جب فقر و فاقہ کی تیز آندھیاں زندگی کے چراغ کو مدھم کرنے لگیں، جب دستِ تقدیر کی سختیوں نے دل کے آنگن کو ویران کر دیا، اور جب نانِ شبینہ کا حصول بھی ایک کٹھن مرحلہ بن جائے، تو ایک حساس باپ کے دل میں اضطراب کی ایک خاموش لہر جنم لیتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب وہ اپنی بے بسی کو تقدیر کے سپرد کرتے ہوئے اپنے جگر کے ٹکڑوں کے لیے ایک بہتر مستقبل کی جستجو میں نکل کھڑا ہوتا ہے۔
اسی کشمکشِ حیات میں ایک مفلس مگر باوقار باپ نے یہ فیصلہ کیا کہ اپنے معصوم بچوں کو کسی ایسے گلستانِ علم میں داخل کرے جہاں نہ صرف علمِ دین کی روشنی میسر ہو بلکہ رزقِ حلال کی ایک معقول صورت بھی فراہم ہو۔ چنانچہ اس نے اپنے بچوں کو ایک دینی مدرسہ میں داخل کرا دیا—وہاں جہاں قرآنِ حکیم کی تلاوت کی دلنشین صدائیں فضا میں گونجتی ہیں، جہاں اساتذہ کی شفقت آمیز نگاہیں طلبہ کے قلوب کو منور کرتی ہیں، اور جہاں فاقہ کشی کی جگہ تین وقت کا سادہ مگر بابرکت کھانا نصیب ہوتا ہے۔
یہ فیصلہ بظاہر مجبوری کا مظہر تھا، مگر درحقیقت اس میں حکمت کا ایک روشن پہلو بھی پوشیدہ تھا۔ مدرسہ کی پرنور فضا میں بچے نہ صرف قرآنِ مجید کی تعلیم حاصل کرتے ہیں بلکہ اخلاق، صبر، قناعت اور اخلاص جیسے اوصافِ حمیدہ سے بھی آراستہ ہوتے ہیں۔ وہاں کی زندگی اگرچہ سادہ ہوتی ہے، مگر اس سادگی میں ایک روحانی سرور اور قلبی سکون پنہاں ہوتا ہے جو دنیاوی آسائشوں میں کم ہی نصیب ہوتا ہے۔
یہی بچے جو کبھی غربت کی چکی میں پس رہے تھے، اب علمِ نبویؐ کے امین بننے کی راہ پر گامزن ہیں۔ ان کی زبانوں پر آیاتِ قرآنی کا ورد، ان کے دلوں میں نورِ ایمان کی روشنی، اور ان کے چہروں پر اطمینان کی ایک خاموش جھلک نظر آتی ہے۔ گویا فقر نے انہیں مایوسی کی تاریکی میں نہیں دھکیلا بلکہ ایک ایسے درِ علم پر لا کھڑا کیا جہاں سے ہدایت کے چشمے پھوٹتے ہیں۔
پس، اگرچہ اس فیصلے کی بنیاد تنگدستی تھی، مگر اس کے نتائج میں ایک عجب خیر و برکت کا پہلو نمایاں ہے۔ یہ گویا فقر سے فیض تک کا سفر ہے—جہاں محرومی نے رہنمائی کا راستہ دکھایا، اور جہاں ایک مجبور باپ کا قدم اپنے بچوں کے لیے باعثِ نجات بن گیا۔
محمد مصعب پالنپوری