اج اگر چہ زندگی کی وہ قوتیں نہیں تاہم زمانے نے زندگی کے لیے سہولتوں کا ایک جال بچھا دیا سفر کے لیے ذرائع کا ایک سیل رواں بہا دیا بجلی کے قمقموں سے ایک دنیا جگمگا اٹھی ہر فن مختلف خدمات سے بہرہ ور ہوا، ہر علم نے نئی نئی راہیں کھول دیں ، مطلب کی بات نکالنے کے لیے ایک مستقل فن فہارس کا وجود میں آیا، امام بخاری کی وہ صحیح جس سے حدیث کی تخریج میں صعوبت کے ایک دور میں بڑے چرچے تھے اج اس کی فہرستیں . اٹھائیے، بخاری کا پورا منظر سامنے اجاۓ گا جستجو کا ایک ایک مقام سامنے ہوگا ان ہی خدمات سہولیات کو دیکھے کسی مصری عالم نے بڑی حسرت سے کہا تھا کہ اگر یہ چیزیں میری ابتدائی تصنیف کے زمانے میں آجائیں تو میری نصف زندگی پیچ رہتی، تا ہم دوسری طرف عصر جدید نے زندگی کے مختلف شعبوں سے نت نئی ایجادات کے انبار لگادیئے ، سائنس وفلفسہ نے نے نے گل اگادیئے ، انسانی ذہن دماغ نے اختراعات کے وہ کرشمے دکھائے بھی مشکل بھی ہو گئیں۔ جن کا تصور بھی پہلے ایک عجوبہ نظر آتا تھا، یوں علم کی راہیں آسان بھی ہو گئیں، آسان نہیں بھی مشکل بھی ہوگئیں مشکل نہیں تھی
البتہ راہ علم میں محنت کا وہ جذبہ جو پہلے تھا، اب نہیں ہے ، حصول علم کی وہ تڑپ جو ٹھٹھڑی ہوئی سردی اور کٹکڑاتی دھوپ گرمی میں ریگستانوں اور تپتے ہوئے صحراؤں کے میل ہا میل کا سفر طالب علم سے کراتی ، اب ایسی داستانیں اسلامی تاریخ کے صرف اوراق کی زینت ہیں۔
آپ نے پڑھا ہوگا، ورنہ ضرور سنا ہوگا کہ مشہور محدث ابن شاہین نے صرف روشنائی اتنی استعمال کی کہ اس کی قیمت سات سو درہم بنی تھی، امام محمد کی تالیفات ایک ہزار کے قریب ہیں، ابن جریر نے زندگی میں تین لاکھ اٹھاون ہزار اوراق لکھے، علامہ باقلانی نے صرف معتزلہ کے رد میں ستر ہزار اوراق لکھے، امام غزالی نے اٹھہتر کتابیں لکھیں جن میں صرف یا قوت التاویل" چالیس جلدوں میں ہے، ابن جوزی کے آخری غسل کے واسطے پانی گرم کرنے کے لیے وہ برادہ کافی ہو گیا تھا جو صرف حدیث لکھتے ہوئے ان کے قلم بنانے میں جمع ہو گیا تھا، مشہور مسلمان فلسفی اور طبیب ابن سینا کی تصانیف میں سے الحاصل والحصول" بیس جلدوں میں "الانصاف بیس جلدوں میں جلدوں میں الشفاء اٹھارہ جلدوں میں لسان العرب دس جلدوں میں اور ان کی دیگر کئی تصانیف کئی کئی جلدوں میں ہیں، نویں صدی کے مشہور محدث حافظ ابن حجر عسقلانی کی فتح الباری شرح بخاری" چودہ جلدوں میں ”تہذیب التہذیب نو جلدوں میں، ” الاصابہ پانچ جلدوں میں لسان المیز ان چار جلدوں میں اور تغلیق التعلیق پانچ جلدوں میں ہے۔
آج کے دور کے سہولتیں اس زمانے میں نا پید تھیں ، وہ زندگی اگر چه قوت و صلاحیت کی زندگی تھی، تاہم مشکلات و مشقت سے خالی نہ تھی ، زندگی کی ہر قوت کو ایک مشقت کا سامنا تھا اور ہر صلاحیت ایک صعوبت کے مقابل تھی۔
سفر کے لئے زمین پر دوڑنے اور ہوا میں اڑنے والے دور جدید کے ذارئع کا وجود کیا معنی تصور تک نہ تھا۔
لکھنے کے لیے آج کارواں دواں قلم ایجاد نہ ہوا تھا وہ نرکل کی لکڑی اور دوات ، جہاں سطر دو سطر قلم روشنائی میں ڈبونے کا محتاج تھا۔
پھر کاغذ کی یہ فراوانی کہاں یہ نرکل کے اس قلم کی کرامت تھی ، اہل قلم کے کمال ومحنت کا نتیجہ، کہ چمڑوں اور ہڈیوں کی ناہموار سطح پر بھی اس کا تیز رفتار سفر جاری رہتا ۔
اس زندگی کی راتیں روشنی کی زبوں حالی کا شکار تھیں، کہاں آج پہ بجلی کا جھلمل کرتا ہوا عالم اور کہاں وہ ٹمٹماتے چراغ کی اداس روشنی الیکن آہ! اس چراغ کا انتظام بھی ہر ایک کے بس کی بات کہاں تھی، پاسبانوں کی قندیلوں کی روشنی میں رات رات بھر مطالعہ کرتے ، پڑھتے اور لکھتے تھے۔
پھر آج کی طرح سینکڑوں صدیوں کی برومندی کا ثمرہ ان کے سامنے نہ تھا کہ وہ دور برومندی کا تھا ثمر برومندی کا نہیں، اب کی طرح کتابیں مدون نہ تھیں، مراجع سے مقصد کی بات نکالنے کو آسان تر کرنے کے لیے جدید فنی کام وجود میں نہیں آیا تھا۔
مشقت کے ان پہلوؤں کو سامنے رکھئے اور ان کے کارناموں کو دیکھئے ، یہ بھی نہیں کہ ان کا قلم چل گیا سو جیسے تیسے ہو بس چل گیا بلکہ قلم کا مسافر جہاں سے گزرا علم لیکر راہ تاباں سے گزرا یوں کہ آنے والا جب اس طرف بھی آنکلے تو احساس ہو کہ

ابھی اس راہ سے کوئی گیا ہے
کہے دیتی ہے شوخی نقش پا کی

فکر و نظر کا وہ کونسا میدان ہے جس میں مسلمانوں کے تاریخی نقوش ثبت نہ ہوں، آج جو بھی قوتیں ترقی کی جن شاہراہوں پر گامزن ہیں، چاہے اس کا تعلق سائنس اور فلسفہ سے ہو یاجغرافیہ فلکیات سے ہو یا عمرانیات و نفسانیات سے، ان سب کے بنیادی مراحیل کی تعمیر میں اسلامی تاریخ کی علمی محنتوں کا خون شامل ہے۔
پس کروڑوں رحمتیں نازل ہوں ان بزرگوں پر جن سے ہماری تاریخ کی عظمتیں واستہ ہیں اور ٹھنڈی ہوں مرقدیں ان کی، جن کے نشانات قلم آج بھی بھٹکے ہوئے مسافروں کے لیے روشنی کے مینار ہیں۔

ابو تراب خلیلی پالنپوری