درودِ شریف وہ آفاقی نغمہ ہے جو دلِ شیدا کی گہرائیوں سے ابھرتا ہوا عرشِ بریں کی فضاؤں میں ایک نورانی ارتعاش پیدا کرتا ہے۔ یہ محض الفاظ کی ترتیب نہیں بلکہ ایک سرمدی ترانہ ہے جس میں کیفِ محبت، سوزِ عقیدت، اور رمزِ بندگی کا حسین امتزاج جلوہ گر ہوتا ہے۔ جب کوئی عبدِ مخلص درود و سلام کے لعل و گہر اپنے لبوں سے نچھاور کرتا ہے تو گویا وہ بارگاہِ نبوی ﷺ میں اپنی جانِ مضطرب کو نذرِ عقیدت پیش کر رہا ہوتا ہے۔
درود، وہ نکہتِ جاوداں ہے جو گلستانِ قلب کو معطر کرتی ہے، وہ شعاعِ تاباں ہے جو ظلمت کدۂ باطن کو منور کر دیتی ہے۔ اس کی ہر صدا میں ایک وجد آفریں تاثیر پوشیدہ ہے، ہر حرف میں ایک روح پرور حلاوت، اور ہر تکرار میں ایک انجذابِ باطنی کا سامان۔ اہلِ معرفت کے نزدیک درود شریف ایک ایسا گوہرِ نایاب ہے جس کی چمک سے حیات کے اندھیرے گوشے بھی ضیاء بار ہو جاتے ہیں۔
جب دلِ عاشق پر سوزِ محبت کا غلبہ ہوتا ہے اور آنکھوں میں اشکِ نیاز کی جھلملاہٹ پیدا ہوتی ہے تو درود شریف ایک خاموش دعا بن کر لبوں پر آ جاتا ہے۔ یہ وہ لطیف راز ہے جو بندے کو آستانۂ رحمت تک لے جاتا ہے، وہ معراجِ عشق ہے جہاں فکر و خیال کی رسائی بھی مضمحل ہو جاتی ہے۔ اس لمحہ، بندہ اپنے وجود کی تمام کثافتوں سے ماورا ہو کر ایک نورانی کیفیت میں ڈھل جاتا ہے۔
پس، اے سالکِ راہِ محبت! درود شریف کو اپنی شب و روز کی زینت بنا، اسے اپنی سانسوں کی لے میں سمو لے، کہ یہی وہ اکسیرِ سعادت ہے جو دل کو زندہ جاوید، روح کو پُر نور، اور تقدیر کو رشکِ افلاک بنا دیتی ہے
وصلی اللہ علی النبی الأمی
محمد مصعب پالنپوری