*گھر ویران اس وقت ہوتے ہیں جب منصف انصاف ور نہ ہو*
گھر کبھی ٹوٹتی دیواروں سے ویران نہیں ہوتے، نہ ہی ان کی خاموشی دراڑوں سے جنم لیتی ہے، اصل ویرانی تو اس پل اترتی ہے جب گھر کا منصف باپ ہو یا ماں، شوہر ہو یا کوئی بزرگ عدل کی لکیر سے ہٹ جائے، ایک ناعادلانہ بات، ایک جھکا ہوا ترازو، ایک لمحے کی طرف داری، یہی وہ شرارہ ہے جو بظاہر آباد گھروں کی فضا کو اندر سے جلا کر راکھ کر دیتا ہے،گھر اینٹوں یا لکڑیوں کا نام نہیں، گھر اصل میں دلوں کی بستی ہے، اور دل اسی وقت آباد رہتے ہیں جب ان پر عدل کی روشنی پڑتی رہے۔ جب والدین اولاد میں فرق کریں، جب بہن بھائیوں کے درمیان فیصلے جذبات کی بنیاد پر ہوں، جب شوہر بیوی کے حق میں کمی کرے، یا گھر میں کسی کی بات سنی جائے اور کسی کو ہمیشہ دبایا جائے تب محبت کے باغ میں کانٹے اگنے لگتے ہیں، چہرے مسکراہٹیں کھو بیٹھتے ہیں، باتوں میں کڑواہٹ بھر جاتی ہے، اور نظر نہ آنے والی دوریاں گھر کے اندر دیواروں کی طرح کھڑی ہو جاتی ہیں۔
عدل وہ ستون ہے جس پر گھر کی پوری عمارت قائم ہے، یہی اعتماد پیدا کرتا ہے، عزت کو پروان چڑھاتا ہے، اور محبت کے رنگوں کو جِلا بخشتا ہے، مگر جب یہی ستون کمزور پڑ جائے تو سکون رخصت ہو جاتا ہے، قہقہے دم توڑ دیتے ہیں، چولہا گرم رہتا ہے مگر ذائقے مر جاتے ہیں، لوگ ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہیں مگر دل میلوں دور بھٹکتے ہیں، ناانصافی وہ زہر ہے جو آہستہ آہستہ محبت، عزت اور پھر گھر کی وحدت کو کھا جاتا ہے،اسی حقیقت کو سمجھانے کے لیے ایک پرانی مگر گہری کہانی مشہور ہے۔
*طوطا، مینا اور بوڑھے الو کی کہانی*
جنگل کے ایک خوبصورت گوشے میں طوطا اور مینا رہتے تھے، دونوں میں کبھی ان بن ہو جاتی، کبھی صلح جیسے ہر رشتے میں ہوتا ہے، چند دن کی ناراضگی کے بعد دونوں دوبارہ راضی ہو گئے، طوطے نے ہنستے ہوئے کہا چلو مینا! کہیں گھوم کر آتے ہیں، مینا نے خوشی سے سر ہلایا، دونوں آسمان کا سینہ کاٹتے ہوئے ایک گھنے جنگل میں پہنچے اور ایک بڑے درخت پر جا بیٹھے،یہ وہی درخت تھا جہاں ایک بوڑھا الو رہتا تھا جو کم بولتا تھا مگر ہر بات غور سے سنتا تھا،باتوں باتوں میں مینا نے ہنسی کے انداز میں کہا *جس درخت پر الو بیٹھ جائے، وہ درخت برباد ہو جاتا ہے* طوطے نے بھی قہقہہ لگایا۔
الو نے یہ بات سن لی، وہ خاموش رہا مگر اس کے دل میں ہلکی سی چبھن پیدا ہوئی، اس نے سوچا،آج اگر میں ان دونوں کو سبق نہ دوں تو یہ غلط بات ہمیشہ سچ مانی جائے گی،چند دن بعد الو نے طوطا اور مینا کو کھانے کی دعوت دی،دونوں آئے، کھانا کھایا اور خوشی خوشی جانے لگے۔ تب اچانک الو نے سنجیدگی سے کہا
*طوطے! یہ مینا دراصل میری بیوی ہے* یہ سن کر طوطا چونک گیا، جنگل کی ایک ایک شاخ جانتی تھی کہ مینا طوطے کی بیوی ہے الو کی نہیں! مگر بات بحث تک پہنچی، پھر بحث سے جھگڑے تک، اور آخرکار فیصلہ ہوا کہ قاضی کے پاس چلتے ہیں،تینوں عدالت میں پہنچے، وہاں قاضی نے بات سنی، شواہد کو دیکھا، مگر دل میں کہیں ناانصافی کا جھکا ہوا پلڑا پہلے سے موجود تھا، اس نے حیران کن فیصلہ سنایا *مینا الو کی بیوی ہے* طوطے پر تو جیسے پہاڑ ٹوٹ پڑا، آنکھیں بھر آئیں، دل بیٹھ گیا، اور شکست کا احساس اس کے پر بھاری کر گیا، وہ روتا ہوا عدالت کے دروازے سے باہر نکلا،اسی وقت الو پیچھے آیا، اس نے مینا طوطے کے حوالے کرتے ہوئے کہا لے جاؤ، یہ تمہاری ہی بیوی ہے،میں نے تو صرف تمہیں ایک بات سمجھانی تھی، *گھر اور بستیاں اس دن ویران نہیں ہوتیں جب الو آ کر بیٹھ جائے* ویرانی تو اُس دن آتی ہے *جب منصف غیر منصف ہو جائے* کرسیِ قضا پر بیٹھنے والوں کا ایمان اگر ڈھل جائے تو پھر ایک سچ بھی جھوٹ سے ہار جاتا ہے، اور ایک مینا بھی الو کی بیوی قرار دے دی جاتی ہے۔
طوطا خاموشی سے سن رہا تھا،
الو نے آخری بات کہی، جو پوری زندگی کا نچوڑ تھی،ویرانی کسی بدشگون پرندے کی وجہ سے نہیں آتی،ویرانی تو وہاں سے جنم لیتی ہے جہاں عدل مر جاتا ہے،اور یہی حقیقت گھروں پر بھی صادق آتی ہے،گھر اُس وقت برباد نہیں ہوتے جب ان میں الو بیٹھ جائے، نحوست اتر آئے یا حالات خراب ہو جائیں،گھر تو اس وقت برباد ہوتے ہیں جب منصف عدل چھوڑ دے،جب دل میں حق کی جگہ طرف داری بھر جائے،جب خواہشات انصاف کو ڈھانپ لیں،اور جب فیصلوں میں اللہ کا خوف ختم ہو جائے،کہانی بھی یہی کہتی ہے، اور زندگی بھی یہی یاد دلاتی ہے،گھر ویران تب ہوتے ہیں جب منصف انصاف ور نہ ہو،اور آباد تب ہوتے ہیں جب دل حق کے سہارے چلتے ہوں۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*