سعدیہ فاطمہ عبدالخالق
ناندیڑ مہاراشٹر
8485884176
*اُردو ہماری مادری زبان*
تعریف تمام کائنات کے رب کی جس نے یہ جہاں بنایا ، انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا گیا اور علم کا تحفہ دیا گیا ، اقراء سے شروع ہو کر آج ہم نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ مصنوعی ذہانت تک پہنچ چکے ہیں ، مصنوعی ذہانت تک پہنچے میں بھی علم ہی نے سہارا دیا ہے ، علم کی ترقی و کامیابی کا راز مادری زبان میں چھپا ہوا ہے ، سائنس کہتی ہے کہ انسان وہی بات کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے جو اس نے رحم مادر میں رہ کر محسوس کی ہو ، ماں کی ہر حرکت بچہ اپنے اندر جذب کر لیتا ہے ، ماں کی محبت کا احساس اسے بڑھوتری دیتا ہے اسی لئے تو زبان کے لئے مادری کا لفظ جڑا ہے ، ماں کا لفظ تو ہمارے ساتھ بھی جڑا ہے کہ اللّٰہ بندے سے ستر ماؤں کی محبت رکھتا ہے ، ماں کی محبت میں انہتر گناہ بڑھا کر محبت بتائی گئی ، سوچنے والی بات یہ ہے کہ اس کے لئے کوئی دوسرا لفظ استعمال نہیں ہوا ہے ، ماں کا لفظ استعمال ہوا ہے ، ہماری بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اس بات کو پوری زندگی نبھاتے رہیں ، حق ادا کرتے رہیں ، لیکن ہمیں زندگی کی اتنی زیادہ سمجھ مل جاتی ہے کہ ہم اپنی مادری زبان کو زبردستی بھولنے کی کوشش کرتے ہیں ، ہماری مادری زبان اُردو جو قرآن کریم کا ترجمہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے ، ہماری مادری زبان اُردو جو ہماری تہذیب وتمدن کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے ، ہماری مادری زبان اُردو سلیقہ نبھانے میں مدد دیتی ہیں ، اس کی شیرینی و لطافت کا احساس ہماری رگوں میں دوڑتا ہے ، لیکن ہم اپنی زندگی کے ساتھ ماڈرن کا لفظ جوڑنے فخر محسوس کرتے ہیں اور سب سے پہلے ہم اپنی ہی زبان سے انجان بنتے ہیں ، جو آسان زبان ہے اسے پرے دھکیل کر غیر کی زبان کو گلے لگاتے ہیں ، اور اپنے بچوں کو انگریزی تعلیم دلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں ، بچے کو ماحول اردؤ زبان کا اور تعلیم انگریزی زبان کی ۔۔۔۔۔۔ اس میں بچہ تعلیم کے لئے دو زبانوں کے چکر میں پھنس جاتا ہے ، ۔۔۔۔۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم ۔۔۔۔ کا حال ہوتا ہے ، گھر میں سرپرست حضرات بچے کے لئے چھوٹے چھوٹے الفاظ انگریزی کے استعمال کرنے لگتے ہیں کیونکہ وہ انگریزی کے بڑے جملوں سے واقف نہیں ہوتے ہیں انھیں دہرانے میں دقت ہوتی ہے تب وہ مادری زبان اُردو کو دہرانے میں شرم محسوس کرتے ہیں اور یہی جھجک احساس کمتری کا شکار بنا دیتی ہے اور دونوں زبانوں سے روٹھنے کا موقع آجاتا ہے ، جس بچے کے سنہرے خواب کے لئے انگریزی کو یا دیگر زبان کو چنا ہے وہ خواب سرپرست حضرات کی زبان کی خامیوں پر پردہ ڈالنے میں دھندلے پڑجاتے ہیں ، اور دوش بچے پر دیا جاتا ہے ، زیادہ نوٹ خرچ کرنے پر بچے کی ترقی رہے گی اس جھوٹے بھرم میں نقصان اٹھاتے ہیں ، زندگی کے اہم اور قیمتی لمحات گذرنے کے بعد یہ احساس ہوتا ہے تب لکیر پیٹتے رہ جاتے ہیں ، بچہ مادری زبان میں تعلیم حاصل کرے گا تو وہ دوسرے سبجیکٹ کو سمجھے گا ، مادری زبان کی وجہہ سے بچہ سائینس کو سمجھے گا ، مادری زبان کہ وجہہ سے ریاضی کو حل کرے گا ، مادری زبان کی وجہہ سے وہ اپنی تحقیقات کو مکمل کرسکے گا ، ایک ایک سیڑھی وہ اپنی منزل کی جانب بڑھتا رہے گا ، مادری زبان اُردو ، اسے اس کی خوابوں کی دنیا تک پہنچائے گی ، دسویں کے بعد سے تعلیم کا ہر راستہ انگریزی میں ہی ہے ، اسے مادری زبان کا واسطہ نہیں ہے ، اس لئے اس منزل پر آنے سے پہلے اردو میں پرفیکٹ بنادیں تاکہ انگریزی کو سیکھنے اور سمجھنے میں آسانی ہو جائیں ، اس کے لئے بچے کو مادری زبان اُردو کی تعلیم دلوانا ضروری ہے ، اُردو زبان آسان ، فصیح اور بہت خوب صورت زبان ہے ، اس کی درجہ بندی نہیں ہوسکتی ، کیونکہ بچہ جو سنتا ہے وہی کہتا ہے ، سننے کا عمل سیکھنے کے لئے سب سے موثر ہے ، اس لئے گھروں اور ابتدائی مدارس میں شروع سے ہی اگر صحیح اردؤ الفاظ و صحیح تلفظ کا استعمال کیا جائے تو اُردو زبان کبھی مشکل نہیں ہو سکتی ، رہی بات انگریزی الفاظ کی تو ہم خود تمام اہم اصطلاحات کے لئے انگریزی کا ہی استعمال کرتے ہیں ، بہت سارے اُردو کے الفاظ ہمیں معلوم ہوتے ہیں ، جہاں سرپرستوں کا ذکر ہو تمام والدین پڑھے لکھے نہیں ہوتے ہیں ، گھروں میں علاقائی زبان میں عام بول چال کی زبان بولی جاتی ہیں ، جس میں کئی زبانیں بولی جاتی ہیں ، اس کے علاوہ گھر میں اردو سے جڑے اخبارات یعنی کتب بینی اور اخباربینی کا رواج نہیں ہوتا ہے ، جس کے سبب بچہ صحیح اُردو نہ بول سکتا ہے نہ اور نہ سمجھ پاتا ہے اور نہ لکھ سکتا ہے ، اردؤ زبان کی شیرینی کو بچہ محسوس کرنا چاہئے ، اُردو زبان یقیناً شیرین زبان ہے ، ایک زمانے میں یہ شاہی زبان بھی رہ چکی ہے ، ماہرین تعلیم کے مطابق بچہ اپنی مادری زبان میں جلدی سیکھتا اور سمجھتا ہے ، اردؤ کے ذریعے بچوں کی سوچنے سمجھنے اور اظہار کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے ، مادری زبان میں انسان اپنے جذبات اور احساسات کو زیادہ آسانی اور سچائی سے بیان کر سکتا ہے ، ماہرین تعلیم کے مطابق بچہ اپنی مادری زبان میں جلدی سیکھتا اور سمجھتا ہے ، اردؤ کے ذریعے بچوں کی سوچنے ، سمجھنے اور اظہار کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے ، مادری زبان میں انسان اپنے جذبات اور احساسات کو زیادہ آسانی اور سچائی سے بیان کر سکتا ہے ، اردؤ زبان محبت درد خوشی غم اور ادب کے اظہار کے لئے بہت موزوں زبان ہے ،
اردؤ زبان محبت ، درد ،۔خوشی غم اور ادب کے اظہار کے لئے رابطے کی زبان ہے جو مختلف قوموں ، مذاہب اور طبقوں کو آپس میں جوڑتی ہیں ، یہ زبان اتحاد ، بھائی چارے اور محبت کی علامت سمجھی جاتی ہیں ، ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اُردو کی ترویج و ترقی کے لئے نئی نسل کو مادری زبان اُردو سے جوڑیں رکھیں ، اس سے ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل ہوگی ان شاءاللہ
مادری زبان اُردو کی اہمیت صرف زبان تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ہماری تہذیب ، تاریخ ، تعلیم اور اخلاق کا بنیادی حصہ ہے ، اردؤ کی حفاظت اور فروغ ہم سب کی ذمہ داری ہیں ، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اپنے اصل ورثے سے جڑی رہیں اور ہم اپنی ذمہ داری نبھاتے رہیں ، ڈیجیٹل دور میں مادری زبان اُردو ، کی اہمیّت محض ابلاغ تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ہماری شناخت ، تہذیب ، تعلیم اور فکری ارتقاء کا سر چشمہ ہے اس کی ترویج و ترقی ہم سب کی ذمہ داری ہے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس کے علمی و ادبی خزانے سے مستفیض ہوسکیں ان شاءاللہ ۔