علماء کے طویل بیانات میں سے چند سیکنڈز کا متنازع حصہ کاٹ کر وائرل کرنا ایک فتنہ بن چکا ہے۔ اس سے بیان کا اصل سیاق و سباق  ختم ہو جاتا ہے اور عالمِ دین کی شخصیت مسخ ہو کر سامنے آتی ہے۔


 عالم کی گھنٹوں طویل تقریر سے چند سیکنڈز کا متنازع حصہ نکال کر اسے وائرل کر دیا جاتا ہے۔ بغیر سیاق و سباق دیکھے، عام صارف اسے گالی گلوچ اور تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیتا ہے۔
 آج کل کس بھی بات کی تحقیق کیے بغیر اسے وائرل کر دیا جاتا ہے۔ نام نہاد دانشور اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لیے علماء کی تقاریر کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہیں۔