🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ
خدا کا واسطہ ہے
جب تم کسی کے آنگن کی مسکراہٹ،
کسی باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک،
کسی ماں کی دعاؤں کی تجسیم کو اپنے گھر لے آؤ…
تو اسے محض ایک “گڑیا” نہ سمجھو۔
یہ جو تمہارے گھر آئی ہے،
یہ مٹی کی مورت نہیں…
یہ جذبات کا پیکر ہے،
یہ احساسات کی امین ہے،
یہ خوابوں کی تعبیر ہے۔
اس کے ہونٹوں کی مسکراہٹ کے پیچھے ایک پورا جہاں بسا ہوتا ہے،
اور اس کی آنکھوں کی نمی میں کئی ان کہی کہانیاں چھپی ہوتی ہیں۔
خدارا…
جب تمہارا دل اس سے بھر جائے،
تو اس کی گردن مت کاٹ دینا۔
اپنی بے حسی کی آگ میں اسے جلا مت دینا۔
اپنے غصّے،
اپنی انا،
اپنی بے مروتی کے پتھروں سے اسے روز دیواروں سے ٹکرا کر مت مارنا۔
یہ کوئی کھلونا نہیں کہ دل بہلایا،
اور پھر توڑ کر پھینک دیا۔
یہ ایک امانت ہے… جو تمہیں محبت، رحمت اور ذمہ داری کے ساتھ سونپی گئی ہے۔
اگر تم اس کا حق ادا نہیں کر سکتے،
اگر تم اس کی قدر نہیں کر سکتے،
اگر تم اس کے وجود کو سکون نہیں دے سکتے…
تو خدا کے لیے، اسے اذیت کے اندھیروں میں مت دھکیلنا۔
اسے اس کے باپ کے گھر واپس پہنچا دینا…
جہاں آج بھی اس کے لیے دعاؤں کے دیے جلتے ہیں۔
اسے اسکی ماں کی جھولی میں واپسی کردینا۔
یا پھر اسے آزاد کر دینا…
تاکہ وہ اپنی ٹوٹی سانسوں کو جوڑ سکے،
اپنے بکھرے خوابوں کو سمیٹ سکے،
اور اپنی زندگی کو دوبارہ جینے کا حوصلہ پا سکے۔
عورت “گڑیا” نہیں ہوتی،
وہ دل رکھتی ہے…
اور دل جب ٹوٹتا ہے تو آواز نہیں کرتا، مگر قیامت برپا کر دیتا ہے۔