🥹*گیارہ ہزار فلسطینیوں کے خون کے ساتھ مزید ہولی نیتن یاہو اور ٹرمپ خونی ہیں*😡
اسرائیل کا گیارہ ہزار فلسطینیوں کے لئے جاری کیا گیا موت کا پروانہ کوئی عدالتی فیصلہ نہیں، بلکہ انسانیت کے سینے پر دھونس سے ثبت کیا گیا وہ سیاہ داغ ہے جس نے تہذیب کی بنیادوں کو لرزا دیا ہے، اور انسانی وقار کو مٹی میں بدل کر رکھ دیا ہے، ایک دستخط کے نیچے گیارہ ہزار زندگیوں کو مٹا دینا قانون نہیں، بلکہ نسل کشی کا وہ سرکاری فرمان ہے جس نے عالمی ضمیر کی قبر پر آخری مٹی ڈال دی ہے، یہ فیصلہ دراصل ظلم کے دربار کا اعلان ہے، جس میں انصاف کا گلا گھونٹ کر دنیا کو باور کرایا جا رہا ہے کہ طاقت اگر خون میں نہائی ہو تو قانون اس کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے، انسانیت آج اس لمحے پر کھڑی ہے جہاں خاموشی بھی جرم ہے، اور بولنا بھی کم ہے،کہاں ہے وہ دلال جو انسانیت کا نعرہ لگاتے ہیں، کیا گیارہ ہزار بے قصور قیدیوں کو موت کی نیند سلانے کا پروانہ جاری کرنے والا خنزیر کا بچہ ظالم نظر نہیں آ رہا ہے؟کہاں ہیں وہ دلال لنگے لپھنگے جو انسانیت کی بات کرتے ہیں؟
*نیتن یاہو* اس پوری انسانیت سوز بربادی کا مرکزی چہرہ ہے، ایک ایسا شخص جس کی سیاست لاشوں کے مینار پر کھڑی ہے، اور جس کی قیادت تلوار کے سائے میں پلتی ہے، اس کے فیصلوں میں رحم کا کوئی سایہ نہیں، اس کی حکمتِ عملی میں انسان کا کوئی وجود نہیں، اور اس کے اقدامات *جنیوا کنونشن* انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کو روندتے ہوئے انسانیت کی بنیادیں ہلا دیتے ہیں، اس کے ہر حکم کے پیچھے بربریت کی بو آتی ہے، ظلم کی بازگشت سنائی دیتی ہے، اور انسان کے وجود کو چیر دینے والی وحشت چھپی ہوتی ہے، دنیا اگر انصاف کا نام لینے کی معمولی بھی اہلیت چاہتی ہے تو نیتن یاہو جیسے مجرموں کو عالمی عدالت انصاف کے سخت ترین احتساب کے سامنے کھڑا کرنا ہی ہوگا۔
دوسری طرف *ڈونالڈ ٹرمپ* جیسے سیاسی کردار اس ظلم کے بڑے سہولت کار ہیں، وہ بندوق نہیں چلاتے لیکن بندوق چلانے والے ہاتھوں کو زبان دیتے ہیں، طاقت دیتے ہیں، تحفظ دیتے ہیں، اور ان کے جرائم کو عالمی سیاست کا لبادہ پہنا دیتے ہیں۔ ان کی پشت پناہی، ان کی پالیسیاں، اور ان کے بیانات اس ظلم کی آگ کو ہوا دیتے ہیں اور بربادی کو ایک نئے مرحلے تک پہنچا دیتے ہیں۔ یہ وہ کردار ہیں جو ظالم کو تخت دیتے ہیں اور مظلوم کو قبر، جو طاقت ور کے ساتھ کھڑے ہوکر کمزور کے خون کو نقصانِ جان کہہ کر گزر جاتے ہیں، دنیا کو صاف لفظوں میں ماننا ہوگا کہ جو ظلم کے پیچھے کھڑا ہو، وہ بھی جرم کی زنجیر میں جکڑا ہوتا ہے، اور اس کا نام تاریخ کے صفحوں پر شریکِ جرم کے طور پر لکھا جاتا ہے۔
اجتماعی سزا، عدالتی کارروائی کے بغیر ہزاروں افراد کو موت کے حوالے کرنا، بچوں اور عورتوں کی زندگیاں اجاڑ دینا، گھروں کو ملبہ بنا دینا، اور پوری قوم کو محاصرے میں رکھ کر تباہ کرنا یہ صرف ظلم نہیں بلکہ نسل کشی کی باقاعدہ تعریف ہے، وہ تعریف جس کی موجودگی سے خود انسانیت شرما جاتی ہے، ہم عدالت عظمیٰ اور عالمی عدالت انصاف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس اجتماعی موت کے پروانے کو فوراً منسوخ کیا جائے، نیتن یاہو، اسرائیلی عسکری قیادت، اور اس ظلم کی پشت پناہی کرنے والے تمام سیاسی چہروں بشمول ٹرمپ کو جنگی جرائم کے تحت سخت ترین قانونی احتساب کے سامنے لایا جائے، اگر دنیا نے اب بھی خاموشی کی چادر اوڑھے رکھی تو یہ خاموشی بھی جرم کہلائے گی، اور تاریخ فیصلہ لکھ چکی ہے کہ فلسطین کے قاتل صرف وہ نہ تھے جنہوں نے بم گرائے، بلکہ وہ بھی تھے جنہوں نے ظلم کو زبان دی، طاقت دی، اور خاموشی کا لبادہ اوڑھ کر مجرموں کے ساتھ کھڑے رہے،فلسطینیوں کو آزادی کا پروانہ دیا جائے، نیتن یاہو اور ڈونالڈ ٹرمپ کو سزا دی جائے، واقعی کرسی قضا اور عدالت عظمی پر بیٹھے لوگ اپنے آپ کو انسان کہلانا چاہتے ہیں تو انہیں ظالموں کو سزا اور قیدیوں کو رہائی کے دستاویزات جاری کرنے ہوں گے۔

                  *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*