*اولاد کی خودمختاری، والدین کی خاموشی اور بیٹیوں کے ارمانوں کا جنازہ*
جب گھر میں کمائی کے در کھلتے ہیں اور بیٹے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جاتے ہیں، تو اس لمحے کو ایک خوشگوار تبدیلی سمجھا جاتا ہے, لیکن اکثر یہی لمحہ گھروں کے سکون کا قاتل اور ماں باپ کے وقار کا گلا گھونٹنے والا بن جاتا ہے, وہ بیٹے، جنہیں کبھی والدین نے اپنی جھولی کا آخری نوالہ دے کر پروان چڑھایا تھا، اب اپنی کمائی پر اتنا نازاں ہو جاتے ہیں کہ اُن کے دروازے تک پہنچنے کے لیے ماں باپ کو اپنی خودداری کے کفن میں لپٹنا پڑتا ہے، وہ والدین جو کبھی بچوں کی انگلی پکڑ کر بازار لے جایا کرتے تھے، اب دوا کے چند پیسوں کے لیے اپنی زبان سے سوال کرنے سے جھجکنے لگتے ہیں، دل کے اندر درد کا ایک سمندر ہوتا ہے، لیکن چہرے پر خاموشی کا زنگ چڑھ چکا ہوتا ہے۔
*اور اسی گھر میں، ایک اور خاموش وجود ہوتا ہے جوان بیٹی*
جو بھائیوں کے اس عمل سے اپنے والدین پر اپنے آپکو بوجھ سمجھنے لگتی ہے، کیونکہ وہ جانتی ہے کہ بھائی ایک ایک روپے کا حساب کس طرح والدہ سے کرتے ہیں، اپنی بیوی پر ہزاروں خود خرچ کریں کوئی بات نہیں لیکن ماں سے پائی پائی کا حساب چکتا کیا جاتا ہے، جسکی وجہ سے والدہ اپنے وجود اور اپنی بچی کے وجود کو کوسنا شروع کر دیتی ہے جسکا نتیجہ گھر میں بےبرکتی، رونق ختم، حسن سلوک کو درکنار کر دیا جاتا ہے، اور ایک وہ بیٹی، جو آنکھوں میں سپنے سجائے بیٹھی ہوتی ہے جو ہر اذان پر دعا مانگتی ہے کہ شاید آج اُس کے نصیب کی کوئی سبیل پیدا ہو لیکن جب بھائیوں کی کمائی صرف خود پر خرچ ہونے لگے، جب ماں باپ پیسے مانگنے سے گھبرانے لگیں، تو وہ بیٹی صرف خواب نہیں توڑتی، اپنی نسوانیت کی حرمت کو بھی خاموشی کی قبر میں دفن کر دیتی ہے:*وہ اپنا درد کسی سے نہیں کہتی، وہ کسی سے گلہ نہیں کرتی*
وہ اپنی ضرورت کو انا سمجھتی ہے، اور اپنی خواہش کو گناہ،اور پھر وہ جینا سیکھ لیتی ہے، بے حس ہو کر، خاموش ہو کر، پتھر ہو کر، اس کے دل کی دنیا ٹوٹتی ہے، لیکن ہونٹوں پر مسکراہٹ رکھنا اُس کی مجبوری بن جاتی ہے۔
وہ بھائی کی خوشیوں میں شریک ہوتی ہے اُسے ڈر ہوتا ہے کہ اگر کچھ مانگا تو ماں باپ کی نظر جھک جائے گی اور بھائی ناراض ہو جائے گا
وہ اپنے جذبوں کا جنازہ خود اٹھاتی ہے اور خاموشی سے تقدیر کا طعنہ سہہ لیتی ہے،
*لیکن یہ کیسی تقدیر ہے جہاں بیٹے کی کمائی باپ کے اختیار میں نہیں جہاں ماں بیٹے سے سوال کرتے ہوئے لرزتی ہے،اور جہاں بیٹی اپنے خوابوں کو دفن کر کے زندہ رہتی ہے؟*
کیا یہی وہ نظام ہے جسے اسلام نے خاندان کا مرکز کہا؟
کیا یہی وہ سلوک ہے جس پر اللہ کی رحمت اترتی ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ
اور رشتہ دار کو اس کا حق دو۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہتر ہو(ترمذی)
تو اے میرے بھائیوں: یاد رکھو، تمہاری کمائی صرف تمہاری نہیں، اس میں تمہاری بہن کا مستقبل، تمہاری ماں کی مسکراہٹ، اور تمہارے باپ کا وقار پوشیدہ ہے، اگر تم نے صرف اپنے لیے جیا، تو تمہارے مال سے برکت اٹھ جائے گی، سکون مٹ جائے گا، اور وہ گھر، جسے اللہ نے محبت کا گہوارہ بنایا تھا، وہ تمہارے رویے سے عذاب کی جھلک بن جائے گا، ابھی وقت ہے خود کو سنوارو، والدین کا سہارا بنو، اور اپنی بہنوں کو وہ عزت دو جس کی وہ مستحق ہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے ہاتھ کی کمائی تمہارے لیے کل بوجھ اور بازپرس کا ذریعہ بن جائے۔
یہ معاشرے کا مسئلہ تو ہے ہی کہ والدین کی خدمت کی جائے ہر وقت انکی دل جوئی کی جائے آو ذرا شریعت بھی سنو، آپ پڑھے لکھے لوگ ہیں آپنے ھدایہ، قدوری، شرح وقایہ، وغیرہ میں پڑھا ہوگا باپ کی ملکیت میں بلکلیہ بیٹے کا حق نہیں یعنی وہ تصرف صرف اپنی ذات کے لیے کر سکتا ہے کسی اور پر تصرف نہیں کر سکتا جب ملکیت باپ کی ہو، لیکن جب ملکیت بیٹے کی ہو تو باپ کو اجازت ہے کہ وہ جس پر چاہے تصرف کر سکتا ہے جس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ بیٹے یا اولاد کے مال پر اولاد سے زیادہ والدین کا حق ہے۔
خدارا والدین پر کسی بہن کو بوجھ نا بنائیں ورنہ یاد رکھنا یہ اعمال مکافات میں سے تو ہے ہی جس کا آپکو خمیازہ دنیا میں بھی بھکتنا پڑ سکتا ہے، پھر حشر کا میدان تو بالیقیں ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپکی بہن کی آہ آپکی نسلوں کو تباہ کر دے گی۔
اللہ کریم ہمیں سمجھنے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔
*✍️ متعلم الجامعۃ الاشرفیہ ✍️*