دارالعلوم پورے 10 سال تک چھتا مسجد اور جامع مسجد میں چلتا رہا اس کی حیثیت محدود پیمانے کے ایک دینی مدرسے کی تھی دارالعلوم کے سرپرست اور نگران حاجی عابد حسین رحمت اللہ علیہ تھے جو اپنے زہد و تقوی اخلاص و بزرگی کی وجہ سے ہر ایک کوئی معتمد علیہ تھے لیکن عالم نہیں تھے ورنہ رفتار زمانہ پر ان کی نگاہ تھی بس اتنا وہ جانتے تھے کہ علم دین پر زوال آرہا ہے نوابوں کی مدد سے ریاستوں میں جو دینی مدرسے کام کر رہے تھے وہ یا تو تباہ و برباد ہو گئے یا انحطاط کا شکار ہو گئے علماء کرام کی تعداد کم ہوتی جا رہی تھی اس لیے انہوں نے پیش قدمی کر کے دیوبند میں قائم ہونے والے مدرسے کی ذمہ داری اٹھا لی کہ اس مدرسے میں ایسے علماء پیدا ہوں گے جو لوگوں کو دین کے مسائل بتائیں گے بس ان کی نگاہ میں اور کچھ نہیں تھا حضرت نانوتوی رحمت اللہ علیہ نے ایک جملہ لکھا آپ کے اور ہمارے درمیان مختلف مجالس میں مذاکرات ہوا کرتے تھے کہ کوئی مدرسہ قائم ہونا چاہیے کیونکہ ایک سوال پوچھنے کے لیے سہارنپور آدمی بھیجنا پڑتا ہے

اس کے برعکس حضرت نانوتوی رحمت اللہ علیہ صرف ایک محدود پیمانے پر کام کرنے والا مدرسہ نہیں ایک ایسا ادارہ قائم کرنا چاہتے تھے جو مسلمانان ہند کو محیط ہو اور اس پر اثر انداز ہو سکے اور ملت اسلامیہ پر جو خطرات امنڈلا رہے ہیں اس کا سد باب کیا جا سکے اسلام دشمن طاقتوں کا جو سیلاب بڑھتا چلا آرہاہے اس کی راہ میں سد سکندری کھڑی کی جا سکے پورے ملک میں ایسے رجال کار تیار ہوں جو اپنے اپنے علاقوں اور دائروں میں اسلام کی حفاظت کا مستحکم قلعہ تعمیر کر سکے اس لیے حاجی صاحب رحمت اللہ علیہ کے پورے ادب و احترام کے باوجود ان کی ضد اور اصرار سے صرف نظر کرلیا اور پوری استقامت کے ساتھ اپنے مجوزہ لاںٔحہ عمل کو بروئے کار لانے کے لیے جمے رہے کیونکہ ان کے سامنے ملت اسلامیہ کو جو درپیش خطرات تھے وہ مشاہدہ کے حیثیت سے رکھتے تھے اس لیے آپ نے اپنی فکری خاکے اور نقشے کے مطابق مستقبل میں مذہبی یونیورسٹی بننے والی عمارت کا سنگ بنیاد رکھوایا اس لیے کہ اس جلسہ تقسیم اسناد میں جس کے فورا بعد سنگ بنیاد رکھا گیا آپ نے وہ باتیں بہت بنیادی اور اہم فرمائے جو اس بات کا پتہ دے رہے ہیں کہ آپ ایک محدود دائرہ کا دینی مدرسے کے بجائے اس کو عظیم سے عظیم تر بنانے کا لاںٔحہ عمل بنا چکے ہیں

آپ نے ایک تقریر میں اس طرف اشارہ فرمایا کہ اپنی حکومت کے زمانے میں دینی مدارس کی سرپرستی کرنے والے افراد اور ورؤساء موجود تھے جس کی وجہ سے ملکی پیمانے کے مدارس پورے ملک میں پھیلے ہوئے تھے اب وہ زمانہ نہیں رہا اب سارا باڑ عام مسلمانوں کو اٹھانا ہے اس بڑے پیمانے پر اسلامی نظام تعلیم کو قائم کرنا ہوگا تاکہ پورے ملک کی دینی ضرورتوں کی تکمیل ہو سکے اور ملک کے تمام چھوٹے چھوٹے مدارس کے لیے ایک ایسا بڑا اور مرکزی مدرسہ ہو جہاں ہر جگہ کے طلبہ تکمیل علوم کر سکے یہی زمانہ اصلی تعلیمی تحریک کا بھی تھا جو صرف دنیاوی تعلیم کا بندوبست کر رہے تھے انہیں دین سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اس لیے آپ نے فرمایا کہ یہ ایک مذہبی یونیورسٹی ہوگی اور جو لوگ انگریزی تعلیم حاصل کرنا چاہے وہ شوق سے اسکولوں اور کالجوں میں چلے جائیں ہم ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گے یہی دو سبب تھے جس کی وجہ سے آپ نے ایک وسیع رقبہ میں دارالعلوم کی بنیاد رکھی بعد کے حالات میں ثابت کرتا ہے کہ حضرت نانوتوی کی رائے صحیح تھی،-