*جدید فرعونیت کا عروج اور عالمی ضمیر کا جنازہ*
*قسط دوم*
یہ محض گیارہ ہزار انسانوں کے قتل کا حکم نہیں، بلکہ اس دور کے *فرعون* کی جانب سے خدائی کے دعوے کی ایک بھونڈی شکل ہے، جہاں ایک انسان دوسرے انسان کی زندگی کا فیصلہ اس کی نسل اور عقیدے کی بنیاد پر کرنے لگا ہے، *نیتن یاہو* نے ثابت کر دیا ہے کہ اس کی رگوں میں انسانی خون نہیں، بلکہ اقتدار کی ہوس اور وحشت دوڑ رہی ہے، وہ شخص جس نے غزہ کی گلیوں کو قبرستان بنا دیا، اب جیل کی سلاخوں کے پیچھے موجود نہتے قیدیوں کی سانسیں چھیننے پر تلا ہے، یہ وہ درندگی ہے جس پر ابلیس بھی شرما جائے، مگر افسوس کہ انسانی حقوق کے چیمپیئن کہلانے والے آج بھی اس کے گناہوں پر پردہ ڈال رہے ہیں۔
*ٹرمپ کی سہولت کاری* اور استعماری ایجنڈا، اگر نیتن یاہو اس خونی کھیل کا کھلاڑی ہے، تو ڈونالڈ ٹرمپ جیسے کردار اس بساط کے وہ مہرے ہیں جنہوں نے انصاف کی تعریف ہی بدل دی ہے، ٹرمپ کا دورِ اقتدار ہو یا اس کی حالیہ سیاست، اس کی ہر پالیسی نے اسرائیل کے ہاتھ مضبوط کیے ہیں، وہ بیت المقدس کو ہڑپ کرنے کی سازش ہو یا صیہونی جارحیت کو قانونی تحفظ فراہم کرنا، ان سب کے پیچھے وہی ذہنیت کارفرما ہے جو مظلوم کی آہ پر ظالم کے قہقہے کو ترجیح دیتی ہے، یہ لوگ دنیا کو امن کا درس دیتے ہیں، لیکن ان کے اپنے قلم سے نکلنے والی سیاہی فلسطینیوں کے لہو سے تیار ہوتی ہے، یہ دوہرا معیار ہی اس عالمی نظام کی موت کا سب سے بڑا سبب ہے۔
*عدالتِ عظمیٰ اور عالمی اداروں کا کڑا امتحان*
آج عالمی عدالتِ انصاف اور اقوامِ متحدہ کے ایوانوں میں نصب ترازو انصاف کے لیے نہیں، بلکہ طاقتور کی مرضی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، *ہم پوچھتے ہیں؟ کیا انسانیت کے عالمی چارٹر میں فلسطین کے بچوں کا ذکر نہیں؟ کیا جنیوا کنونشن کی دفعات صرف کمزور ملکوں پر لاگو کرنے کے لیے ہیں؟* اگر گیارہ ہزار زندگیوں کی پکار بھی ان کے بند کانوں تک نہیں پہنچ رہی، تو سمجھ لیجیے کہ ان عالی شان عمارتوں میں اب صرف انصاف کی لاشیں دفن ہیں، نیتن یاہو اور اس کے سہولت کاروں کو کٹہرے میں نہ لانا اس بات کا اعتراف ہوگا کہ دنیا اب جنگل کے قانون کے تحت چل رہی ہے جہاں درندوں کو شکار کی کھلی چھوٹ ہے۔
تاریخ کا بے رحم فیصلہ تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی، وہ وقت دور نہیں جب نیتن یاہو کا نام ابوجہل اور ہٹلر کے ساتھ ایک ہی صف میں لکھا جائے گا، اور ٹرمپ جیسے مصلحت پسندوں کو تاریخ مجرمانہ خاموشی اور سہولت کاری کے باب میں یاد رکھے گی، فلسطین کی مٹی سے اٹھنے والا خون کا ایک ایک قطرہ پکار رہا ہے کہ ظلم کی رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، سحر ہو کر رہتی ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ نہ صرف یہ ظالمانہ فیصلہ منسوخ کیا جائے، بلکہ ان تمام چہروں کو بے نقاب کیا جائے جنہوں نے انسانیت کے قتلِ عام میں اسرائیل کا ساتھ دیا، عدل کی کرسیوں پر بیٹھنے والو! یاد رکھو، اگر تمہارے قلم نے آج حق کا ساتھ نہ دیا، تو کل تاریخ تمہارے وجود کو بھی کوڑے دان کی نذر کر دے گی، فلسطینیوں کی رہائی اور آزادی کا پروانہ اب کسی کی خیرات نہیں، بلکہ ان کا وہ حق ہے جو انہیں خون کے بدلے حاصل ہوگا۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*