اس ملک کو آزاد ہوئے تقریبا پچہتر سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے ؛ لیکن اگر ملک اور اس کے حالات پر طائرانہ نظر بھی ڈالی جائے ، تو حقیقت آشکارا ہو جائے گی، کہ ملک تو آزاد ہے ؛ لیکن اس ملک میں مسلمان کسی طرح سے بھی آزاد نہیں ہے ، 1947 سے لے کر 2026 تک شاید ہی کوئی لمحہ تاریخِ ہندوستان میں ایسا آیا ہو ، جس میں مسلمانوں کو محسوس ہوا ہو ،کہ وہ واقعی یہاں آزادی کی سانس لے رہے ہیں ، ان کو زندگی گزارنے کے لیے آزاد فضا میسر ہے ،ان کو آگے بڑھانے کے لیے کبھی راہ ہم وار کیا گیا ہے، کبھی نہیں؛ بل کہ ہمیشہ ان کی آزادی پر تیشہ زنی کی گئی ، شر پسند عناصر کی طرف سے ہمیشہ ان کو چین و سکون سے محروم رکھا گیا ، کبھی مسلم پرسنل لا میں تبدیلی کے نام پر، کبھی رام مندر کا مدعا اٹھا کر ، کبھی این آر سی ، سی اے اے اور وقف ترمیمی ایکٹ جیسے سیاہ قانون لا کر، اور کبھی مدارس اسلامیہ کو دہشت گردی کا اڈا بتا کر ؛ غرض ہر طرح سے مسلمانوں کی آزادی کو سلب کرنے کی کوشش کی گئی ، اور انہیں یہاں کا دوسرے نمبر کی شہری بنا کر رکھنے کی مذموم جدوجہد کی گئی۔
        فرقہ فرست طاقتیں ہمیشہ اس تاک میں رہی ہیں کہ مسلمان کسی بھی میدان میں ترقی نہ کر پائے، نہ تعلیمی میدان میں، کہ کہیں آگے بڑھ کر ان کی قوت و سطوت اور ظلم و تشدد کے خلاف کھڑے ہو جائے ، اور نہ سیاسی میدان میں کہ کہیں ترقی کر کے ان کی تانا شاہی کو ختم کرنے کے لیے ایک جٹ ہوجائے ، اور یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے بڑے سیاسی لیڈران کو ہمیشہ جیل کی سلاخوں میں راتیں بسر کرنی پڑیں، اور ان کے علما کے لیے ہمیشہ زمین تنگ کی گئی، اور صرف معمولی سا بہانہ بنا کر سب کو قید خانوں میں ڈال دیا گیا۔
       آج جس طرح سے مولانا عبداللہ سالم صاحب کو ایک پرانے بیان کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ، اسے انصاف اور نیای تو ہرگز نہیں کہہ سکتے ؛ بل کہ سراسر ناانصافی اور ظلم ہے ، ایک بیان جس پر باضابطہ معافی مانگی جا چکی ہو ، اور جس کی وضاحت کئی مرتبہ خود مولانا کی طرف سے آگئی ہو ، اس کے باوجود بندوق کی نوک پر عام راستے سے اٹھا لینا یہ قانونی کاروائی تو ہرگز نہیں ہو سکتی؛ بل کہ یہ سراسر سازش کے تحت اغوا کرنا ہے۔
          آج آئے دن مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات دیے جاتے ہیں، لٹریچر شائع کیے جاتے ہیں ، باضابطہ اسٹیج سجا کر مسلمانوں کے خلاف اکسانے کے لیے بھاشن دیے جاتے ہیں، آسام کے وزیراعلی ہیمنت بسوا شرما سے کون ناواقف ہے ؟ اپنے سیاسی سٹیج سے کیسی غلیظ زبان کا استعمال کرتے ہیں، کون نہیں جانتا ؟ یوپی کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ مسلمانوں کے خلاف کیا نہیں بکتے ؟ سنسد جو کہ عام جنتا کو انصاف دلانے کے لیے قائم ہوا ہے ، وہاں بھی مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے نظر آتے ہیں ، ان کے علاوہ یتی نرسنگہا نند سرسوتی، سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر، کالی چرن مہاراج اور ساکشی مہاراج ، جیسے ہزاروں نام ہیں ، جو آئے دن مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیان دیتے رہتے ہیں ، انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ سب سے پہلے ان کی ناک میں نکیل ڈالی جاتی ، ان کی زبان پر لگام لگایا جاتا ، اور قانونی کارروائی کر کے ان کو جیل کی سلاخوں میں ڈال دیا جاتا ؛ مگر ایسا کبھی نہیں ہوگا ، یہ ہندوستان ہے ، جہاں جرم صرف مسلمان ہونا ہے، یہاں اگر چہرے پر داڑھی ہے، تو آپ دہشت گرد ہیں ، اگرسر پر ٹوپی ہے ، تو آپ آتنک واد ہیں، اگر آپ اذان دیتے ہیں ،تو دوسروں کے آرام میں خلل پڑتا ہے ؛ لیکن وہ رات دن لاؤڈ اسپیکر بجا کر آپ کا چین و سکون غارت کرے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
        آج مولانا عبداللہ سالم صاحب گرفتار ہوئے ہیں ، کل کسی اور کی باری ہوگی، ان کا تو مقصدہی یہی ہے کہ مسلمانوں کو ہر اعتبار سے بے دست وپا کر دیا جائے، ایسے وقت میں ضروری ہے کہ ہم مولانا کے ساتھ کھڑے ہوں، ان کے لیے آواز بلند کریں، ان کے لیے جتنا ہو سکتا ہے ہم کریں ، ہمارے قائدین کو بھی میدان میں آنا چاہیے ، مولانا کے لیے قانونی چارہ جوئی کی کوشش کریں، اور تعصب کے پردے کو چاک کر کے ان کی رہائی کے لیے کوشاں ہوں ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ آسانی کا معاملہ فرمائیں ، اور جلد از رہائی کی صورت پیدا فرمادیں ۔ آمین !
✍️: محمد شاہد گڈاوی