"اپنے ہی تنہا کیوں؟ مولانا قمر کی گرفتاری اور عوامی خاموشی"
         بسم اللہ الرحمن الرحیم
                 مضمون (94)
جب کسی قوم پر آزمائش آتی ہے تو اس کی پہچان یہ نہیں ہوتی کہ وہ کتنی طاقتور ہے، بلکہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے افراد کے ساتھ کس حد تک کھڑی ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے لوگوں کو تنہا چھوڑ دیا، وہ خود بھی ذلت و زوال کا شکار ہوئیں۔ آج ارریہ اور جوکی ہاٹ کی سرزمین ایک ایسے ہی کڑے امتحان سے گزر رہی ہے، جہاں ایک طرف ایک فرد کی گرفتاری ہے، اور دوسری طرف پوری قوم کی خاموشی ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ آخر ارریہ اور جوکی ہاٹ کے عوام کو کیا ہوگیا ہے؟ کیوں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی ہے یہ قوم؟ کیا مولانا عبداللہ سالم قمر چتر ویدی صاحب ان کے اپنے نہیں؟ کیا وہ اسی مٹی کے سپوت نہیں جس سے یہ لوگ وابستہ ہیں؟ اگر ہیں، تو پھر یہ سناٹا کیوں ہے؟
یہ کیسی بے حسی ہے کہ ایک شخص، جو کل تک قوم کی رہنمائی کر رہا تھا، آج مشکلات میں گھرا ہوا ہے اور اس کے اپنے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ کیا یہ رویہ کسی زندہ قوم کا ہوسکتا ہے؟ کیا ہم نے غیرت، حمیت اور اجتماعی ذمہ داری کے مفہوم کو فراموش کردیا ہے؟ یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ احتجاج کوئی جرم نہیں، بلکہ ایک آئینی و جمہوری حق ہے—بشرطیکہ وہ قانون کے دائرے میں، امن و شانتی کے ساتھ ہو۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب بھی کسی مظلوم کی حمایت میں عوام نے آواز اٹھائی، تو حالات نے کروٹ لی ہے۔ خاموشی ہمیشہ ظالم کو تقویت دیتی ہے، جبکہ پرامن آواز انصاف کی راہیں ہموار کرتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر یہ ڈر کیسا ہے؟ کس چیز کا خوف لوگوں کو اپنی زبان کھولنے سے روک رہا ہے؟ کیا ہم اتنے کمزور ہوچکے ہیں کہ حق کے لیے کھڑے ہونے کی ہمت بھی کھو بیٹھے ہیں؟ یا پھر ہم نے اپنی ذمہ داریوں سے آنکھیں چرانا سیکھ لیا ہے؟
یاد رکھیں! آج اگر ہم نے کسی ایک کو تنہا چھوڑ دیا، تو کل یہی بے حسی ہمیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ آج اگر ایک آواز دبائی گئی، تو کل ہزاروں آوازیں بے اثر ہوجائیں گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی غفلت کی چادر کو جھٹکیں، بیدار ہوں، اور اپنے حق کے لیے، اپنے لوگوں کے لیے، اور انصاف کے لیے آواز بلند کریں۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ ارریہ اور جوکی ہاٹ کے عوام اپنی خاموشی توڑیں اور پرامن، مہذب اور آئینی طریقے سے اپنی آواز بلند کریں۔ یاد رکھیں! خاموش رہنا بھی بعض اوقات ظلم کی تائید کے مترادف ہوتا ہے۔
آئیں! ہم عہد کریں کہ ہم حق کے ساتھ کھڑے ہوں گے، مظلوم کی حمایت کریں گے، اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی آواز کو اس قدر بلند کریں گے کہ وہ انصاف کے ایوانوں تک پہنچ جائے۔کیونکہ تاریخ یہ نہیں پوچھتی کہ ظلم کتنا بڑا تھا، بلکہ یہ پوچھتی ہے کہ تمہاری آواز کتنی بلند تھی۔
                   بقلم محمودالباری
Mahmoodulbari342@gmail.com