نحمده ونصلي على رسوله الكريم
تصوف کیا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے
رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب لدھیانوی نے حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب کاندھلوی سے سوال کیا کہ تصوف کیا بلا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے حضرت شیخ الحدیث نے جواب دیا صرف تصحیح نیت اور اس کے سوا کچھ نہیں جس کی ابتدا انما الاعمال بالنيات سے ہوتی ہے اور انتہا أن تعبد الله كانك تراه ہے میرے اس جواب پر سکتہ میں پڑگئے اور کہنے لگے دہلی سے تو یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر یہ جواب دیں گے تو یہ اعتراض کروں گا اور یہ جواب دیں گے تو یہ اعتراض کروں گا تو جوابا حضرت شیخ الحدیث نے کہا تمہیں دو دن کا وقت ہے تم اعتراض تیار کرلو تو حضرت رئیس الاحرار نے دوسرے دن کہا مجھے کوئی اعتراض نہیں ملا اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ مجھے تم سے کل تک نہ عقیدت تھی اور نہ ہی محبت اور جب سے آپ نے جواب دیا ہے اتنی محبت ہوگئی جس کی کوئی انتہا نہیں ہے
خلاصہ گویا انما الاعمال بالنيات سارے تصوف کی ابتدا ہے یعنی بندہ ہر کام تصحیح نیت کے ساتھ کرےاور أن تعبد الله كانك تراه سارے تصوف کی انتہا ہے یعنی بندہ اللہ تعالیٰ کوپالےاور یہی تصوف کی حقیقت اور تصوف کا نچوڑ ہے
جگ میں آکر ادھر ادھر دیکھا
توہی آیا نظر جدھر دیکھا