*حضرت مولانا مفتی ڈاکٹر یاسر ندیم الواجدی صاحب سے بابرکت ملاقات اور کتاب فتنۂ ارتداد پر تقریظ کے سلسلے میں اہم پیش رفت*

*خامہ بکف محمد عادل ارریاوی* 
________________________________
آج بروز سوموار 17 شوال المکرم قبل از نمازِ عشاء دارالکتاب دیوبند میں حضرت مولانا مفتی ڈاکٹر یاسر ندیم الواجدی صاحب سے ایک خصوصی اور بابرکت ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ یہ ملاقات میری زیرِ ترتیب آنے والی کتاب فتنۂ ارتداد پر تقریظ لکھوانے کے سلسلے میں تھی۔
حضرت نے نہایت توجہ سنجیدگی اور گہرے مطالعے کے ساتھ میری اس کاوش کا جائزہ لیا جس پر میں دل کی گہرائیوں سے ان کا شکر گزار ہوں۔ مطالعہ کے بعد حضرت نے نہایت شفقت آمیز انداز میں فرمایا ان شاء اللہ میں اس پر تقریظ لکھ دوں گا آپ اطمینان کے ساتھ تشریف لائیں۔ یہ الفاظ میرے لیے باعثِ مسرت اور تقویت حوصلہ کا ذریعہ بنے مزید برآں حضرت نے میری اس علمی کوشش کو سراہا اور اس کی تعریف فرمائی جس سے میرے اندر اس کتاب کو جلد از جلد پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا عزم مزید پختہ ہو گیا ان شاء اللہ بہت جلد اس کتاب کو منظرِ عام پر لانے کا مکمل ارادہ ہے۔
واپسی کے وقت دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ کیوں نہ اس بابرکت موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ مفید کتب بھی حاصل کر لی جائیں۔ چنانچہ میری نظر حضرت مفتی یاسر ندیم الواجدی صاحب کے والدِ ماجد حضرت مولانا ندیم الواجدی صاحب رحمۃ الواسعہ کی تصنیف سیرت نگاری اور سیرت کی کتابیں پر پڑی جو میں نے خرید لی۔ اس کے علاوہ سورۃ الکہف کی تفسیر کے تناظر میں لکھی گئی نہایت اہم کتاب تذکیر بسورۃ الکہف بھی حاصل کی جس میں دجالی فتنے کے نمایاں خدوخال پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ کتاب حضرت مولانا سید مناظر احسن گیلانی نور اللہ مرقدہٗ کی تصنیف ہے جس پر حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب نے بھی مزید کام فرمایا ہے۔
یہ دونوں قیمتی کتب حاصل کر کے دل کو خوشی اور اطمینان نصیب ہوا اور میں شادمانی کے احساس کے ساتھ واپس ہوا۔
آخر میں دل کی گہرائیوں سے دعا گو ہوں کہ اللہ ربّ العزت حضرت مفتی صاحب کو صحت و عافیت خوشی و مسرت اور درازیٔ عمر عطا فرمائے اور ان کے علمی فیوض و برکات کو تا دیر قائم رکھے آمین یا ربّ العالمین۔