"قوم کے وہ سوداگر جنہیں خزاں ہی راس آ گئی"
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مضمون (95)
آج کا دور بظاہر شعور، بیداری اور ترقی کا دور کہلاتا ہے، مگر اگر ہم ذرا گہرائی میں جھانکیں تو ایک عجیب تضاد نظر آتا ہے۔ قومیں بیدار ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، مگر ان کے اندر ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو بیداری کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بظاہر دردِ ملت کا راگ الاپتے ہیں، مگر درحقیقت اپنی ذات کے اسیر ہو چکے ہیں۔ ان کے نزدیک چمن کی بہار سے زیادہ اپنی خود مختاری کی بہار اہم ہے۔ یہ کیسی خزاں ہے کہ جس پر کچھ لوگ نوحہ کناں بھی ہیں اور اسی خزاں کے سائے میں اپنی دکانیں بھی چمکا رہے ہیں؟ یہ کیسا المیہ ہے کہ چمن اجڑ رہا ہے، کلیاں مرجھا رہی ہیں، مگر مالی کے چہرے پر افسوس کے بجائے اطمینان کی جھلک ہے؟اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ خزاں، چمن کے لیے تو زہر ہے، مگر ان نام نہاد نگہبانوں کے لیے شہد بن چکی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے چمن کی بربادی کو اپنا سرمایہ بنا لیا ہے۔ یہ چاہتے ہی نہیں کہ بہار آئے، کیونکہ بہار آئے گی تو ان کی اجارہ داری ختم ہو جائے گی، ان کا جھوٹا وقار مٹی میں مل جائے گا، اور نئے مالی، نئے نگہبان ابھریں گے جو اس چمن کو حقیقی معنوں میں سنواریں گے۔ یہ عناصر دراصل دوغلے کردار کے حامل ہیں زبان پر اصلاح کے نعرے دل میں کچھ اور. یہ وہ "پارسا نما" لوگ ہیں جو ہر نئے ابھرتے ہوئے رہنما کو خطرہ سمجھتے ہیں۔
جیسے ہی کوئی باصلاحیت فرد میدان میں قدم رکھتا ہے، یہ اس کی کردار کشی شروع کر دیتے ہیں، اس کے حوصلے پست کرتے ہیں، اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔کیوں؟ کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ اگر یہ شخص کامیاب ہو گیا تو ان کی دکان بند ہو جائے گی۔ یہی وہ طبقہ ہے جو قوم کو تقسیم رکھ کر خود کو ‘واحد ترجمان’ کے منصب پر فائز رکھتا ہے، اور اپنی انا کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے فائدے سمیٹتا رہتا ہے۔"۔یہی وہ لوگ ہیں جو خزاں کا رونا روتے ہیں، مگر دل ہی دل میں دعاء کرتے ہیں کہ یہ خزاں کبھی ختم نہ ہو افسوس کی بات یہ ہے کہ عام مسلمان ان کی چکنی چپڑی باتوں میں آ جاتا ہے، ان کے نعروں سے متاثر ہو جاتا ہے، اور اصل دشمن کو پہچاننے میں ناکام رہتا ہے۔
یہ خزاں صرف موسم نہیں… یہ ایک سوچ ہے! یہ ایک سازش ہے! یہ ایک ایسا جال ہے جس میں پوری قوم کو الجھا دیا گیا ہے۔چمن اجڑ رہا ہے، مگر کچھ چہرے ہیں جو اس اجاڑ پن میں بھی مسکرا رہے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ان کے لیے یہ خزاں نقصان نہیں… فائدہ ہے! یہ وہ لوگ ہیں جو: قوم کی کمزوریوں پر اپنی طاقت کھڑی کرتے ہیں انتشار کو اپنی حکمتِ عملی بناتے ہیں اور قیادت کے ہر نئے چراغ کو بجھانے میں اپنی کامیابی سمجھتے ہیں یہ لوگ بہار سے ڈرتے ہیں! کیونکہ بہار انصاف لاتی ہے، بہار سچ کو زندہ کرتی ہے، اور بہار نئے چہروں کو ابھارتی ہے۔ انہیں خوف ہے کہ اگر کوئی مخلص رہنما ابھر آیا، تو ان کے جھوٹ کے محل زمین بوس ہو جائیں گے، ان کی اجارہ داری ختم ہو جائے گی، اور ان کا بنایا ہوا "خزاں کا کاروبار" تباہ ہو جائے گا۔ اسی لیے یہ کیا کرتے ہیں؟ امید کو مایوسی میں بدل دیتے ہیں اتحاد کو اختلاف میں بدل دیتے ہیں اور حوصلے کو خوف میں بدل دیتے ہیں یہ وہ کردار ہیں جو بظاہر "قوم کے خیرخواہ" ہیں، مگر حقیقت میں "قوم کے راستے کے کانٹے" ہیں۔
اے اہلِ ملت! آنکھیں کھولو ! یہ وقت سونے کا نہیں، جاگنے کا ہے۔کب تک تمہیں لفظوں کے جال میں قید رکھا جائے گا؟ کب تک تمہارے جذبات کو استعمال کیا جائے گا؟ کب تک تمہارے خوابوں کا سودا ہوتا رہے گا؟ یہ پہچاننے کا وقت ہے کہ: کون تمہارا خیرخواہ ہے؟ اور کون تمہاری کمزوریوں پر پل رہا ہے؟ اب وقت آ گیا ہے کہ تم صرف سنو نہیں… سمجھو! صرف دیکھو نہیں… پہچانو !
یاد رکھو! جو تمہیں آگے بڑھنے سے روکے، وہ تمہارا نہیں! جو تمہیں ڈرائے، وہ تمہارا خیرخواہ نہیں! اور جو تمہیں آپس میں لڑائے، وہ تمہارا سب سے بڑا دشمن ہے! یہ وہ دور ہے جہاں خلوص بھی نقاب اوڑھ چکا ہے، اور سوداگری بھی خیرخواہی کے لباس میں جلوہ گر ہے ۔
اے قوم مسلم! قومیں تب زندہ ہوتی ہیں جب:
وہ سچ کو سچ کہنے کی جرات پیدا کرتی ہیں وہ باطل کو بے نقاب کرتی ہیں اور وہ اپنے چمن کے سرد مالیوں کو پہچان کر یا تو انہیں سنوار دیتی ہیں یا پھر چمن سے الگ کر دیتی ہیں یہ وقت کسی کے انتظار کا نہیں…یہ وقت خود کو بدلنے کا ہے!
اگر تم نے آج بھی آنکھیں نہ کھولیں،
تو یاد رکھو!
یہ خزاں تمہاری تقدیر بن جائے گی، اور تمہاری آنے والی نسلیں تم سے سوال کریں گی۔
یاد رکھو! جب تک تم خزاں کے سوداگروں کو پہچان نہیں لو گے، بہار کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوگا۔ قوموں کی تقدیر اس وقت بدلتی ہے جب وہ اپنے چمن کے سرد مالیوں کو بے نقاب کرتی ہیں اور مخلص قیادت کو آگے لاتی ہیں۔
لہٰذا اٹھو! اپنے شعور کو جگاؤ! اپنے دلوں میں غیرت کی آگ روشن کرو! یہ چمن تمہارا ہے، اس کی حفاظت تمہاری ذمہ داری ہے، اور اس کی بہار بھی تمہارے ہاتھ میں ہے! خزاں کے ان سوداگروں کو پہچانو، ان کے فریب کو توڑ دو،
اور ایک ایسی بہار کی بنیاد رکھو جو صرف موسم نہیں… ایک انقلاب ہو ! ورنہ وہ دن دور نہیں جب خزاں صرف ایک موسم نہیں، بلکہ تمہاری مستقل تقدیر بن جائے گی۔
لہذا!.. جو قوم اپنے چمن کے سرد مالیوں کو پہچان لیتی ہے، وہی خزاں کو شکست دے کر بہار کو اپنا مقدر بنا لیتی ہے!"
"جب قوم جاگتی ہے تو خزاں کے سوداگر خود بخود مٹ جاتے ہیں، اور بہار دروازہ کھٹکھٹانے نہیں… دروازہ توڑ کر داخل ہوتی ہے!"
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com