[نیا مذہب بنام عقیدہ ابراہیمی ایک فکری فتنہ]
دنیا میں آج ہزاروں مذاہب، عقائد اور فرقے پائے جاتے ہیں جن کی گنتی بھی مشکل ہے۔ ہر مذہب کا ماننے والا اپنے مذہب کو سچا، کامل اور برتر سمجھتا ہے، اور اسی عقیدے کو بنیاد بنا کر اکثر لوگ کسی بھی حد کو پار کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں چاہے وہ انسانی جانوں کا ضیاع ہو، عالمی امن کی تباہی ہو، بچوں کو یتیم اور خواتین کو بیوہ کرنے جیسا عمل ہو، یا بوڑھے والدین کا سکون چھین لینا ہو...
لیکن اسلام، جو کہ اللہ کا نازل کردہ دین ہے، اس کی مقدس کتاب قرآن مجید صریح الفاظ میں اعلان کرتی ہے:
وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ
ترجمہ: اور کسی جان کو ناحق قتل نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے، مگر حق کے ساتھ...
یہ حکم صرف مسلمانوں کے لیے نہیں، بلکہ پوری انسانیت کی حفاظت کا پیغام ہے۔ قرآن کریم بارہا قتل و فساد، ظلم و زیادتی، اور فتنہ انگیزی سے روکتا ہے, اسلام کا اصول ہے کہ انسانیت کی جان بچانا گویا پوری انسانیت کو بچانا ہے...
عقیدہ ابراہیمی کیا ہے؟
اب ہم آتے ہیں ایک نئی سازش کی طرف، جسے ابراہیمی عقیدہ (Abrahamic Faith Initiative) کے نام سے متعارف کرایا جا رہا ہے, اس منصوبے کی بنیاد گزشتہ چند برسوں میں عالمی سطح پر ڈالی گئی، خاص طور پر جب سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور دیگر مسلم ممالک کا دورہ کیا...
بظاہر یہ یکجہتی نظر آ رہی ہے، لیکن درحقیقت اس کا مقصد اسلام کو دیگر ادیان کے برابر لا کر ایک مشترکہ نیا دین تشکیل دینا تھا، تاکہ مسلمان، عیسائی اور یہودی ایک ہی عقیدے کو ماننے لگیں اور اس نئے مذہب کو عقیدہ ابراہیمی کا نام دیا گیا...
اس منصوبے کی بنیاد کیسے رکھی گئی؟
ڈونالڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات میں یہ تجویز رکھی کہ چونکہ مسلمان حضرت محمد ﷺ کو مانتے ہیں، عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو، اور یہودی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ، اور یہ تمام انبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہیں تو کیوں نہ ایک ایسا عقیدہ بنایا جائے جو ابراہیمی مذاہب کے ماننے والوں کو یکجا کر دے؟
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام دونوں حضرت ابراہیمؑ کے بیٹے ہیں، اس نسبت سے مسلمان، عیسائی اور یہودی ابراہیمی بھائی کہلائے جا سکتے ہیں...
اسلئے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسماعیل سے ہیں...
اور حضرت موسی و عیسی علیہما السلام بنی اسرائیل(حضرت داؤد علیہ السلام )سے ہیں تو دونوں کو ملا دیا جائے اور ایک دین ابراہیمی بنا لیا جائے...
ظاہری طور پر یہ منصوبہ امن و بھائی چارے کی بات کرتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ مسلمانوں کے ایمان، ختم نبوت، اور اسلام کی انفرادیت پر حملہ ہے...
الحمد للہ ثم الحمد لله : محمد بن سلمان نے اس تجویز سے صاف انکار کیا، نہ صرف سعودی عرب، بلکہ بیشتر مسلم ممالک نے اس منصوبے کو رد کر دیا، کیونکہ یہ دینِ اسلام کے بنیادی عقائد سے متصادم ہے...
لیکن افسوس: متحدہ عرب امارات (دبئی و ابوظہبی) جیسے چند ممالک نے اس منصوبے کی تائید کی، اور عملی اقدام کے طور پر 2020 میں ابوظہبی میں ابراہیمی فیملی ہاؤس(Abrahamic Family House) کے نام سے ایک عمارت کا افتتاح کیا، جس میں مسجد، چرچ اور یہودی عبادت گاہ کو ایک ہی جگہ بنایا گیا تاکہ تینوں مذاہب کے ماننے والے ایک جگہ عبادت کریں...
یہی نہیں بلکہ با قاعدہ UAE میں ابراہیمی کیمپ بھی بنایا گیا ہے
یہ کیمپ جسے مختصر طور پر AFI کہا جاتا ہے، امریکہ میں بھی سرگرم ہے، خاص طور پر UAI (United Abrahamic Initiative) جیسے پلیٹ فارموں پر، جہاں انٹر فیتھ ڈائیلاگ کے نام پر عقائد کو یکساں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے...
یہ منصوبے اسلامی تعلیمات کے برعکس ہیں, مسلمان اللہ پر، اس کے رسولوں پر، کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن اسلام ہی کو مکمل دین مانتے ہیں...
إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ
ترجمہ: بے شک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے...
در اصل یہ نیا ابراہیمی عقیدہ ایک باطنی فتنہ ہے جس کا مقصد دین اسلام کو دیگر مذاہب کے ساتھ گڈ مڈ کرنا، مسلمانوں کے عقائد کو کمزور کرنا، اور امت مسلمہ کو فکری طور پر مفلوج کرنا ہے...
یہ منصوبہ رفتہ رفتہ مسلمانوں کے تعلیمی اداروں، میڈیا، ثقافت اور حتیٰ کہ دینی رہنماؤں کو بھی متاثر کر رہا ہے، کچھ روشن خیال مسلمان اس فریب میں آ چکے ہیں، اللہ مسلمانوں کی اس فتنے سے حفاظت فرمائے آمین...
بطور مسلمان ہمارا موقف:
ہم بحیثیت مسلمان، اہل سنت و الجماعت، مسلک حنفی، واضح طور پر اس عقیدے اور اس کی ادنیٰ رمق کی بھی شدید مخالفت کرتے ہیں، اسلام کی انفرادیت، اس کی آخری نبی ﷺ کی ختم نبوت، اور قرآن کی جامعیت پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں......اللهم أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعه، وأرنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه...آمین یارب العالمین بجاہ النبی الکریم۔
✍️ متعلم الجامعۃ الاشرفیہ ✍️