*آپ کس معیار کی عورت ہو؟*
آج کی تحریر محرر کے دماغ میں اٹھنے والا وہ فتنہ ہے جو اسے بار بار سوال پر ابھارتا رہتا ہے اور پوچھنا چاہتا ہے اے میری ملت کی عظیم بہنوں آپ کونسی عورت ہو، میری یہ تحریر تمام حضرات پڑھیں خصوصا عورتیں اور خود کا تجزیہ کریں اور دیکھیں آپ کونسی عورت ہو۔
عورت کہاں نکھرتی ہے اور کہاں کھو جاتی ہے؟
عورت کبھی فطری طور پر غلط نہیں ہوتی اُسے معاشرہ حالات اور غلط فیصلے گمراہ کرتے ہیں، کہیں وہ قربانی دیتی ہے، کہیں سجدوں میں گر جاتی ہے تو کہیں کسی ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑنے لگتی ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کیا ہر عورت واقعی (عورت) بن پاتی ہے؟
یا کہیں راستے میں وہ صرف جسم آواز یا خود پسندی کی زنجیروں میں قید ہو جاتی ہے؟
آئیے آج عورت کی شخصیت کے ان پہلوؤں کو سمجھیں نہ تنقید کے لیے بلکہ تعمیر کے لیے، نہ فیصلے سنانے کے لیے بلکہ شعور جگانے کے لیے،بتائیں آپ کوئی معمولی عورت نہیں بلکہ آپ اسلام کی شہزادی ہو آپ نے زمانے والوں کے چکر میں نہیں پڑنا آپ وہ عظیم انسان ہو کہ اگر عبادت الہی میں غرق ہو کر خدائے قدوس کی بارگاہ میں استغاثہ پیش کردو خدارا تمہارے لیے پروانے جاری ہو جاتے ہیں، اور تمہارا وقار تو یہ ہے جب والدین کے گھر ہو تو والدین فخر محسوس کرتے ہیں اور ہر موڑ پر صرف آپکا چرچہ کرتے ہیں اور اگر کوئی کم بخت نا بھی کرے اور برا سمجھے تو اس سے کیا ہوتا ہے میرے نبی ﷺ نے فرمادی ہے( اللہ رب العزت جب کسی انسان سے خوش ہوتا ہے تو اسے بیٹی عطا فرماتا ہے) میرا نبی صادق و مصدوق ہے، جب آپ شوہر کے گھر آ گئیں اللہ نے شوہر کی روزی روٹی میں برکتیں عطا فرمادی، ارشاد فرمایا(اللہ کے نبی ﷺ: اے صحابہ اگر مالدار ہونا چاہتے ہو تو نکاح کر لو) اور جب اللہ کریم نے آپکو اولاد عطا کر دی، محنت کرنے والا باپ نان و نفقہ باپ کے ذمّے لیکن پھر فرمایا اللہ کے نبی ﷺ نے ماں کے قدم کے نیچے جنت ہے اور آپکی عزت کی اس قدر اسلام نے حفاظت کی کہا کہ آپکو اپنے والدین سے افففف بھی کہنے کی اجازت نہیں خدارا آپکو اپنے آپ کو سمجھنا ہوگا، آپ کوئی معمولی عورت نہیں لیکن آپکو اسلام کے قوانین کو سمجھنا ہوگا آپ یقینا ایک اعلی معیار کے لوگ ہو لیکن خود کو سمجھنا ہوگا، یہ بات یاد رکھیں کوئی مرد آپکے بغیر پورا بھی نہیں، اور کسی مرد کو آپکی ضرورت بھی نہیں یہ ایک فلسفہ ہے۔
٭مجھے امید ہے آپکو سمجھ آ گیا ہوگا اسلام نے کتنی عزتیں عطا کی ہیں٭
خیر آگے چلیے گا موضوع کی طرف چلتے اور ان سوالوں کو آپ پر قائم کرتے ہیں:
پہلا موڑ: وہ لڑکی جو آئینے کو اپنی حقیقت سمجھ بیٹھتی ہے وہ جو جسم کو طاقت سمجھتی ہے چہرے کو کامیابی کی کنجی اور مرد کی توجہ کو فتح کا جھنڈا اس کی دنیا سوشل میڈیا کی تصویریں ہیں لائکس کی تعداد اور سیلفی کا بہترین زاویہ، وہ سوچتی ہے کہ کھل کر جینا ہی آزادی ہے چاہے اس کا مطلب بےپردگی ہو یا بےفکری وہ پرکشش تو ہے مگر بکھری ہوئی، وہ نظر ضرور آتی ہے مگر اثر نہیں چھوڑتی
وہ عورت نہیں بنی وہ صرف ایک (دل لبھانے والی لڑکی) ہی رہ گئی، اور اب پوری زندگی صرف وہ دل لبھانے کا کام کر رہی ہے اور کچھ بھی نہیں۔
دوسرا مرحلہ: وہ خاتون جو صرف عقل کی روشنی میں جیتی ہے
ہاتھ میں ڈگری مگر دل میں خلا
وہ خودمختاری کا پرچم تھامے ہوئے ہے مگر تنہائی سے ڈری ہوئی
(میرا جسم میری مرضی) کے نعرے لگاتی ہے مگر خود اپنی مرضی کی حقیقت سے ناآشنا ہے، مرد اس کی نظر میں ظالم ہے اور رشتہ ایک زنجیر
وہ بات تو کرتی ہے مگر دل سے نہیں، بلکہ ہر بات کی دلیل دیتی ہے مگر ربط نہیں، وہ ذہین ہے مگر حکمت سے خالی، شعور ہے مگر سکون نہیں، وہ صرف چند لوگوں کے درمیان اپنی ڈگری لیکر بیٹھ کر اپنے آپکو مذہب اسلام سے درکنار سمجھتی ہے اور وہ صرف اسی کو اپنا سب کچھ سمجھ بیٹھی ہے، خدارا کوئی یہ نا سمجھے میں عصری تعلیم کا مخالف ہوں میں خود ابھی بھی عصری تعلیم پڑھ رہا ہوں،لیکن میرا مقصد میری بہنوں کو دین سے جوڑنا ہے، اور بتانا ہے آپ کس صلاحیت کی مالک ہو، آپ کے اندر وہ صلاحیت ہے کہ آپ اپنے شوہر کو ایک اعلی مقام عطا کر سکتی ہو لیکن آپ اس قابل تبھی بنو گی جب اسلام کو سمجھو گی۔
تیسرا مقام: وہ بیوی جو فہم وفا اور وقار کی پہچان ہے، وہ جانتی ہے کہ محبت کے ساتھ ساتھ نظم بھی رشتے کی بنیاد ہے، وہ شوہر کو بوجھ نہیں امانت سمجھتی ہے، اس کا جمال چھپا ہوا ہوتا ہے مگر ظرف بے مثال
وہ مشورہ دیتی ہے مگر تلخی نہیں لاتی، وہ نبھاتی ہے مگر خود کو مٹائے بغیر، ایسی عورت صرف بیوی نہیں وہ سکون حفاظت اور جنت کی دہلیز ہوتی ہے، اور پھر زمانہ دیکھتا ہے کہ وہ صرف ایک اچھی بیوی ہی نہیں وہ ایک اچھی ماں بھی ہوتی ہے، اور اپنے بچوں کی بہترین معمرہ بھی ہوتی ہے۔
چوتھا درجہ: وہ ماں جو نسلیں سنوارتی ہے انا نہیں، یہ ماں صرف بچے پیدا نہیں کرتی وہ نظریے بُن کر دیتی ہے، وہ راتوں کو جاگتی ہے اپنے بچوں کے لیے رو لیتی ہے اور خود کو ان کے خوابوں پر قربان کر دیتی ہے
اسے دنیا کی داد نہیں بس اپنے بچوں کی کامیابی پر ملی ہوئی دعا کو حقیقت میں دیکھنا چاہتی ہے،
وہ صرف عورت نہیں ہوتی وہ نسلوں کی روشنی دعاؤں کا جواب اور جنت کی مہک ہوتی ہے۔
مگر افسوس کچھ عورتیں رک گئیں
کچھ صرف حسن اور جسم کی دنیا میں الجھ گئیں، کچھ صرف عقل کی روشنی میں تنہائی کا اندھیرے میں کھو گئیں، اور مسلم عورتوں نے اپنے آپکو یہ سمجھ لیا ہم نے صرف ہاؤس وائف بننا ہے اور کچھ بھی نہیں یار آپکو گھر میں رہنے کی اجازت اسلام نے اسلیے دی ہے کہ آپ گھر کے بچوں کو اچھی تربیت دو انہیں زمانے کے تاریک راہوں سے روشناس کراؤ اور انہیں بتاؤ کہ آپنے صرف کمانے والا نہیں بلکہ اسلام کے لیے جان دینے والا بھی بننا ہے، کسی مظلوم کے دبتے ہوئے پنجے کو سہارا دینا ہے جو اسلام کی تہذیب ہے، لیکن خدارا ہم اپنی تہذیب سے بھٹک چکیں ہیں اور اس قوم کو اگر کوئی ہستی ہماری تہذیب پر لا سکتی ہے تو وہ ہماری ماؤں کی وہ گود ہیں جن میں کبھی اسلام پلتا تھا، اللہ وہ دن عطا کرے اور میری بہنوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمیـــــــــــــــــن۔
جب آپکا قدم ہلکا سا لڑکھڑایا پھر پوری امت منہ کے بل گر چکی ہے،
رشتے بکھرنے لگے مرد بہکنے لگے اور بچوں نے خود اعتمادی کھو دی
سوال یہ نہیں کہ تم عورت ہو سوال یہ ہے کہ تم کون سی عورت ہو؟
کیا تم ابھی بھی آئینے میں اپنی پہچان تلاش کر رہی ہو؟
یا شعور کے راستے پر سفر کر رہی ہو؟
کیا تم دلیل دیتی ہو یا دل جیتنے کا ہنر رکھتی ہو؟
کیا تم صرف بیوی بننے کی خواہش رکھتی ہو یا ماں بننے کا عزم بھی؟
میری تم سے صرف ایک گزارش ہے عمر کا حساب نہ لو شعور کا لو
کیا تم خود پر قابو رکھ سکتی ہو؟
کیا تم انا کو قدموں تلے رکھ سکتی ہو؟
کیا تم قربانی کا فن جانتی ہو؟
اگر تم آج خود سے سچ بول سکو تو کل تمہاری بیٹی تم پر فخر کرے گی
کیونکہ عورت ہونا صرف خوبصورتی کا نام نہیں، یہ ایک مسلسل جہد ہے اپنے نفس سے معاشرتی دباؤ سے اور دنیا کی چکاچوند سے، جب آپ سمجھ جاؤ کہ ہم کون ہیں تب دیکھنا یہ زمانہ خود سنور جائے گا، آپ عورت ہو ہاں عورت ہو لیکن کوئی معمولی عورت نہیں بلکہ آپ اسلام کی شہزادی ہو، آپکو کچھ کرنا ہے اسلام کے لیے اور میرا عزم مصمم کہتا ہے آپ آج بھی کر سکتی ہو، اللہ کریم میرے منصوبوں کو پائے تکمیل تک پہنچائے اور میری بہنوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*