دنیا ہمیشہ سے اسرار و رموز کی جستجو میں رہی ہے۔ کبھی آسمانوں کے راز کھولنے کی کوشش کی گئی، کبھی سمندروں کی تہہ میں چھپی گتھیاں سلجھانے کی۔ لیکن بعض معمے ایسے ہیں جو عقل و خرد کو عاجز کر دیتے ہیں۔ انہی میں سے ایک "برمودا تکون" ہے—وہ خطۂ آب جہاں صدیوں سے جہاز اور طیارے نگل لیے جاتے ہیں اور انسان اپنے تمام تر سائنسی آلات کے باوجود کوئی حتمی جواب دینے سے قاصر ہے۔
مصنف نے اپنی اس کتاب میں اس پر اسرار خطے کو محض ایک جغرافیائی یا سائنسی مسئلہ نہیں سمجھا بلکہ اسے دینی و روحانی تناظر میں پرکھا ہے۔ خاص طور پر احادیثِ نبویہ میں مذکور دجال کے فتنے کو برمودا تکون کے اسرار سے جوڑ کر ایک نئی فکری راہ متعین کی ہے۔ یہ جراتِ فکر اور ایمان افروز پہلو کتاب کا اصل سرمایہ ہے۔
کتاب میں برمودا تکون کے متعلق مغربی سائنسدانوں کی آراء بھی سامنے آتی ہیں، لیکن مصنف ان آراء کے پیچھے چھپے ضعف کو آشکار کر کے قاری کو بتاتا ہے کہ حقیقت کا سرا قرآن و سنت ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اسلوبِ نگارش عام فہم ہے مگر اثر انگیز، کہیں کہیں ادبی چاشنی بھی قاری کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔
یہ کہنا بجا ہوگا کہ مصنف نے اس کتاب میں جدید سائنس کے سوالات اور قدیم دینی متون کے جوابات کو ایک ہی دستر خوان پر جمع کر کے فکر و نظر کی ایک ضیافت تیار کی ہے۔
البتہ ایک علمی طالب علم کے لیے یہ خواہش باقی رہتی ہے کہ اگر دلائل اور تاریخی شواہد کو مزید وسعت دی جاتی تو تحقیق کا پہلو زیادہ مضبوط ہوتا۔ اس کے باوجود، ایمان کی تقویت اور فکری بیداری کے لحاظ سے کتاب اپنی مثال آپ ہے۔
"برمودا تکون اور دجال" محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک دعوتِ فکر ہے۔ یہ قاری کو جھنجھوڑتی ہے کہ کائنات کے ان دیکھے حقائق کو محض افسانہ نہ سمجھا جائے، بلکہ آنے والے فتنوں کے لیے تیاری کی جائے۔ اس کا مطالعہ قاری کے ذہن کو وسعت اور دل کو خشیتِ الٰہی عطا کرتا ہے۔
ابو تراب خلیلی پالنپوری