравنہ کریں۔

، بچوں کے سامنے والدہ کی عزت کریں۔

، بچوں کو چھوٹی کامیابی پر شاباش دیں۔

، ہر حال میں حلال کمائی کریں۔

صفحہ 5: دعائیں اور حوصلہ افزائی

"اے اللہ! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا، اے میرے رب! اور مجھے اور میری اولاد کو برائی سے بچا۔" (قرآن)

صفحہ 6: تاریخی مثالیں (اولیاء اور علماء)

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ

امام احمد بن حنبل کے والد ایک عام سپاہی تھے اور ان کی وفات امام احمد کی پیدائش سے پہلے ہی ہو گئی۔ ان کی والدہ نے تنہا تربیت کی، لیکن چونکہ وہ بھی زیادہ تعلیم یافتہ نہ تھیں، انہوں نے بچے کو محنت، دینداری اور صبر کا عادی بنایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ امام احمد بن حنبل تاریخ اسلام کے عظیم محدث اور فقیہ بنے۔

امام بخاری رحمہ اللہ

امام بخاری کے والد اسماعیل زیادہ پڑھے لکھے نہ تھے لیکن دیانتدار، حلال کمانے والے اور نیک انسان تھے۔ ان کا کہنا تھا: "میں نے اپنی زندگی میں کبھی مشکوک کمائی نہیں کھائی۔" یہی حلال روزی امام بخاری کے دل کو ایسا نور بخش گئی کہ وہ دنیا کے سب سے بڑے محدث بنے۔

حضرت رابعہ بصری رحمہا اللہ

رابعہ بصری رحمہا اللہ کے والد ایک غریب مگر پرہیزگار شخص تھے، زیادہ علم نہیں رکھتے تھے مگر اولاد کو اللہ کے سپرد کر کے ان کی تربیت کو نیک نیت سے کیا۔ رابعہ بصری صوفیاء میں ایک عظیم مقام تک پہنچیں۔

حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ

حضرت اویس قرنی کے والد زیادہ علم والے نہ تھے، لیکن ماں کے حقوق کا خیال رکھنے اور تقویٰ کی تاکید کرتے رہے۔ اویس قرنی اس مقام پر پہنچے کہ نبی ﷺ نے صحابہ کو فرمایا:

"یمن میں ایک شخص ہے اویس، جس کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اگر اسے پاؤ تو اس سے دعا کرانا۔" (مسلم)

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ

ان کے والد غیر تعلیم یافتہ تھے، لیکن انتہائی دیندار، شریعت کے پابند اور اپنی اولاد کی تربیت کے معاملے میں سنجیدہ تھے۔ ان کی دینداری اور نیک نیتی کی وجہ سے مولانا تھانوی "حکیم الامت" کے لقب سے یاد کیے گئے۔

بیشک اولاد کی صحیح تربیت سب سے بڑی نعمت اور والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔

اللہ تعالیٰ سب والدین کو یہ سعادت اور ہمت عطا فرمائے کہ وہ اپنی اولاد کو نیک، صالح اور دین دار بنا سکیں، اور وہ اولاد والدین کے لیے صدقۂ جاریہ بنے۔ 

     آمین ثم آمین