قرآنِ کریم کی سورہ کہف کا ایک مقام ہمیں زندگی کی بہت بڑی حقیقت کو سمجھاتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا"
(ترجمہ: اور ان کے والد نیک شخص تھے)
اس ایک جملے میں اللہ رب العالمین نے یتیم بچوں کی دیوار کو بغیر کسی اجرت کے سیدھا کروا کر ان کے خزانے کی حفاظت فرمائی۔ یہاں بچوں کی اپنی نیکی نہیں، بلکہ ان کے والد کی نیکی کو ان کے تحفظ کا ذریعہ بنایا گیا تاکہ وہ بڑے ہو کر اپنا حق حاصل کر سکیں۔
"ان کے والد نیک تھے"
— یہ وہ جملہ ہے جو ہر والدین کے لیے ایک عظیم پیغام ہے۔ ہم اپنی اولاد کے لیے بینک بیلنس، جائیداد اور دنیاوی سہولیات جمع کرنے کی فکر میں دن رات ایک کر دیتے ہیں، لیکن قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اولاد کے مستقبل کی سب سے بڑی "انشورنس" والدین کا اپنا تقویٰ اور ان کی نیکی ہے۔
یہ آیت صرف ماضی کا قصہ نہیں، بلکہ آج کی نسل کے لیے ایک لمحہ فکریہ بھی ہے۔ آج کی نوجوان نسل کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ کل انہوں نے بھی "والدین" کے منصب پر فائز ہونا ہے۔ اگر خدانخواستہ ہمارے بڑوں سے تقویٰ یا عمل میں کوئی کوتاہی ہوئی ہے، تو ہمیں اسے اپنی زندگی میں دہرا کر اپنی نسلوں کا مستقبل داؤ پر نہیں لگانا چاہیے۔
ہمیں آج سے ہی تقویٰ اور صالح عمل اختیار کرنا ہوگا تاکہ ہماری اولاد کو وہ محرومیاں اور پریشانیاں نہ جھیلنی پڑیں جن سے آج ہم نبرد آزما ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری غیر موجودگی میں بھی ہماری نسلیں اللہ کے غیبی تحفظ میں رہیں، تو ہمیں اپنے کردار کو سنوارنا ہوگا۔ ہماری نیکی ہی ہماری اولاد کے لیے رحمت کا اصل سایہ بنتی ہے۔
اپنی اولاد کو صرف مال کا وارث نہ بنائیں، بلکہ ان کے لیے "نیکیوں کا اثاثہ" چھوڑ کر جائیں۔
از
قلم:زا-شیخ