ایک عالم کن کن چیزوں سے گزرتا ہے
پھر جا کر وہ معاشرے میں مقام حاصل کرتا ہے
اسی پر ایک مختصر طور پر چند سطور پیش خدمت ہیں
میں ایک انا پسند شخص تھا
میں کسی شخص کی بات
کو بالکل بھی برداشت نہیں کرتا تھا
مگر جب میں عالم بنا
جب میں مسجد میں امام بنا
میں نے اپنی پسند ناپسند کو
ختم کر دیا
میں نے
لوگوں کے طعنے
جملے
بے تکی باتیں
غرض یہ ہے کہ ہر شخص کا گھٹیا پن
جو ہے وہ کر سکتا تھا
اور حقیر پن جتنا وہ کر سکتا تھا
برداشت کیا
کیونکہ
میں ایک عالم
میں ایک امام مسجد تھا
میں نے لوگوں کے طعنے برداشت کئیے
میں زمانے میں خوشبو بکھیرنا چاہتا تھا
میں قران و حدیث کی باتیں بتانا چاہتا
میں حق کو حق باطل کو باطل بتانا چاہتا تھا
قصور صرف یہ تھا
کہ میں اہل قران میں سے تھا
میں انبیاء کے وارثین میں سے تھا
میں کفر کی انکھوں میں کھٹکتا تھا
میں بے دین لوگوں کو راہ راست پر لانا چاہتا تھا
میں اسلام کی شان و شوکت اور غلبے کو چاہتا تھا
میرا دل غلبہ اسلام کے لیے ہر وقت بے تاب رہتا ہے
کسی نے مجھے دیوانہ سمجھا
کسی نے مجھے مجنوں سمجھا
غرض یہ کہ میں امت کی بھلائی چاہتا
میں چاہتا تھا کہ میرے نبی کا کوئی امتی جہنم میں نہ جائے
میں چاہتا تھا کہ مسلمان کسی کافر کے ہاتھ ذلیل نہ ہو
میری اس بے تابی کو
میری دیوانگی کو
جنون کو
لوگوں نے حقیر سمجھا
خیر
میں دنیا گزار چکا تھا
اگرچہ میری عزت میں اضافہ ہو چکا تھا
میں اپنے محلے کے بچوں کو استاد بن چکا تھا
کے شہر میں میری عزت تھی
مگر جوانی میں
جو لوگوں نے
مجھے زخم دیے
مجھے بے جا تنگ کیا
میں اس کو نہیں بھول سکا
مگر اس کے باوجود بھی اللہ کی رضا کے لیے
سب کو معاف کر دیا
اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے
ہر دکھ سہا
ہر درد سہا
اپنوں کے طعنے
غیروں کے جملے
مگر میں چاہتا ہوں کہ اب میری انے والی نسل کسی عالم دین کو حقیر نہ سمجھے مجبور نہ سمجھیں لاچار نہ سمجھے لاوارث نہ سمجھے
اس کی عزت کریں تکریم کرے اسے ذلیل نہ کرے اس کی بات کو سمجھیں اس کی بات کو مانیں کاش کہ ایسا ہو جائے کاش
کوئی عالم اپ سے ناجائز مطالبہ نہیں کرے گا
وہ اپ کو حق بات بتائے گا
وہ اپ کو رسول اللہ کا راستہ بتائے گا
انشاءاللہ
بقلم
طوفان احمری