قرآن کریم ہدایت والی کتاب ہے خود قرآن اپنا تعارف کتاب ہدایت سے پیش کرتا ہے ۔هديً للمتقين.......
قرآن یہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ وہ تحفہ ہے جس کا مثل لانے سے دنیا عاجز و پریشان ہے زمانے پر زمانے گزر گیے ،صدیاں بیت گئیں ۔مگر کوئی اسکا مثل لانہ سکا
مَضَتِ الدُّهُوْرُ وَمَا أَتَيْنَ بِمِثْلِه
وَلَقَدْ أَتٰي فَعَجَزْنَ عَنْ نُظَرَائِه
(ترجمہ) زمانے بیت گیے لیکن اسکا مثل نہ لاسکے
اور جنھوں نے لانے کی کوشش کی اسکا مثل نہ بناسکے
ایسا عظیم الشان کلام جس سن پتھر موم ہو جاتے ہیں ،آنکھیں اشکبار ہوجایا کرتی ہیں ۔دل خوف خدا سے لرز اٹھتا ہے ۔جس نے اپنے حاملین کو اوج ثریا پر پہونچا دیا ۔ایسا کلام ربانی ہے جس نے اسکو تھاما اور عضو علیھا بالنواجذ کا پیکر بنا ۔قرآن اسکو کامیابی وکامرانی سے ہمکنار کیا ۔انکی ڈوبتی ہوئی نیاکو کنارہ دیا ۔مسِ خام کو انسانیت کا کندن بنادیا اونٹ کی مینگنیوں سے کھیلنے والے لوگوں انسانیت کارہبر بناکر پیش کیا۔۔۔۔۔
مگر آج مسلمان پستی میں گرتا جارہاہے اسکا سبب ہے کہ مسلمانوں نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا ۔ہماری مساجد ومعابد ویران وبےآباد ہیں۔ہم قرآن کے حقوق سے کوسوں دور ہیں
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر
ہم خوار ہوئے تارک قرآں ہوکر
مسلمانوں کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب قرآن کو مضبوطی سے تھاما جائے ۔۔۔
(مضبوطی سے تھامنا)کامطلب قرآن کے حقوق کا پاس وخیال رکھا جائے
قرآن کے حقوق کیا کیا ہیں ؟
قرآن کا حق یہ ہے اسکو درست تجوید کے ساتھ پڑھاجائے اسکی تلاوت کا اہتمام کیا جائے
اور قرآن کا اہم ترین حق یہ بھی ہے کہ قرآن کا مفھوم سمجھا جائے کہ قرآن ہم سے کیا کہہ رہا ہے ۔قرآن ہم سے کیا مطالبہ کرتا ہے ۔۔۔اسکے لیے ضروری ہے کہ پڑھے لکھے حضرات قرآن کا ترجمہ اور تفسیر کا مطالعہ کریں ۔اگر ہوسکے مساجد میں درس قرآن اور تفسیر کے حلقے لگائیں جائیں ۔اپنے اماموں کواسکی جانب متوجہ کیا جائے۔ہرمسلمان پر اپنی حیثیت کے مطابق قرآن صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنااور ترجمہ و تفسیر کرنا ضروری ہے
رسول خدا صلی جب قرآن پاک کی تلاوت فرماتے ۔آپ کی تلاوت ایسی تھی کہ ہر آیات میں غور و فکر اور تدبر فرماتے تھے سیدنا حذیفہ رض سے روایت ہے کہ كَانَ إِذا مرَّبآيةِرحمةٍاستبشرَوَسألَ وإذا مرَّ بآية عذابٍ تعوَّذَ وإذا مرَّبآية تنْزيهٍ نزَّهَ وسبَّحَ......
لہذا قرآن کریم کی تلاوت کے ساتھ ساتھ قرآن کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔۔ اسکا ایک اجتماعی طریقہ یہ بھی ہے کہ رات سونے سے قبل سارے گھر والے ایک جگہ اکٹھے ہوکر ایک رکوع یا رکوع سے کم کی صحیح تلاوت کی جائے پھر اسکا ترجمہ بیان کیا جائے اور کسی مستندصحیح تفسیر ( معارف القرآن ۔بیان القرآن ۔ہدایت القرآن ۔ترجمہ شیخ الہند وغیرہ) میں جو کچھ اس رکوع کی تفسیرمیں لکھا ہے اسکو صحیح صحیح بیان کردیا جائے۔۔۔ اس طرز سے دو یا تین سال میں مکمل قرآن کی تفسیر سے شناسائی پیدا ہوجائے گی اور گھر کے ہر ہر فرد کو قرآن سے خصوصی شغف اور محبت پیدا ہوجاۓ گی۔۔۔۔۔
گھر کے ہرکہ ومہ کا قرآن سے ایسا تعلق پیدا ہوجائے گا جو ساری زندگی برقرار رہے گا اسکی وجہ گھر اور خاندان میں خیروبرکت کا نزول ہوگا اور پریشانیاں ختم ہوں گی ۔۔
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں
اللہ کرے تجھ کو عطا جدتِ کردار