کبھی کبھی ہجوم کے درمیان بھی تنہائی کا احساس گھیر لیتا ہے۔ دل بوجھل اور شامیں سوگوار ہونے لگتی ہیں۔ ایک ایسا درد سر اٹھاتا ہے جو محسوس تو ہوتا ہے مگر جس کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔ سینے میں شکایتوں کا انبار ہوتا ہے لیکن سمجھ نہیں آتا کہ کن الفاظ کا انتخاب کر کے دل کے بوجھ کو ہلکا کیا جائے۔ جب یہ حسین اور دلکش دنیا اپنی رعنائیاں کھو دے اور ہر سر سبز و شاداب منظر بھی خزاں رسیدہ نظر آنے لگے، تو روح بے چین ہو جاتی ہے۔ دل میں ایک انجانی سی دہشت ڈیرہ ڈال لیتی ہے اور ایک ایسا غم اندر ہی اندر گھلانے لگتا ہے جس کا کوئی نام نہیں ہوتا۔
ان لمحوں میں آنکھیں لبریز تو ہوتی ہیں مگر آنسو بھی ساتھ نہیں دیتے۔ وہ آنکھوں کی دہلیز سے نکل کر رخسار تک آنے کو تیار نہیں ہوتے کہ شاید گر جائیں تو بوجھ کچھ کم ہو جائے، مگر وہ ضبط کی ایسی قید میں ہوتے ہیں کہ غم کی اس سونامی کو بہا کر نہیں لے جاتے۔ غرض ہر وہ چیز جو میرا بوجھ بانٹ سکتی تھی، وہ بے بس نظر آنے لگتی ہے۔
ایسے میں میرے کمرے کی وہ کھڑکی میرا کل اثاثہ بن جاتی ہے۔ وہی کھڑکی جہاں سے کائنات کے سارے منظر عیاں ہوتے ہیں اور دنیا کی رنگینیاں نظر آتی ہیں۔ مگر ان سب رنگینیوں میں میرے لیے سکون کا واحد ذریعہ وہ نیلا آسمان ہوتا ہے۔ میں اسے تکتے ہوئے اپنے رب سے وہ باتیں کرتی ہوں جنہیں بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہوتے۔ پر میرا دل اس یقین سے سرشار ہوتا ہے کہ وہ تو شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ وہ اپنے بندوں کی پکار سنتا بھی ہے اور جواب بھی دیتا ہے۔
اس عظیم ہستی سے ہمکلام ہونے کے لیے الفاظ کی قید نہیں، بس خاموش توجہ اور ٹوٹے ہوئے دل کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں کچھ پل اس کھڑکی میں کھڑی اپنے رب سے باتیں کرتی ہوں اور میرے بوجھل دل کو قرار آ جاتا ہے۔ یوں تو وہ ہر جگہ موجود ہے، مگر میرے لیے وہ کھڑکی اس لیے سب سے زیادہ عزیز ہے کہ وہاں سے میرے اور میرے رب کے درمیان گفتگو کے دریچے کھل جاتے ہیں۔
ازقلم زا شیخ