اسامہ حیدر
پہلے یہ واقعہ پڑھیے
اجمیر کے ایک عالم دین مولانا معین الدین صاحب شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات کی غرض سے دیوبند پہنچے۔ گھر پہنچ کر جب مولانا معین الدین اجمیری نے دروازے پر دستک دی تو ایک آدمی بنیان اور لنگی پہنے ہوئے باہر نکلا۔ انہوں نے اس آدمی سے کہا میں معین الدین ہوں اور میں شیخ الہند مولانا محمود الحسن سے ملنے کے لئے اجمیر سے آیا ہوں۔ اس آدمی نے کہا حضرت اندر تشریف لائیے۔ گھر میں بیٹھتے ہی مولانا معین الدین اجمیری نے کہا کہ آپ حضرت کو اطلاع کر دیں کہ معین الدین اجمیری ملنے کے لئے آیا ہے۔ اس آدمی نے کہا آپ گرمی میں آئے ہیں، کچھ دیر آرام فرما لیں اور پنکھا جھلنا شروع کر دیا۔ جب کچھ دیر گزری تو مولانا اجمیری نے کہا میں نے تم سے کہا جا کر حضرت کو اطلاع کر دو کہ اجمیر سے کوئی ملنے کے لیے آیا ہے۔ انہوں نے کہا، اچھا ، ابھی اطلاع کرتا ہوں ۔ چنانچہ اندر تشریف لے گئے اور کھانا لے آئے۔مولانا اجمیری نے اس آدمی سے کہا : میں یہاں کھانا کھانے نہیں آیا ہوں، میں شیخ الہند صاحب سے ملنے کے لیے آیا ہوں، مجھے ان سے ملاؤ۔ اس آدمی نے کہا حضرت آپ کھانا تناول فرمائیں ۔ ابھی ان سے ملاقات ہو جائے گی۔ چنانچہ کھانا کھلایا پانی پلایا؛ یہاں تک کہ مولانا معین الدین اجمیری صاحب ناراض ہونے لگے اور کہا میں تم سے بار بار کہہ رہا ہوں مگر تم جا کر ان کو اطلاع نہیں کرتے۔ تو اس آدمی نے کہا کہ حضرت! یہاں تو کوئی شیخ الہند نہیں رہتا، البتہ محمود الحسن اسی بندہ عاجز ہی کا نام ہے۔ (ماخوذ از: اصلاحی خطبات)
آپ نے واقعہ پڑھا ؟ یہ کون ہستی تھی؟ وہی ہستی جس کو دنیا شیخ الہند کہتی ہے۔ جو دار العلوم دیوبند کے پہلے طالب علم تھے اور پھر دار العلوم دیوبند کے صدر مدرس بھی بنے۔ جنہوں نے مالٹا کے جیل میں اسیری کی حالت میں قرآن کریم کا ترجمہ لکھا۔ جو ریشمی رومال جیسی عظیم تحریک کے بانی تھے۔ مگر آپ نے ان کا تواضع دیکھا؟ عاجزی و انکساری ملاحظہ کیا؟ آپ نے غور کیا کہ اتنا بلند مقام رکھنے اور عظیم شخصیت ہونے کے باوجود کس قدر خود کو چھوٹا سمجھتے تھے؟
ہم ان کو اپنے اکابرین میں شمار کرتے ہیں، ان پر فخر کرتے ہیں۔ ان کے واقعات کو اور سیرت کو اپنی تقریروں اور تحریروں میں بیان کرتے ہیں۔ مگر دل پر ہاتھ رکھ کر بولیے کہ کیا ہم میں بھی ایسی عاجزی ہے ؟ کیا ہم بھی خود کو کمتر سمجھتے ہیں ؟ کیا ہمارے ذہن میں کبھی اپنا نام کسی سابقے اور لاحقے کے بغیر آتا ہے؟ کوئی دوسرا صرف ہمارا نام لکھ دے، آگے پیچھے القاب و نسبت نہ ہو تو دل کیسا محسوس کرتا ہے ؟
صرف یہی ایک واقعہ نہیں، ڈھیر سارے واقعات کتابوں میں اپنے اکابرین کے بکھڑے پڑے ہیں؛ جس سے ان کا تواضع جھلکتا ہے۔ مگر ہمارا حال ہے کہ ہمیشہ خود نمائی ، خود سرائی، خود نوازی مست ہوتے ہیں۔ کسی سے تعارف کرانا ہو تو "مولانا فلاں"، "مفتی فلاں"، "قاضی فلاں" کہہ کر تعارف کراتے ہیں اور اس کے بغیر تعارف ادھورا محسوس کرتے ہیں۔ دو چار سطر لکھتے ہیں تو آخر میں نام سے پہلے مولانا/ مفتی/ قاضی خود سے لکھتے ہیں۔ دوسرا کوئی آدمی ان القابات کے بغیر نام لے لے تو ہم اپنی توہین محسوس کرتے ہیں۔ کاش اپنے ان اکابرین کی صفات کو اپناتے اور کائنات کے سب سے سچے انسان محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان عالی شان پر عمل کرتے۔ مَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ رَفَعَهُ اللَّهُ (جواللہ پاک کیلئے عاجزی کرتا ہے اللہ پاک اسے بلندی عطا فرماتا ہے) اپنے دل کو یقین دلاتے کہ عجز و انکساری ہی بندگی کا کمال ہے اور اسی میں مقبولیت کا راز مضمر ہے۔