سعدیہ فاطمہ عبدالخالق
 ناندیڑ مہاراشٹر 
8485884176
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*اپریل فول بنایا*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ، زمین پر دن اور رات تیزی سے حرکت کر رہے ہیں ، اور اس تیزی میں کئی دنوں کو کسی بھی مناسبت سے منانے ہم تیار بیٹھے ہیں ، مغربیت سے آئی ہوئی باتوں کو پکڑ کر اپنانے میں فخر محسوس کیا جا رہا ہے ، سال کے شروع ہوتے ہی ، نیا سال کا جشن ، پھر ویلنٹائن ڈے کا جشن ، عالمی یوم خواتین کا جشن ، پھر اپریل فول منانا ، یہ ساری باتوں میں الجھنے کے باوجود بھی یہ احساس ختم ہو گیا کہ یہ فالتو رسم و رواج ہیں ، دیکھیں کہ اس کی شروعات کہاں سے ہوئی ہیں ۔۔۔۔۔
اپریل فول ( یکم اپریل) دوسروں کے ساتھ عملی مذاق ، جھوٹ بول کر بیوقوف بنانے اور خوشی منانے کا ایک مغربی تہوار ہے جو سولہ ویں صدی کے یورپ ( فرانس/ نیدر لینڈز) سے شروع ہوا اس کی مقبولیت کیلنڈر کی تبدیلی ، نئے سال کی جشن کے تاریخوں یا قدیم بہاری تہواروں (جیسے ،، بلیر یہ ،،) سے منسوب کی جاتی ہیں ، تاریخی پس منظر میں یوں کہا جاتا ہے کہ 1564ء میں فرانس میں کیلنڈر تبدیل کیا گیا اور نیا سال مناتے رہے ، انھیں ,, اپریل فول ،،( اپریل کا بیوقوف) کہا جانے لگا ، اپریل فول (April Fool)ہر سال یکم اپریل کو منایا جانے والا ایک غیر رسمی دن ہے ، جس میں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ہلکے پھلکے مذاق اور شرارتیں کرتے ہیں ، اس دن کا مقصد ہنسی مذاق کے ذریعے خوشی پھیلانا ہوتا ہے ، بعض اوقات یہ مذاق حد سے بڑھ جاتے ہیں اور دوسروں کے لئے تکلیف یا پریشانی کا سبب بھی بن سکتے ہیں ، 
’’اپریل فول‘‘  کی رسم مغرب سے ہمارے یہاں آئی ہے اور یہ بہت سے کبیرہ گناہوں کا مجموعہ ہے ،
* اس دن صریح جھوٹ بولنے کو لوگ جائز سمجھتے ہیں ، جھوٹ کو اگر گناہ سمجھ کر بولا جائے تو گناہِ کبیرہ ہے اور اگر اس کو حلال اور جائز سمجھ کر بولا جائے تو اندیشہٴ کفر ہے ، جھوٹ کی برائی اور مذمت کے لیے یہی کافی ہے کہ قرآن کریم نے ” لعنت اللّٰہ علی الکاذبین“  فرمایا ہے ، گویا جو لوگ ’’اپریل فول‘‘ مناتے ہیں وہ قرآن میں ملعون ٹھہرائے گئے ہیں، اور ان پر خدا تعالیٰ کی ، رسولوں کی ، فرشتوں کی ، انسانوں کی اور ساری مخلوق کی لعنت ہے ، 
* اس میں خیانت کا بھی گناہ ہے ، چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ۔۔۔۔
”کبرت خیانةً أن تحدث أخاک حدیثاً هو لک مصدق وأنت به کاذب رواه
 أبوداود (مشکاۃ ص:۴۱۳) 
ترجمہ:…” بہت بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے ایک بات کہو جس میں وہ تمہیں سچا سمجھے ، حالانکہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔“
اور خیانت کا کبیرہ گناہ ہونا بالکل ظاہر ہے ، 
* اس میں دوسرے کو دھوکا دینا یہ بھی گناہ کبیرہ ہے ، حدیث میں ہے کہ ۔۔۔۔۔ 
”ومنْ غشَّنا فليسَ منَّا ‘‘.  (مسلم)
ترجمہ:…”جو شخص ہمیں (یعنی مسلمانوں کو) دھوکا دے ، 
* *جھوٹ برائیوں کی جڑ ہے*
بے شک جھوٹ برے اخلاق میں سے ہے جس سے سب ہی شریعتوں نے ڈرایا ہے ، جھوٹ نفاق کی نشانی ہے اور اللہ کے رسول ﷺ نے اس کی سختی سے ممانعت فرمائی ہے ، آپ ﷺ کے فرمان کے مطابق جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ ہمیشہ سچ بولے یا خاموش رہے ، مزید براں اللہ کے رسول ﷺ نے اس شخص پرخصوصی طور پر لعنت فرمائی ہے جو جھوٹ بول کر لوگوں کو ہنساتا ہے ، آج کل لوگ مزاح کے نام پر انتہائی جھوٹ گھڑتے ہیں اور لوگوں کو جھوٹے لطائف سنا کر ہنساتے ہیں ، آپ ﷺ کے اقوال مبارکہ کی روشنی میں اپریل فول جیسی باطل رسوم وروایات کو اپنانے اور ان کا حصہ بن کر لمحاتی مسرت حاصل کرنے والے مسلمانوں کو سوچنا چاہیے کہ ایسا کر کے وہ غیر مسلم مغربی معاشرے کے اس دعوے کی تصدیق کرتے ہیں جس کی رو سے لوگوں کو ہنسانے ، گدگدانے اور انکی تفریح طبع کا سامان فراہم کرنے کے لیے جھوٹ بولنا انکے نزدیک جائز ہے جبکہ آپ ﷺ کے فرمان کے مطابق جھوٹ کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دینا اور انہیں تفریح فراہم کرنا اور ہنسانا سخت موجبِ گناہ ہے ، کتاب وسنت میں جھوٹ کی شدید ممانعت آئی ہے اور اس کی حرمت پراجماع ہے اور جھوٹے شخص کیلئے دنیا و آخرت میں برا انجام ہے ، اپریل فول منانے کی روایت کو بدقسمتی سے اغیار کی اندھی تقلید میں مسلمانوں نے بھی اپنا لیا ہے اور ہر سال نہایت ہی جوش وخروش کے ساتھ مناتے ہیں اور پھر اپنی کامیابیوں پر فخر کرتے ہوئے اور اپنے شکار کی بے بسی کو یاد کرکے اپنی محفلوں کو گرماتے رہتے ہیں ، آج اپریل فول کا یہ فتنہ امت مسلمہ کی نوجوان نسل کے اخلاق کی پامالی کا سبب بن رہا ہے جسے وہ یہود و نصاریٰ کی پیروی کرتے ہوئے جھوٹ بول کر اپنے احباب و اقرباء کو بے وقوف بنانے کے لئے مناتے ہیں ، اپریل فول کا جھوٹ اور مذاق بےشمار لوگوں کی زندگیوں میں طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے ، اپریل فول کا شکار ہونے والے کئی لوگ ان واقعات کے نتیجے میں شدید صدمے میں مبتلا ہوکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ، کئی مستقل معذوری کا شکار ہو کر ہمیشہ کے لئے گھر کی چہار دیواری تک محدود ہو جاتے ہیں ، کتنے گھروں میں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور کتنے خوش وخرم جوڑے مستقلًا ایک دوسرے سے متعلق شکوک وشبہات کا شکار ہو جاتے ہیں اور مذاق کرنے والے ان سارے ناقابل تلافی صدمات اور نقصانات کا کسی طور پر بھی کفارہ ادا نہیں کر سکتے ہیں مسلمانوں کے لئے ان غیر شرعی اور غیر اسلامی رسوم و رواج کو منانے کے حوالے سے یہ بات یقینا سخت تشویشناک ہونی چاہیے کہ یہ غیر اسلامی ہیں اور اسلام کی عظیم تعلیمات اور اخلاقی اقدار کے منافی ہیں ، اس لئے ہمیں چاہیئے کہ ایسی حرکات و باتوں سے پرہیز کریں ، اور اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بتائی گئی باتوں کی پیروی کی کریں ، تاکہ آخرت میں ان باتوں کی وجہ سے ہمارے حساب کتاب میں آسانی ہو ، ہمیں نئی نسل کو ان باتوں سے بچانا چاہیے یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے ، اصل خوشی اسی میں ہے کہ ہم دوسروں کو خوش رکھیں اور کسی کا دل نہ دکھائیں ، اللّٰہ ہم سب کو جھوٹ سے بچائے ، اللّٰہ ہمارے علم و عمل کو قبول فرمائے اور اللّٰہ ہم سب سے راضی ہوجائے ، آمین ۔