آج کے دور میں سوشل میڈیا اور پرسنل رابطوں کے ذریعے دین کے نام پر مختلف قسم کے فتنوں کا پھیلاؤ تیزی سے ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں ہر مسلمان، خاص طور پر اہلِ سنت کو چاہیے کہ وہ صرف جذباتی نہ ہو بلکہ سمجھداری، بصیرت اور دینی شعور کے ساتھ معاملات کو دیکھے۔ کیونکہ ہر وہ شخص جو دین کی بات کرے یا سوال کرے، ضروری نہیں کہ وہ خیرخواہ اور مخلص ہی ہو۔ اس لیے ابتدا ہی سے ایک محتاط رویہ اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آج کل ایک خاص طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے جس میں بعض لوگ خود کو سنی ظاہر کرکے دوسروں سے رابطہ کرتے ہیں۔ وہ پرسنل میسج میں نہایت ادب، عاجزی اور نرمی کے ساتھ گفتگو کا آغاز کرتے ہیں تاکہ سامنے والے کا اعتماد حاصل کر سکیں۔ بظاہر ان کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ جیسے وہ واقعی دین کو سمجھنا چاہتے ہیں اور رہنمائی کے طلبگار ہیں، مگر حقیقت میں ان کے ارادے مختلف ہو سکتے ہیں۔
گفتگو کے آغاز میں یہ لوگ عام طور پر سادہ اور معصوم سوالات کرتے ہیں، جیسے کہ وہ کسی مسئلے میں کنفیوژن کا شکار ہیں اور آپ سے مدد چاہتے ہیں۔ لیکن جیسے جیسے بات آگے بڑھتی ہے، وہ آہستہ آہستہ ایسے نکات اٹھانا شروع کرتے ہیں جن میں تاویلات، احتمالات اور شکوک شامل ہوتے ہیں۔ ان کے سوالات کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ اہلِ سنت کے اکابرین کے بارے میں شبہات پیدا ہوں اور عقیدے میں کمزوری آنے لگے۔
یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ ہر سوال کرنے والا مخلص نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ صرف اس نیت سے سوال کرتے ہیں کہ وہ سامنے والے کے دل میں شک ڈال سکیں۔ اس لیے ضروری نہیں کہ ہر میسج کا جواب دیا جائے یا ہر بحث میں حصہ لیا جائے۔ دین کے معاملے میں احتیاط کرنا ہی دانشمندی ہے۔
بعض اوقات ایسے لوگ بظاہر بہت اچھے اور مخلص نظر آتے ہیں، لیکن اندر سے ان کے مقاصد مختلف ہوتے ہیں۔ وہ سنی بن کر سنیوں کے درمیان آتے ہیں تاکہ آسانی سے ان کا اعتماد حاصل کر سکیں، اور پھر موقع ملنے پر ان کے عقائد پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل انتہائی خطرناک ہے اور اس سے بچنا بہت ضروری ہے۔
اہلِ سنت کے ماننے والوں کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اپنے عقائد کو مضبوط کریں اور مستند علما اور اکابرین سے جڑے رہیں۔ ہر شخص کے ساتھ بحث و مباحثہ میں پڑنا ضروری نہیں، بلکہ بعض اوقات خاموشی اور دوری اختیار کرنا ہی بہتر ہوتا ہے، خاص طور پر جب کسی کی نیت مشکوک محسوس ہو۔
آخر میں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ ایمان انسان کی سب سے قیمتی دولت ہے۔ اس کی حفاظت ہر مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس لیے کسی بھی شخص پر فوراً اعتماد کرنے کے بجائے اس کی نیت اور انداز کو پرکھنا ضروری ہے، تاکہ ہم اپنے ایمان کو ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رکھ سکیں۔
 اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح سمجھ عطا فرمائے، اپنے دین پر ثابت قدم رکھے اور ہر قسم کے ظاہر و باطن کے فتنوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔

تحریر: محمد فداء المصطفٰی قادری 
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کیرلا