بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اسلام علیکم
اب ہم کچھ ھدایت ہمارے نبی ﷺ کے ذمانے سے بھی لیتے ہیں۔
*اسلام اقدامی دین ہے دفاعی نہیں*
. . . . . مکہ میں بھلے ہی مسلمان کم تعداد میں تھے کمزور تھے لیکن اس وقت جو مدا زیر بحث تھا یا آج کے زمانے کے اعتبار سے یوں کہیں جس اسیو ، مسئلے پر چرچے ہو رہے تھے وہ مسلمانوں کا کھڑا کیا ہوا مداتھا ۔وہ مدا یا مسئلہ کہیے یہ تھا کہ "اللّه کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جو سب سے زیادہ طاقت والا ہے _نفع نقصان کا مالک ہے اوراسکے سوا جن کی عبادت کی جاتی ہے وہ نا نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان ،اللّه نے زمین اور آسمان کے بیچ جو ہے اسے چھ دن میں پیدا کیا اور مورتیاں مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتی ۔تو یہ جو اللّه کی بڑائی اور باطل معبودوں کی کمزوریاں کا بیان کرنا ہی مکہ میں زیر بحث تھا ۔مشرک یعنی غیرمسلم اس سلسلے میں اپنا دفاع ہی کرتے تھے اوراپنے معبودوں کا ۔ مسلمانوں کی طرف سے ہی اقدام کیا جاتا یعنی اسلام کی دعوت دی جاتی انہیں شرک کرنے سے روکا جاتا .
. . . . . . . جب کے ہمارا ہندوستان میں آج یہ حال ہے کہ غیر مسلموں کی طرف سے اسلام پر مسلمانوں پر حملہ یعنی اقدامی کاروائی ہوتی ہے ۔اور ہم دفع کرتے ہیں کہ اسلام صحیح ہے یا ہم مسلمان بے قصور ہیں یا ہم دیس پریمی ہیں وغیرہ ۔جیسے بابری مسجد کا مسئلہ گائے کا مسئلہ، گھر واپسی ، تین طلاق،انتک واد ، یوگاسن ،وندےماترم ،ازان ،،CAA وغیرہ اور عورتوں کا نقاب، تاریخی مسجدوں کو مندر کہنا اور یو سی سی جیسےUCC قانون کو نافذ کرنا ۔یہ سارے حملے ہم پر ہوئے اور ہم مہز اپنا بچاؤ کرکے رہ گئے۔ اور ہار گئے۔ ہم ہر بار اپنا مسئلہ عدالت میں لے جاتے ہیں اور من کی کھاتے ہیں ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب ہم جب توحید کی اواز بلند کریں گے ،اور حاکموں کو اسلام کی طرف بلائیں گے تو خود بخود یہ مدا دوسرے وہ سارے اسیو یا مدوں کو اس اثدھےکی طرح کھا جائے گا جس طرح موسی علیہ السلام کا ڈالا ہوا اسا جادوگروں کی رسیوں اور لاٹھیوں کو نگل گیا تھا ۔اور توحید کا مقابلا شرک سے ہوگا جس میں
توحیدوالوں کی فتح یقینی ہے۔
محمد عرفان