اتحاد اور ہے انضمام اور! 

حالیہ شیعہ سنی اتحاد پر غلط فہمیوں کا سیلاب امڈ آیا ہے، نو فارغ فضلاء نے ناواقفیت کی بنیاد پر وہ کچھ کہا اور لکھا جو بےجا اور نامناسب تھا!

غلط فہمی کا آغاز تبھی ہوگیا تھا جب ہم نے اتحاد اور انضمام میں فرق نہیں کیا ۔ 
اپنے مسلکی شناخت کو باقی رکھتے ہوئے باطل کے خلاف متحد ہوجانے کا نام اتحاد ہے اور اپنے مسلکی شناخت کو چھوڑ کر یکجہت ہونے کا نام انضمام! 
کس نے کہا ہے کہ اہل السنہ نے شیعہ عقائد کو تسلیم کرلیا؟ حاشا وکلَّا! 
ہرگز نہیں! 
گزرے چند ایام میں جن علماء نے اتحاد کی دعوت دی، سب کا واضح مقصد بس اتنا ہے کہ باطل کے خلاف صف بستہ ہوجائیں، جب دشمن آمادۂ جنگ ہو تو کفار و مشرکین سے بھی اتحاد ممکن ہے یہ تو خیر اہل تشیع ہیں۔ 

قرآنی نقشہ کشی دیکھئے! 
﴿لَتَجِدَنَّ أشَدَّ النّاسِ عَداوَةً لِلَّذِينَ آمَنُوا اليَهُودَ والَّذِينَ أشْرَكُوا﴾

اس آیت کے ذیل میں علامہ آلوسی نقل فرماتے ہیں:

 ووَصَفَهم سُبْحانَهُ بِذَلِكَ لِشِدَّةِ شَكِيمَتِهِمْ وتَضاعُفِ كُفْرِهِمْ وانْهِماكِهِمْ في اتِّباعِ الهَوى وقُرْبِهِمْ إلى التَّقْلِيدِ وبُعْدِهِمْ عَنِ التَّحْقِيقِ وتَمَرُّنِهِمْ عَلى التَّمَرُّدِ والِاسْتِعْصاءِ عَلى الأنْبِياءِ عَلَيْهِمُ السَّلامُ والِاجْتِراءِ عَلى تَكْذِيبِهِمْ ومُناصَبَتِهِمْ۔ 

ذرا بصیرت افروز نگاہ ڈالئے اور فیصلہ کرنے کی کوشش کیجئے، ایک طرف ہم وطن لوگ آمادۂ تخریب ہیں تو دوسری جانب یہودی فطرت جنگ و جدال پر تُلی ہے، مقصد بس استیصال اسلام ہے، ایسی مشکل گھڑی میں خود نبی نے بھی اتحاد کیا تھا، کیا آپ ﷺ نے اتحاد کرکے اسلامی نظریہ کو چھوڑ دیا تھا؟ نعوذ باللہ! 
ہر گز نہیں! 
لہذا حالیہ تناظر میں حکمت و مصلحت یہی ہے کہ بکھرے تنکوں کو جوڑا جائے، تنکوں کے اوصاف سے صرف نظر کیا جائے اور اپنی توجہ مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے پر مرکوز رکھی جائے۔ 


۶/اپریل/۲۰۲۶