اپریل فول — ایک لمحے کی ہنسی، یا اللہ کی ناراضگی؟
یکم اپریل آتا ہے
فضا میں ایک عجیب سی ہلچل ہونے لگتی ہے،
لوگ مسکرانے لگتے ہیں،
چہرے خوشی سے کھل اٹھتے ہیں…
مگر یہ خوشی سچ کی بنیاد پر نہیں،
بلکہ جھوٹ کے سہارے کھڑی ہوتی ہے۔
کوئی کسی کو ڈرا دیتا ہے،
کوئی کسی کو رُلا دیتا ہے،
کوئی کسی کے جذبات سے کھیل جاتا ہے…
اور پھر ہنستے ہوئے کہتا ہے:
“ارے! اپریل فول تھا
مگر سوال یہ ہے—
کیا واقعی یہ صرف ایک مذاق ہے؟
یا یہ ہمارے دلوں کی سختی کا ثبوت ہے؟
ذرا رک کر سوچو…
اگر کوئی تمہیں یہ خبر دے دے
کہ تمہارا کوئی اپنا اب اس دنیا میں نہیں رہا،
تو اس لمحے تم پر کیا گزرے گی؟
تمہارا دل کیسے کانپ اٹھے گا؟
تمہاری آنکھیں کیسے نم ہو جائیں گی؟
اور پھر اچانک کوئی کہہ دے:
“مزاق تھا… اپریل فول!”
کیا وہ ہنسی تمہیں اچھی لگے گی؟
کیا تمہارے دل پر لگا وہ زخم فوراً بھر جائے گا؟
نہیں… ہرگز نہیں۔
کیونکہ کچھ مذاق ایسے ہوتے ہیں
جو صرف لمحوں کے نہیں ہوتے،
وہ دل کے اندر اتر جاتے ہیں،
اور دیر تک تکلیف دیتے رہتے ہیں۔
اسلام ہمیں صرف عبادت کا نہیں،
بلکہ انسانیت کا بھی درس دیتا ہے۔
نبی ﷺ کی تعلیم ہمیں یاد دلاتی ہے
کہ سچا مسلمان وہ ہے
جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے محفوظ رہیں۔
تو پھر ہم کیوں ایک دن کے نام پر
اپنی زبان کو جھوٹ سے آلودہ کرتے ہیں؟
کیوں ہم کسی کے دل کو دکھا کر
اپنی ہنسی تلاش کرتے ہیں؟
کیا وقتی قہقہے
ہمیں اس بوجھ سے آزاد کر سکتے ہیں
جو کسی کے ٹوٹے دل کی بددعا بن کر اٹھتا ہے؟
یاد رکھو
ہر وہ ہنسی جو کسی کے آنسوؤں پر کھڑی ہو،
وہ ہنسی نہیں، ایک گناہ ہے۔
ہر وہ مذاق جس میں جھوٹ شامل ہو،
وہ مذاق نہیں، ایک گناہ ہے۔
اور ہر وہ لمحہ جس میں ہم کسی کو تکلیف دیں،
وہ لمحہ ہماری کامیابی نہیں،
بلکہ ہماری ہار ہے۔
یہ دنیا چند دنوں کی ہے،
مگر ہمارے الفاظ اور ہمارے اعمال
ہمیشہ کے لیے لکھے جا رہے ہیں۔
آج جو ہم ہنسی سمجھ رہے ہیں،
کل وہی ہمارے لیے جواب دہی کا سبب بن سکتی ہے۔
اصل خوشی قہقہوں میں نہیں،
بلکہ سکونِ دل میں ہے
نا ہی آپ کسی کو اپریل فول بنائیں
اور اگر آپ کے ساتھ کوئی ایسا گھٹیا مزاق کرے تو انہیں بھی کرارا جواب دے۔۔۔۔۔۔
عائشہ ❤